انڈین نوجوان بلے باز ویبھو سوریاونشی تو جیسے رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے اور ان کے مدمقابل بولرز کے پاس تو جیسے ان کا جواب ہے ہی نہیں۔
کوئی کہہ رہا ہے کہ انہیں اب انڈین قوم ٹیم میں شامل کر دیا جانا چاہیے تو کوئی انہیں ’چھکے مارنے والی مشین‘ قرار دے رہا ہے۔
یہ سب تو پہلے بھی سوریاونشی کے بارے میں کہا جاتا رہا ہے مگر بدھ کی شب جو اننگز انہوں نے کھیلی اس کے بعد ان کی تعریفوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
اور ایسا ہونا بھی چاہیے کیوں کہ سوریاونشی انڈین پریمیئر لیگ کے کسی ایک سیزن میں اب تک 65 چھکے لگا چکے ہیں۔
نہ تو وہ رکتے ہیں، نہ تھمتے ہیں اور نہ ہی سوچتے ہیں بس سیدھا چھکوں کی بارش۔ اس کا اندازہ اسی بات سے لگا لیں کہ 15 سالہ ویبھو سوریاونشی شاید آئی پی ایل کی تاریخ کا بہترین سیزنز پہلے ہی کھیل چکے ہیں۔
آئی پی ایل کے رواں سیزن میں ویبھو سوریاونشی اب تک 680 رنز (سب سے زیادہ)، 242.85 کا سٹرائیک ریٹ (سب سے بہتر)، اور 65 چھکے (ایک ہی سیزن میں سب سے زیادہ) لگا چکے ہیں۔
ویبھو سوریا ونشی نے بدھ کی رات راجھستان رائلز کی جانب سے کھیلتے ہوئے سن رائزرز حیدرآباد کے خلاف ایلیمینیٹر میچ کے دوران صرف 29 گیندوں پر 97 رن سکور کیے جس میں کپتان پیٹ کمنز کے ایک ہی اوور میں لگاتار تین چھکے بھی شامل تھے۔
اس اننگز میں انہوں نے کل 12 چھکے اور پانچ چوکے لگائے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
صرف 16 گیندوں پر نصف سنچری سکور کرنے کے بعد ویبھو تیزی سے سینچری کی طرف بڑھے مگر صرف تین رنز کی دوری پر وہ آئی پی ایل کی تیز ترین سینچری سکور کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے اور ان کی مایوسی کا اندازہ ان کے پویلین کی جانب بڑھتے سست قدموں سے لگایا جا سکتا ہے۔
آئی پی ایل کی تیز ترین سینچری کا ریکارڈ کرس گیل کا ہے اور ویبھو کی یہ اننگز دیکھ کر خود کرس گیل بھی ان کی تعریف کرنے پر مجبور ہو گئے۔
ایکس پر کرس گیل نے کچھ اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’ویبھو کیا شاندار کھلاڑی ہیں۔ نوجوان نے بہترین انٹرٹینمٹ دی۔ نئی سکس مشین۔‘
ویبھو اس سے پہلے آئی پی ایل کے اپنے پہلے سیزن میں لیگ کی دوسری تیز ترین سینچری سکور کر چکے ہیں جب انہوں نے گجرات ٹائٹنز کے خلاف 35 گیندوں پر سینچری بنائی۔
انڈین پریمیئر لیگ میں دنیا کے بہترین بولرز جن میں مچل سٹارک اور پیٹ کمنز، جسپریت بمراہ شامل ہیں اس 15 سالہ نوجوان کے سامنے سب کچھ آزما چکے ہیں لیکن فی الحال ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی کے پاس بھی ان کی بلے بازی کا جواب نہیں۔
