ہر پانچ میں ایک امریکی شہری کو بھوت کیوں دکھائی دیتے ہیں؟

ہر پانچ امریکی شہریوں میں سے تقریباً ایک کا کہنا ہے کہ اس نے بھوت دیکھا۔ میں ان شہریوں میں شامل نہیں اور میں غالباً کبھی ہوں گی بھی نہیں۔ میں اس کا الزام اپنے دماغ کو الزام دیتی ہوں۔

میں وضاحت کرتی ہوں۔ کوئی بھی حتمی طور پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ بھوتوں کا وجود ہے، لیکن بہت سے لوگ مانتے ہیں کہ بھوت ہوتے ہیں۔ تقریباً تین چوتھائی امریکی کسی نہ کسی قسم کی مافوق الفطرت سرگرمیوں پر یقین رکھتے ہیں۔ ان میں صرف بھوت ہی نہیں، بلکہ روحانی صلاحیتیں، مستقبل کا حال بتانے والے خواب، روحوں سے رابطہ کروانے والے افراد اور ایسی ہر وہ چیز شامل ہے جس کی کوئی عام اور روایتی تشریح نہیں کی جا سکتی۔

نفسیات کا پروفیسر ہونے کی وجہ سے میں اکثر اس بات پر غور کرتی ہوں کہ لوگ اپنے تجربات سے معنی اخذ کرتے وقت کس طرح اپنی ذاتی سوچ کا استعمال کرتے ہیں۔ پھر میں سوچتی ہوں کہ کیا بظاہر غیر معمولی لگنے والے تجربات کی بالکل عام سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ روزمرہ کے مختلف عوامل ایک ساتھ مل کر کسی مافوق الفطرت تجربے کا احساس پیدا کرنے کا باعث بنتے ہوں۔

میں نے اپنی نئی کتاب ’سائنس آف دی سپر نیچرل‘ میں اس نظریے پر بات کی ہے کہ انسانی دماغ بیرونی دنیا کو سمجھنے میں غلطی کر کے مافوق الفطرت چیزوں کا تجربہ خود سے تخلیق کر لیتا ہے۔ یہاں وہ تین عوامل بیان کیے گئے ہیں جو آپ کے دماغ کو دھوکہ دے کر ایک نقلی بھوت تخلیق کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔

بھوتوں سے جڑا پہلا عنصر۔ ماحولیاتی محرکات

جس کسی نے بھی کبھی بھوتوں کی کھوج کا کوئی شو دیکھا ہے، اس نے غیر معمولی سرگرمیوں کے محقق کو مبینہ مافوق الفطرت سرگرمی کے دوران کچھ یوں بڑبڑاتے ضرور سنا ہوگا کہ ’ای ایم ایف بے قابو ہو رہا ہے۔‘ الیکٹرو میگنیٹک فیلڈز یعنی ’ای ایم ایف‘ برقی چارج والے ذرات سے پیدا ہونے والے توانائی کے نہ نظر آنے والے دائرے ہیں۔

فی الحال، اس بات کا کوئی براہ راست ثبوت نہیں ہے کہ انسان شعوری طور پر ای ایم ایف کو بالکل اسی طرح محسوس کر سکتے ہیں، جس طرح ہم اپنے ماحول میں موجود چیزوں کو چھو، دیکھ یا سن سکتے ہیں، لیکن کسی مقامی ہارڈ ویئر سٹور سے خریدی گئی ہاتھ میں پکڑی جانے والی مشین کی مدد سے، آپ انہیں کہیں بھی ناپ سکتے ہیں۔

 ای ایم ایف ڈیٹیکٹر کسی بھی برقی یا مقناطیسی سرگرمی کو پکڑ لیتا ہے، چاہے وہ انسان کی پیدا کردہ ہو یا کسی دوسری دنیا کی، لیکن کیا ای ایم ایف کے اتار چڑھاؤ کا مافوق الفطرت سرگرمیوں سے کوئی تعلق ہے؟

سائنسی طریقہ کار اس سوال کا جواب دینے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ سکاٹ لینڈ کے شہر ایڈنبرا کے نیچے واقع ساؤتھ سٹریٹ والٹس میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق، ان جگہوں پر ای ایم ایف میں زیادہ اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جہاں بھوتوں کے واقعات کی تاریخ موجود تھی۔

ایک اور تحقیق سے پتہ چلا کہ انگلینڈ کے ہیمپٹن کورٹ پیلس کے ان حصوں میں ای ایم ایف کے اندر زیادہ نمایاں تبدیلیاں پائی گئیں جنہیں زیادہ ’بھوتوں والا‘ سمجھا جاتا ہے۔

ہو سکتا ہے کہ لوگ نادانستہ طور پر ماحولیاتی محرکات، جیسے برقی مقناطیسی میدانوں میں ہونے والی تبدیلیوں کو محسوس کر رہے ہوں۔ تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے: کیا بھوت کی وجہ سے ای ایم ایف میں تبدیلی آئی، یا ای ایم ایف کی وجہ سے بھوت کا احساس پیدا ہوا؟

آج تک، صرف ایک تحقیقی گروپ نے تجرباتی طور پر ماحولیاتی عوامل، بشمول پیچیدہ ای ایم ایف، میں ردوبدل کرنے اور اس کے نتیجے میں مافوق الفطرت چیزوں کے احساس کو جانچنے کی کوشش کی ہے۔

تحقیق میں شامل افراد نے واقعی کئی عجیب و غریب چیزیں رپورٹ کیں، جن میں چکر آنے سے لے کر خود کو اپنے جسم سے الگ محسوس کرنا اور یہاں تک کہ کسی کی موجودگی کا احساس تک شامل تھا، لیکن یہ تجربات ان ماحولیاتی حالات سے مطابقت نہیں رکھتے تھے، جنہیں محققین نے تبدیل کیا تھا، جیسے کہ ای ایم ایف کی شدت۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے غیر معمولی تجربات بیان کیے، وہ وہی لوگ تھے جو مافوق الفطرت چیزوں پر زیادہ پختہ یقین رکھتے تھے۔

کیا ای ایم ایف جیسے ماحولیاتی عوامل مافوق الفطرت چیزوں کے احساس کا باعث بنتے ہیں؟ ایک طرف، مبینہ طور پر بھوتوں کی موجودگی والی جگہوں اور ای ایم ایف کی تبدیلیوں کے درمیان ایک تعلق موجود ہے اور کچھ ایسے اشارے بھی ملتے ہیں کہ انسان مقناطیسی اثرات کو محسوس کر سکتے ہیں۔

دوسری طرف تجربہ گاہ کے ماحول میں ای ایم ایف میں کی جانے والی تجرباتی تبدیلیوں کا عجیب و غریب احساسات سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا۔

میرا خیال ہے کہ ہمیں بھوتوں سے جڑے دیگر عوامل پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔

بھوتوں سے جڑا دوسرا عنصر۔ اعصابی مسائل

سر کے ایک حصے پر ہلکا سا برقی کرنٹ لگا کر، جو عام طور پر کسی طبی طریقہ کار کے لیے مریض کا معائنہ کرنے کی غرض سے کیا جاتا ہے، محققین نے کچھ عجیب و غریب اثرات کا مشاہدہ کیا ہے۔ ایک کیس سٹڈی میں ایک ایسے مریض کا احوال بیان کیا گیا جس نے ایک ’خیالی سائے‘ کو محسوس کیا، جو اس کی حرکات کی نقل کر رہا تھا اور یہاں تک کہ ان میں مداخلت بھی کر رہا تھا۔ دیگر لوگوں نے جسم سے باہر نکلنے کے تجربات رپورٹ کیے ہیں۔

تجرباتی شواہد بتاتے ہیں کہ دماغ کا یہ حصہ، جسے ٹیمپوروپیریٹل جنکشن کہتے ہیں، شاید جسم میں ہونے کے احساس کے لیے انتہائی اہم ہے یعنی یہ احساس کہ آپ اپنے جسم کے اندر موجود ہیں۔ دماغ کے اس حصے میں خلل ڈالنے سے بظاہر جسم سے الگ ہونے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

