ٹرمپ کے فوراً بعد پوتن کا دورہ چین اہم کیوں؟

روسی صدر ولادی میر پوتن منگل کو چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے لیے بیجنگ پہنچ رہے ہیں، جہاں دونوں رہنما سکینڈے نیویا سے جنوب مشرقی ایشیا تک پھیلی سٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر غور کریں گے۔

دونوں جوہری طاقتوں کے تعلقات کی بنیاد چین کی مضبوط معیشت اور روس کی وسیع تیل پیداوار پر قائم ہے، جو اس ہفتے ہونے والی بات چیت کا اہم محور ہونے کا امکان ہے۔

ملاقات سے قبل اہم نکات:

مضبوط دوستی، بار بار ملاقاتیں

پوتن چین کے باقاعدہ دورہ کرنے والے رہنماؤں میں شامل ہیں اور وہ شی جن پنگ سے درجنوں بار ملاقات کر چکے ہیں۔ دونوں رہنما اکثر ایک دوسرے کو پیغامات، تعزیتی پیغامات اور مبارکباد بھیجتے رہتے ہیں، جن میں سالگرہ کی مبارکباد بھی شامل ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے مطابق یہ پوتن کا 25واں دورہ چین ہوگا۔

روسی صدر نے آخری بار ستمبر میں چین کا دورہ کیا تھا، جب وہ شی جن پنگ کے خصوصی مہمان کے طور پر ایک بڑی فوجی پریڈ میں شریک ہوئے تھے۔

پوتن نے اس ہفتے کہا کہ انہیں ’پورا یقین‘ ہے کہ وہ اور شی جن پنگ ’روس-چین شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے‘۔

بیجنگ ماسکو کے ساتھ اپنے تعلقات کو ’فولادی‘ قرار دیتا ہے، اور ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے پرتکلف استقبال کے بعد شی جن پنگ یہ ظاہر کرنا چاہیں گے کہ چین اور روس کے تعلقات پہلے کی طرح مضبوط ہیں۔

کنگز کالج لندن کی ماہر نتاشا کرٹ کے مطابق، ’یہ واشنگٹن کے لیے ایک یاد دہانی ہے کہ یہ 30 سال سے زائد عرصے پر محیط ایک مضبوط تعلق ہے۔‘

شنگھائی انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل سٹڈیز کے ژاؤ لونگ نے کہا کہ یہ تاثر پوتن کے لیے بھی اہم ہے، جو شی جن پنگ کو ’عزیز دوست‘ کہتے ہیں۔

انہوں نے کہا ’ماسکو یہ یقین دہانی چاہتا ہے کہ چین کی سٹریٹجک سوچ میں روس اب بھی ایک خصوصی مقام رکھتا ہے۔‘

غیر مساوی تعلقات، مشترکہ مفادات

تاہم چین اور روس کے تعلقات مکمل طور پر برابر نوعیت کے نہیں ہیں۔

مرکیٹر انسٹی ٹیوٹ فار چائنا اسٹڈیز (MERICS) کے اعداد و شمار کے مطابق، یوکرین پر روسی حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارت 2020 کے مقابلے میں دگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق چین کی روس سے درآمدات میں 70 فیصد سے زیادہ حصہ معدنی ایندھن پر مشتمل ہے، جبکہ 2022 کے بعد روسی تیل کی چین کو برآمدات میں تقریباً 30 فیصد اضافہ ہوا۔

تاہم 2025 میں روس سے درآمدات چین کی مجموعی درآمدات کا صرف تقریباً 5 فیصد تھیں۔

اس کے برعکس روسی خبر رساں ادارے تاس کے مطابق، 2025 میں چین روس کی درآمدات کا ایک تہائی سے زیادہ اور برآمدات کا ایک چوتھائی سے زیادہ حصہ رکھتا تھا۔

اس کے باوجود دونوں ممالک، جن کی سرحد 4 ہزار کلومیٹر طویل ہے، امریکہ اور مغرب کے غلبے والے عالمی نظام کی مخالفت میں مشترکہ مؤقف رکھتے ہیں۔

دونوں ایران اور شمالی کوریا کے دیرینہ شراکت دار بھی ہیں۔

ٹرمپ کے دورے کے چند روز بعد

پوتن کا یہ دورہ، جو رواں سال ان کا پہلا غیر ملکی دورہ ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ بیجنگ کے چند روز بعد ہو رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق دونوں دوروں کا ایک کے بعد ایک ہونا ’اہم‘ ہے، اگرچہ ان کے شیڈول کافی پہلے طے ہو چکے تھے۔

نتاشا کرٹ کے مطابق، ’اس ترتیب کا مطلب یہ ہے کہ شی جن پنگ باآسانی پوتن کو ٹرمپ سے ہونے والی ملاقات کے اہم نکات سے آگاہ کر سکتے ہیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیجنگ میں ٹرمپ نے شی جن پنگ کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ’عظیم رہنما‘ قرار دیا تھا اور ’شاندار تجارتی معاہدوں‘ کے ساتھ یوکرین اور ایران سے متعلق مشترکہ خواہشات کا ذکر کیا تھا۔

ژاؤ لونگ نے کہا، ’چین اور روس اکثر دیگر بڑی طاقتوں سے ملاقاتوں سے پہلے اور بعد میں سٹریٹجک رابطہ رکھتے ہیں، جو باہمی اعتماد کی اعلیٰ سطح کو ظاہر کرتا ہے۔‘

شی جن پنگ نے فروری میں ایک ہی دن امریکی اور روسی رہنماؤں سے بات کی تھی، پہلے ویڈیو لنک کے ذریعے پوتن سے اور چند گھنٹوں بعد ٹرمپ سے فون پر گفتگو کی۔

کیا یوکرین پس منظر میں چلا جائے گا؟

روس کی یوکرین پر چار سالہ جنگ ان حساس معاملات میں شامل تھی جن پر گذشتہ ہفتے ٹرمپ اور شی جن پنگ نے بات چیت کی۔

ٹرمپ نے بیجنگ سے روانگی کے بعد ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ اس مسئلے کا حل نکلے۔‘

تاہم ژاؤ لونگ کے مطابق، اگرچہ یوکرین جنگ کا خاتمہ پوتن کی ترجیح ہے، لیکن چین ’تصفیے کے عمل کا بنیادی معمار بننے کا امکان نہیں رکھتا‘۔

انہوں نے کہا: ’کسی بھی جنگ بندی یا سیاسی روڈ میپ کا انحصار بالآخر اہم فریقین کی پہل پر ہوگا۔‘

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے پیر کو کہا کہ اس ہفتے پوتن اور شی جن پنگ ’بین الاقوامی اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کریں گے جو دونوں کے لیے اہم ہیں‘۔

چین باقاعدگی سے جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی حمایت کرتا رہا ہے، لیکن اس نے کبھی روس کی یوکرین میں فوج بھیجنے کی مذمت نہیں کی اور خود کو ایک غیر جانبدار فریق قرار دیتا ہے۔

بیجنگ یہ بھی تردید کرتا ہے کہ وہ روس کو اس کی دفاعی صنعت کے لیے ہتھیار یا فوجی پرزے فراہم کر رہا ہے۔

پائپ لائن میں پیش رفت

چین روسی فوسل فیول کا دنیا کا سب سے بڑا خریدار ہے، جس کے باعث وہ ماسکو کا اہم معاشی شراکت دار بن چکا ہے، جبکہ روس یوکرین جنگ کے باعث مغربی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔

دونوں ممالک روس سے منگولیا کے راستے چین تک ’پاور آف سائبیریا 2‘ نامی بڑی قدرتی گیس پائپ لائن کی تعمیر پر بات چیت کر رہے ہیں، جو مشرق وسطیٰ سے سمندری راستے آنے والے خام تیل کا زمینی متبادل ہوگی۔

نتاشا کرٹ کے مطابق، ’پوتن کے لیے یہ تعلق اب پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے، خاص طور پر معاشی لحاظ سے۔‘

انہوں نے کہا کہ ایران جنگ روس کے لیے اس پائپ لائن کے امکانات کو بڑھا سکتی ہے، کیونکہ 28 فروری سے حملوں کے آغاز کے بعد آبنائے ہرمز سے پیٹرولیم کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جس کا براہِ راست اثر چین پر پڑ رہا ہے۔

تاہم ان کے مطابق بیجنگ ’توانائی کی فراہمی میں تنوع کو ترجیح دیتا ہے‘۔

انہوں نے کہا، ’چین توانائی کے معاملے میں روس پر حد سے زیادہ انحصار نہیں کرنا چاہتا۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *