وزیر دفاع خواجہ آصف نے بدھ کو کہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں قائم طالبان حکومت کے ساتھ دہشت گردی کے مسئلے پر قطر، ترکی اور سعودی عرب کے ذریعے طویل مذاکرات کیے، تاہم کابل حکومت اسلام آباد کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے کی تحریری ضمانت دینے پر آمادہ نہیں ہوئی۔
اسلام آباد میں قومی اسمبلی سے خطاب میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ’جب ملک میں دہشت گردی عروج پر تھی تب بھی پاکستان مذاکرات کر رہا تھا اور اس عمل میں قطر، ترکی اور سعودی عرب نے کردار ادا کیا، لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو سکا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہمیں کابل حکومت اس بات کی ضمانت دینے کے لیے تیار نہیں کہ ان کی سرزمین سے پاکستان پر حملے نہیں ہوں گے۔‘
وزیر دفاع نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہونے والی ’دہشت گردی، شہادتوں اور خونریزی کا براہ راست تعلق افغانستان سے ہے۔‘
انہوں نے بنوں حملے اور حالیہ عسکریت پسندی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ پاکستان فوج اور سکیورٹی ادارے روزانہ قربانیاں دے رہے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے دیانتداری کے ساتھ بارہا مذاکرات کیے اور بعض اوقات 12، 13 اور 19 گھنٹے تک مسلسل بات چیت ہوئی، لیکن افغان حکام زبانی یقین دہانی تو کرواتے ہیں مگر تحریری معاہدے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ کابل حکومت اس وقت انڈیا کی ’پراکسی‘ بنی ہوئی ہے اور انڈیا اپنی جنگ افغانستان کے ذریعے پاکستان کے خلاف لڑ رہا ہے۔
اسلام آباد الزام عائد کرتا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ارکان افغانستان میں موجود ہیں اور وہاں سے پاکستان میں حملے کرتے ہیں، جنہیں افغان حکومت کی سرپرستی اور انڈیا کی معاونت حاصل ہے، تاہم کابل اور نئی دہلی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
بقول خواجہ آصف: ’انڈیا گذشتہ سال کی شکست کے بعد براہ راست پاکستان کے ساتھ محاذ آرائی کی جرات نہیں کرے گا، اس لیے اب جنگ کابل کے ذریعے لڑی جا رہی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ اب خیبر پختونخوا حکومت بھی دہشت گردی کے خلاف وفاق اور پاکستان فوج کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے، ’ہم سب ایک صفحے پر ہیں کہ دہشت گردی ختم ہونی چاہیے۔‘
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے ترکی، قطر اور سعودی عرب کے ذریعے افغان طالبان سے درخواست کی کہ دہشت گردوں کی پشت پناہی اور ان کے کیمپ ختم کیے جائیں، مگر اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر افغانستان دہشت گرد گروہوں سے لاتعلقی اختیار نہیں کرتا تو ’پھر ایک ہی راستہ بچتا ہے، اور وہ جنگ ہے۔‘
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ’اگر کابل حکومت تیار نہیں ہوتی تو پھر جو دلی کے ساتھ کیا ہے، وہی کابل کے ساتھ کریں گے، انشاءاللہ۔‘