ماہرینِ اعصابیات کو پوری طرح یقین نہیں ہے کہ دماغ میں جسم کے اندر ہونے کا احساس کیسے بنتا ہے۔ دماغ ممکنہ طور پر جسمانی حسیات، جیسے توازن اور پوزیشن کو دیگر اندرونی عوامل، جیسے اپنی ذات اور خود مختاری کے احساس کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔ جب اس جوڑ میں کوئی تبدیلی آتی ہے، تو انسان بہت عجیب و غریب احساسات سے گزرتا ہے۔

بعض اوقات، نیند کے دوران جسم سے ملنے والی حسیات کو سمجھنے میں غلطی ہو سکتی ہے، جب آپ کا دماغ بیرونی دنیا سے رابطہ کاٹ لیتا ہے۔ ریپڈ آئی موومنٹ یا ’آر ای ایم‘ نیند کے دوران، جب سب سے واضح خواب آتے ہیں، تو دماغ ایسے پیغامات بھیجتا ہے جو ڈھانچے کے پٹھوں کی حرکت کو روک دیتے ہیں۔ یہ رکاوٹ آر ای ایم نیند کے دوران مکمل فالج کا باعث بنتی ہے۔ یہ ایک اعصابی تحفظ ہے، اس کے بغیر اس بات کا قوی امکان ہے کہ آپ اپنے خوابوں پر عملی طور پر حرکت کرنے لگیں۔

تاہم، کچھ لوگ آر ای ایم نیند کے دوران جاگ جاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ وہ حرکت نہیں کر سکتے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اسی دوران شدید قسم کے فریب نظر کا تجربہ بھی کریں، جو ان کے خواب کی باقیات ہوتے ہیں۔

 یہ تجربہ جلد ہی گزر جاتا ہے۔ لیکن نیند کے فالج کے اس لمحے میں، ڈھانچے کے پٹھوں کی حرکت کو کنٹرول کرنے والے اعصابی سگنل رک جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں جسم سے دماغ کو ملنے والی معلومات میں ہم آہنگی نہیں رہتی۔ زیادہ تر لوگ غائب حسی معلومات پر خوف کے ساتھ ردعمل ظاہر کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے لیے اپنے خوابوں کے مناظر اور آوازوں کو حقیقت کے طور پر محسوس کرنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

بھوتوں سے جڑا تیسرا عنصر۔ شخصی خصلتیں

کسی مافوق الفطرت واقعے سے گزرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے تجربے کو اسی نام سے پکارے۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی یقین رکھنے والا شخص تبدیل ہوتے ہوئے ای ایم ایف کی زد میں آ جائے، تو وہ اس عجیب احساس کو فوراً مافوق الفطرت قرار دے سکتا ہے۔

ایک شکی مزاج شخص یہ تو مان سکتا ہے کہ اسے کچھ عجیب یا مختلف محسوس ہوا، لیکن شاید وہ اس کی مافوق الفطرت تشریح کی طرف نہ جائے۔

تحقیق کا ایک بڑھتا ہوا سلسلہ یہ بتاتا ہے کہ خاص شخصی خصلتوں والے لوگوں میں مافوق الفطرت چیزوں پر یقین کرنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر، کچھ لوگ لاشعوری احساسات اور خیالات کے بارے میں حد سے زیادہ باخبر ہوتے ہیں، جو پھر ان کے شعور میں سرایت کر جاتے ہیں۔ اکثر، یہ خصلتیں جادوئی سوچ، بگڑے ہوئے یا غیر معمولی خیالات، بے ترتیب رویے اور بعض اوقات قریبی تعلقات قائم کرنے میں دشواری سے جڑی ہوتی ہیں۔

ماہرینِ نفسیات ان خصلتوں کے مجموعے کو شیزو ٹائپی کہتے ہیں۔ ان کا تعلق شیزوفرینیا سے ہے، حالاں کہ شیزو ٹائپی کا زیادہ ہونا اس بات کی علامت نہیں ہے کہ آپ کو شیزوفرینیا کی بیماری تشخیص ہو گی۔ 

جن لوگوں میں شیزو ٹائپی کی سطح زیادہ ہوتی ہے، ان میں مافوق الفطرت چیزوں پر یقین کرنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ ان میں جسم سے الگ ہونے کے احساس اور اچانک حسیاتی تجربات سے گزرنے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے اور انہیں اپنی ذات اور دوسروں کے درمیان فرق کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہ تمام خصلتیں ٹیمپوروپیریٹل جنکشن کے افعال سے جڑی ہیں، جو دماغ کا وہ حصہ ہے جو آپ کو یہ احساس دلانے میں مدد کرتا ہے کہ آپ اپنے جسم کے اندر موجود ہیں۔

جب بھوتوں سے جڑے عوامل مل کر ایک بھوت کی شکل اختیار کر لیتے ہیں

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگرچہ میں یقین سے نہیں کہہ سکتی کہ بھوتوں کا وجود ہے یا نہیں، لیکن میں ایک معقول وضاحت پیش کر سکتی ہوں کہ کیوں کچھ لوگ دوسروں کے مقابلے میں بظاہر مافوق الفطرت تجربات کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں۔

فرض کریں ایک ایسا شخص جو مافوق الفطرت چیزوں پر یقین رکھتا ہے، وہ برقی مقناطیسی میدان میں کسی قدرتی تبدیلی یا نیند کے فالج کے کسی واقعے سے گزرتا ہے۔ یہ تجربات ایسے غیر معمولی احساسات پیدا کرتے ہیں جن کی وہ شخص وضاحت نہیں کر پاتا۔ 

اس الجھن میں معنی تلاش کرتے ہوئے، یہ شخص اندرونی اور بیرونی طور پر پیدا ہونے والے احساسات کے درمیان فرق کو ملا دیتا ہے۔ وہ اسی واحد وضاحت پر قناعت کر لیتا ہے جو اس کی سمجھ میں آتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس نے جس عجیب و غریب احساس کا تجربہ کیا وہ ایک بھوت تھا۔

میرا اندازہ ہے کہ مافوق الفطرت چیزوں پر یقین ہی وہ کڑی ہے، جو بھوتوں سے جڑے عوامل کو آپس میں ملا کر بھوت کا غلط احساس پیدا کرتی ہے۔

ایک تجربے کے دوران شرکا کو الینوائے کے شہر ڈیکیٹر میں واقع ایک بند پڑے تھیٹر سے گزرنے کا کہا گیا۔ ان میں سے کچھ کو بتایا گیا کہ اس تھیٹر میں بھوتوں کا سایہ ہے اور کچھ کو ایسا کچھ نہیں بتایا گیا۔ کئی شرکا نے عجیب و غریب احساسات محسوس کیے، جنہیں انہوں نے مافوق الفطرت سرگرمی قرار دیا، لیکن صرف انہی لوگوں نے ایسے احساسات کی شکایت کی جنہیں یہ یقین تھا کہ تھیٹر میں بھوتوں کا سایہ ہے۔

ہو سکتا ہے کہ صرف یقین بذات خود کوئی بھوت پیدا نہ کرے، لیکن یقین کا کم از کم کسی ایک ایسے عنصر کے ساتھ مل جانا، جو بھوتوں سے جڑا ہو (جیسے ماحولیاتی محرکات، اعصابی گڑبڑ یا نفسیاتی کیفیات)، بھوت کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔

یہ مرغی اور انڈے والی پہیلی بن جاتی ہے یا اس معاملے میں بھوت اور ای ایم ایف کی۔ کوئی ایسا شخص جس کا ماحولیاتی عوامل کے تئیں زیادہ حساس ہونے کا امکان ہو یا جو نیند کے فالج سے گزرتا ہو، وہ اپنے تجربات کی بنیاد پر ایک پختہ یقین قائم کر سکتا ہے۔ جب کوئی شخص ان تجربات کی کوئی ’قدرتی‘ وضاحت نہیں کر پاتا، تو پھر کوئی مافوق الفطرت تشریح ہی اسے معقول معلوم ہوتی ہے۔

میں نے کبھی ای ایم ایف کو محسوس نہیں کیا۔ میں نے کبھی نیند کے فالج کا تجربہ نہیں کیا۔ مجھے پورا یقین ہے کہ مجھ میں شیزو ٹائپی جیسی شخصی خصلتیں نہیں ہیں۔ میں مافوق الفطرت چیزوں پر یقین نہیں رکھتی اور مجھے نہیں لگتا کہ میں کبھی کوئی بھوت دیکھوں گی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *