ایران نے پیر کو کہا ہے کہ اس کی امریکہ سے پاکستان کے ذریعے بات چیت اب بھی جاری ہے اور اس نے امریکی نئی تجویز کا جواب دے دیا ہے۔
پیر کو ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بتایا کہ ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی نئی تجویز پر اپنا جواب دے دیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق اسماعیل بقائی نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان رابطہ ’پاکستانی ثالث‘ کے ذریعے جاری ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کے بعد براہ راست گفتگو کا سلسلہ تو تعطل کا شکار ہے تاہم اس دوران پاکستان کی جانب سے ثالثی کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔
اس دوران ایرانی وزیر خارجہ گذشتہ ماہ دو مرتبہ پاکستان کا دورہ بھی کر چکے ہیں جبکہ پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے حالیہ دنوں میں ایران کا دورہ کیا ہے۔
محسن نقوی نے اس دورے کے دوران اپنے ایرانی ہم منصب کے علاوہ پارلیمان کے سپیکر اور امریکہ سے مذاکرات کرنے والے وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف سے بھی ملاقات کی ہے۔
دوسری جانب ایران اور امریکہ کے درمیان متحدہ عرب امارات میں اتوار کو ایک جوہری پاور پلانٹ پر ڈرون حملے کے بعد سے صورت حال ایک بار پھر کشیدہ دکھائی دے رہی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
امریکی صدر نے اس حملے کے بعد اپنے ایک بیان میں ایک بار پھر ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور انہیں (معاہدے کے لیے) فوراً حرکت میں آنا ہوگا، ورنہ ان کے پاس کچھ بھی باقی نہیں بچے گا۔‘
اس سب کے دوران اب ایران کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا ہے کہ اس نے امریکی تجویز پر اپنا جواب پاکستان کے ذریے بھجوا دیا ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ میں اس حوالے سے مزید تفصیلات تو نہیں فراہم کی تاہم اتنا کہا کہ ’جیسا کہ ہم نے گذشتہ روز اعلان کیا تھا، ہمارے تحفظات امریکی فریق تک پہنچا دیے گئے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’14 نکاتی منصوبہ پیش کرنے کے بعد امریکی فریق نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ اس کے جواب میں ہم نے بھی اپنے مؤقف اور تحفظات پیش کیے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’گذشتہ ہفتے، اگرچہ امریکی فریق نے عوامی سطح پر اعلان کیا تھا کہ اس منصوبے کو مسترد کر دیا گیا ہے، لیکن ہمیں پاکستانی ثالث کے ذریعے کچھ نظرثانی شدہ نکات اور تجاویز موصول ہوئیں جو ان کے مؤقف کی عکاسی کرتی تھیں۔‘
