عوامی ردعمل پر تامل ناڈو کے وزیر اعلیٰ نے ذاتی نجومی کو اہم سرکاری عہدے سے ہٹا دیا

انڈیا کی ریاست تمل ناڈو کے نومنتخب وزیر اعلیٰ نے شدید عوامی ردعمل کے بعد اپنے ذاتی نجومی کی اہم سرکاری عہدے پر تقرری واپس لے لی۔

اداکار سے سیاستدان بننے والے جوزف وجے چندر شیکر، جنہوں نے رواں ماہ اپنے پہلے ہی انتخاب میں حیران کن کامیابی حاصل کی، نے اپنے دیرینہ نجومی اور علمِ اعداد کے ماہر رِکی رندھن پنڈت ویتری ویل کو سرکاری امور میں مشیر مقرر کیا تھا، حالانکہ ان کے پاس انتظامی امور کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔

تاہم وزیر اعلیٰ، جو عام طور پر صرف ’وجے‘ کے نام سے معروف ہیں، کو عوامی تنقید کے باعث صرف ایک روز بعد ہی ’آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی‘ کے عہدے کے لیے کی گئی یہ تقرری واپس لینا پڑی۔

ریاستی انتخابات سے تقریباً ایک سال قبل ویتری ویل نے مختلف انٹرویوز اور ویڈیوز میں وجے کے زائچے کی تشریح کرتے ہوئے پیش گوئی کی تھی کہ ان کی نئی سیاسی جماعت ٹی وی کے اقتدار میں آئے گی۔

یہ نجومی اس سے قبل تمل ناڈو کی سابق وزیر اعلیٰ جے جے للیتا کو بھی مشورے دیا کرتے تھے اور مختلف جماعتوں کے سینیئر سیاستدانوں سے بھی ان کے تعلقات بتائے جاتے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انڈین ایکسپریس کے مطابق 2014 میں جے للیتا اور ویتری ویل کے تعلقات اس وقت خراب ہوگئے تھے جب انہوں نے ایک بدعنوانی کیس میں ان کے جیل جانے سے بچنے کی غلط پیش گوئی کی تھی۔ بعد ازاں للیتا کی طرف سے مشورے لینا بند کر دے گئے اور وہ مبینہ طور پر سنگاپور منتقل ہوگئے تھے۔

وزیر اعلیٰ کے دفتر میں ان کی تقرری کے بعد تمل ناڈو میں فوری طور پر بحث چھڑ گئی، کیونکہ یہ ریاست تاریخی طور پر عقلیت پسندی اور توہم پرستی مخالف سیاست کے حوالے سے جانی جاتی ہے۔

ناقدین کا کہنا تھا کہ ایک نجومی کو، وہ بھی بااثر سرکاری عہدے پر تعینات کرنا، سائنسی سوچ کے بجائے توہم پرستی کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔

کانگریس، ودوتھلائی چرتھائیگل کچی اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے رہنماؤں نے بھی اس تقرری پر سخت تنقید کی۔

کانگریس کے رکن پارلیمان ساسیکانتھ سینتھل نے کہا کہ ’سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایک نجومی کو او ایس ڈی کے عہدے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کوئی وضاحت کر سکتا ہے؟‘

مارکسسٹ پارٹی کے ریاستی سربراہ پی شنموگم نے کہا: ’حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سائنسی سوچ کو فروغ دے۔ رِکی رادھن پنڈت بنیادی طور پر ایک نجومی ہیں۔ ایسے شخص کو سرکاری خرچ پر سرکاری عہدہ دینا عوام میں علمِ نجوم پر یقین کو مزید بڑھائے گا۔ یہ تقرری ناقابلِ قبول ہے، خصوصاً جب وہ سیاسی مشورے بھی دیں گے۔‘

ودوتھلائی چرتھائیگل کچی کے جنرل سیکریٹری ڈی روی کمار نے اس فیصلے کو ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ سے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

کانگریس کی رکن پارلیمان جوتھیمانی نے بھی وزیر اعلیٰ سے اس تقرری پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ وجے کی جماعت اپنے نظریاتی رہنما کے طور پر سماجی مصلح پیریار ای وی راماسامی کو پیش کرتی ہے، جنہوں نے ذات پات، مذہبی شدت پسندی اور توہم پرستی کے خلاف جدوجہد کی تھی۔ جوتھیمانی نے کہا کہ ’نئی حکومت کے لیے بہتر ہوگا کہ اقتدار سنبھالتے ہی ایسے تنازعات سے خود کو دور رکھے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *