امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری سفارتی کوششوں میں پاکستان کے ثالثی کردار کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے اُن تجاویز کو مسترد کر دیا جن میں کہا جا رہا تھا کہ اسلام آباد کو اس کردار سے ہٹا دیا جائے۔
صدر ٹرمپ کی طرف سے بدھ کو یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ٹرمپ کے قریبی اتحادی اور خارجہ امور پر بااثر ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے سوال اٹھایا تھا کہ آیا پاکستان ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر اپنا کردار جاری رکھ سکتا ہے یا نہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کا ردِعمل سی بی ایس نیوز کی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آیا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حالیہ ایران، اسرائیل اور امریکا تنازع کے دوران ایرانی فوجی طیاروں کو ممکنہ امریکی حملوں سے بچانے کے لیے پاکستانی فضائی اڈوں پر منتقل کیا گیا۔ پاکستان نے اس رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ مذاکرات میں پاکستان کے کردار پر نظرِ ثانی کر رہے ہیں؟
اس پر ٹرمپ نے کہا کہ ’نہیں، وہ بہت اچھے ہیں۔ میرے خیال میں پاکستانیوں نے شاندار کردار ادا کیا ہے۔ فیلڈ مارشل [آرمی چیف عاصم منیر] اور پاکستان کے وزیر اعظم [شہباز شریف] دونوں ہی انتہائی بہترین رہے ہیں۔‘
حالیہ مہینوں میں پاکستان واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک اہم رابطہ بن کر ابھرا ہے، جبکہ ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان بڑھتی علاقائی کشیدگی نے خلیجی خطے کو غیر مستحکم کر دیا ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی توانائی کی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے۔
