پشاور میں رکشہ ڈرائیور ایل پی جی کے استعمال پر کیوں مجبور ہیں؟

پشاور کے ورسک روڈ سے تعلق رکھنے والے 24 سالہ شاہ زیب گذشتہ چار برس سے رکشہ چلا کر اپنے گھر کی کفالت کر رہے ہیں، لیکن سی این جی کی بندش کے باعث اب وہ پابندی کے باوجود ایل پی جی سلینڈر استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں بار بار سی این جی بند ہونے کے باعث کئی مرتبہ انہیں رکشہ کھڑا کرنا پڑا، جس سے روزانہ کی آمدن متاثر ہوئی۔

شاہ زیب کے بقول اسی صورت حال میں انہوں نے اپنے رکشے میں ڈھائی کلوگرام کا ایل پی جی سلینڈر نصب کیا تاکہ کام جاری رکھا جا سکے۔

سال 2014 میں اوگرا نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی حکومت نے ایل پی جی رولز 2002 میں ترمیم کی منظوری دی تھی، جس کے تحت گاڑیوں میں ایل پی جی کی فلنگ اور استعمال کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔

نوٹیفیکیشن میں کہا گیا تھا کہ ایل پی جی بلند شعلے والی گیس ہے اور موٹر سائیکلوں، رکشوں اور گاڑیوں میں اس کا استعمال انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

اوگرا نے اپنے لائسنس ہولڈرز کو ایسی گاڑیوں میں ایل پی جی بھرنے سے روک دیا تھا جبکہ خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی ہدایت بھی جاری کی گئی تھی۔

 

شاہ زیب کے مطابق اگرچہ فی کلو ایل پی جی، سی این جی سے مہنگی ہے، تاہم اس کی کھپت کم ہونے کی وجہ سے یہ نسبتاً سستی پڑتی ہے، اسی لیے کئی رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیور اسے استعمال کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں ایل پی جی کے استعمال پر حکومتی پابندی موجود ہے، تاہم سی این جی کی غیر یقینی فراہمی کے باعث ڈرائیور متبادل راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال فیضی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ رواں سال 2026 میں پشاور میں ایل پی جی سلینڈر پھٹنے کے تقریباً 10 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

ان کے مطابق رکشوں اور ٹیکسیوں میں عام طور پر پانچ کلو تک کے سلینڈر استعمال کیے جاتے ہیں، جو حادثے کی صورت میں تین سے چار میٹر تک اثر ڈال سکتے ہیں۔

بلال فیضی کے بقول پشاور جیسے گنجان آباد شہر میں اگر ٹریفک کے دوران کسی رکشے یا ٹیکسی میں سلینڈر پھٹ جائے تو صرف گاڑی میں موجود افراد ہی نہیں بلکہ اردگرد موجود موٹر سائیکل سوار، گاڑیاں اور پیدل چلنے والے افراد بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گرمی کے موسم میں گیس لیکج، غیر معیاری والوز، ناقص فٹنگ اور سلینڈر کو انجن کے قریب نصب کرنا حادثات کے خطرات کو مزید بڑھا دیتا ہے۔

بلال فیضی نے احتیاطی تدابیر بتاتے ہوئے کہا کہ عوام غیر رجسٹرڈ یا غیر معیاری سلینڈر استعمال نہ کریں، گیس لیکج کی صورت میں فوری طور پر گاڑی بند کر دیں اور سلینڈر کو براہ راست دھوپ یا شدید گرمی میں رکھنے سے گریز کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ گاڑیوں میں نصب سلینڈر کی باقاعدہ جانچ ضروری ہے جبکہ غیر قانونی کٹس اور مقامی سطح پر کی گئی غیر محفوظ فٹنگ حادثات کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔

خیبر پختونخوا کے محکمہ ٹرانسپورٹ کے موٹر وہیکل ایگزامنر اسد اللہ خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ 11 دسمبر 2025 سے 15 جنوری 2026 کے دوران پبلک ٹرانسپورٹ میں ایل پی جی اور سب سلینڈر کے خلاف 95 کارروائیاں کی گئیں، جن میں سلینڈر ضبط کیے گئے اور جرمانے بھی عائد ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ کارروائیوں کے دوران محکمہ ٹرانسپورٹ سلینڈر ضبط کرتا ہے جبکہ ٹریفک پولیس متعلقہ گاڑیوں کے چالان کرتی ہے۔

اسد اللہ خان کے مطابق پابندی کے باوجود مکمل عملدرآمد ممکن نہیں ہو پا رہا کیونکہ سی این جی بحران کے باعث بڑی تعداد میں ٹرانسپورٹرز متبادل ایندھن استعمال کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض اوقات کارروائی کے دوران رکشہ ڈرائیور مزاحمت بھی کرتے ہیں اور خود کو یا گاڑی کو آگ لگانے کی دھمکیاں دیتے ہیں، جس کے باعث صورت حال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔

ان کے بقول پبلک ٹرانسپورٹ میں ایل پی جی کے استعمال پر مؤثر پابندی اسی صورت میں ممکن ہے، جب حکومت سی این جی کی مسلسل فراہمی یقینی بنائے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *