پاکستان اور دیگر نو ممالک نے منگل کو ایک بیان میں بین الاقوامی پانیوں میں غزہ کی جانب جانے والے امدادی بیڑے ’صمود فلوٹیلا‘ کو روکنے کی اسرائیل کی تازہ کارروائی کی مذمت کی ہے اور زیر حراست کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
اس امدادی بحری بیڑے پر ایک پاکستانی امدادی کارکن سعد رضوی بھی سوار تھا۔
پاکستان، ترکی، بنگلہ دیش، برازیل، کولمبیا، انڈونیشیا، اردن، لیبیا، مالدیپ اور سپین کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان میں ان ممالک نے ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی جس کا مقصد غزہ میں انسانی بحران کی جانب توجہ دلانا ہے۔
اسرائیلی فورسز نے اتوار کو قبرص کے قریب اس بیڑے کو روکا اور درجنوں بین الاقوامی کارکنوں کو حراست میں لیا، جن میں پاکستانی کارکن سعد ایدھی بھی شامل ہیں۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ’وزرا بین الاقوامی پانیوں میں سابقہ بیڑوں کے خلاف اسرائیلی مداخلتوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور شہری جہازوں اور امدادی کارکنوں کو نشانہ بنانے والی معاندانہ کارروائیوں کے تسلسل کی مذمت کرتے ہیں۔‘
بیان میں کہا گیا کہ ’ایسے حملے، جن میں جہازوں پر حملے اور کارکنوں کی من مانی حراست شامل ہے، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف
تمام 10 ممالک نے بیڑے پر سوار رضا کاروں کی سکیورٹی پر ’تشویش‘ کا اظہار کیا اور تمام زیر حراست کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
سعد ایدھی، مرحوم پاکستانی فلاحی رہنما عبد الستار ایدھی کے پوتے اور پاکستان کے سب سے بڑے فلاحی نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔
سعد ایدھی کے والد فیصل ایدھی نے پیر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کا بیٹا اور دیگر امدادی کارکن غزہ کے لوگوں کے لیے کھانے پینے کی اشیا اور ادویات لے کر جا رہے تھے۔ ’تقریباً پانچ سو کے قریب دیگر ممالک کے افراد بھی ان کے ساتھ شامل تھے، ان سب کو اسرائیلی فورسز نے گرفتار کیا ہے۔ ہمیں ابھی بالکل نہیں پتہ کہ انہیں کہاں لے جایا گیا ہے، ان کے موبائل فون وغیرہ سب چھین لیے گئے ہیں اور ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے یہ بھی معلوم نہیں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
فیصل ایدھی نے پاکستانی وزارت خارجہ سے درخواست کی تھی کہ وہ ’اس غیر قانونی گرفتاری کے خلاف فوری ایکشن لیں، اقوام متحدہ سے رجوع کریں اور انٹرنیشنل کمیونٹی سے بھی رابطہ کریں تاکہ اسرائیلی فورسز کے اس غیر انسانی اور غیر قانونی اقدام کے خلاف آواز اٹھائی جائے۔‘
بحری بیڑے پر غزہ کے شہریوں کے لیے ادویات، خشک خوراک اور بچوں کی خوراک سمیت امدادی سامان لے جایا جا رہا تھا۔
اسرائیل نے ایسی کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ غزہ پر اپنی بحری ناکہ بندی کو نافذ کرنے کے لیے ضروری ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ تازہ کارروائی کا مقصد ’ایک بدنیتی پر مبنی منصوبے کو ناکام بنانا تھا۔‘
اکتوبر 2023 میں غزہ میں اسرائیل کی فوجی مہم کے آغاز کے بعد سے بین الاقوامی امدادی اداروں اور حقوق کی تنظیموں نے فلسطینی علاقے میں تباہ کن انسانی حالات کے بارے میں بار بار خبردار کیا ہے۔
