سعودی عرب کے نوجوان سائنس دانوں نے امریکی ریاست ایریزونا کے شہر فینکس میں منعقدہ ’ریجینیرون انٹرنیشنل سائنس اینڈ انجینئرنگ فیئر‘ (ISEF) 2026 میں 12 خصوصی ایوارڈز اپنے نام کیے۔
سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق 70 ممالک کے 1,700 سے زائد طلبہ کے درمیان مقابلے میں سعودی وفد کو مختلف بین الاقوامی سائنسی اور تعلیمی اداروں کی جانب سے ان منصوبوں پر اعزازات دیے گئے جنہیں تحقیق کے معیار، عملی افادیت اور ابھرتے سائنسی شعبوں سے تعلق کے باعث سراہا گیا۔
یہ ایوارڈز اس وقت سامنے آئے جب مقابلہ اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا تھا اور شرکا بڑے انعامات کے اعلان کے منتظر تھے۔
سعودی عرب 2007 سے ہر سال آئی ایس ای ایف میں شرکت کر رہا ہے۔
رواں سال سعودی وفد میں 40 طلبہ شامل تھے، جن میں سے 23 نے فینکس میں بالمشافہ جبکہ 17 نے ریاض سے آن لائن شرکت کی۔ طلبہ نے انجینیئرنگ، طبی علوم، توانائی اور جدید ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تحقیقی منصوبے پیش کیے۔
تقریب کے موقع پر موہبہ نے ایک خصوصی سیمینار بھی منعقد کیا، جس میں باصلاحیت طلبہ کی شناخت، ان کی تربیت، اور انہیں عالمی سائنسی مقابلوں کے لیے تیار کرنے سے متعلق سعودی عرب کے طریقہ کار کو اجاگر کیا گیا۔
سیمینار میں سائنسی نمائشوں کی تیاری، عالمی مقابلوں کے لیے طلبہ کی تربیت، اور جدت طرازی کے پروگراموں کی معاونت کے لیے عملے کو تیار کرنے کی حکمت عملیوں پر توجہ دی گئی، جو مملکت کے سائنسی نظام کو مضبوط بنانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔
’عزم کے سفیر‘
امریکہ اور کینیڈا میں سعودی ثقافتی اتاشی ڈاکٹر تهاني البيز نے کہا کہ اس ٹیم کی شرکت نوجوانوں پر سرمایہ کاری اور انہیں عالمی سائنسی فورمز پر مقابلے کے قابل بنانے کے سعودی عزم کی عکاس ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایس پی اے کے مطابق ڈاکٹر تهاني البيز نے کہا کہ طلبہ کے منصوبے توانائی، انجینیئرنگ، طبی علوم اور مستقبل کی ٹیکنالوجیز جیسے قومی ترجیحی شعبوں سے متعلق تھے، جنہیں مملکت کی مسابقتی صلاحیت بڑھانے اور معیشت کو متنوع بنانے کے اہداف کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ میں سعودی ثقافتی مشن اس وقت دنیا کی 30 بہترین جامعات میں زیرِ تعلیم 1,500 سے زائد سعودی سکالرشپ طلبہ کی نگرانی کر رہا ہے، اور انہیں یقین ہے کہ آئی ایس ای ایف کے کئی شرکا مستقبل میں انہی اداروں میں شامل ہوں گے۔
طلبہ کو ’عزم کے سفیر‘ قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر تهاني البيزنے وفد کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ عالمی سائنسی میدان میں مملکت کے لیے نئی کامیابیاں حاصل کرتے رہیں۔
