کراچی: کوکین کی ’سب سے بڑی سپلائر‘ کی گرفتاری اور ’پولیس گٹھ جوڑ‘ کا انکشاف

کراچی میں کوکین سمیت دیگر منشیات کی مبینہ سپلائر انمول عرف پنکی کی گرفتاری کے بعد دوران تفتیش بین الاقوامی منشیات فروشوں اور مقامی پولیس افسران کے ساتھ گہرے روابط کا انکشاف ہوا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وفاقی انٹیلی جنس ادارے کے ہمراہ مشترکہ کارروائی کے دوران منگل کو کراچی میں منشیات کی مبینہ سپلائر انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا گیا تھا۔

تاہم، دوپہر کے وقت جب ملزمہ کو عدالت میں پیش کیا گیا تو انہیں ’وی آئی پی پروٹوکول‘ دیا گیا، جس کی ویڈیوز وائرل ہوتے ہی عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔

پولیس کے مطابق کوکین کی مبینہ ڈیلر انمول عرف پنکی کو منگل کی صبح گارڈن کے علاقے میں واقع ایک فلیٹ سے گرفتار کیا گیا۔ بعد ازاں انہیں شعبہ تفتیش پولیس کی جانب سے سکیورٹی کے ساتھ سٹی کورٹ میں پیش کیا گیا۔

انمول عرف پنکی کی عدالت میں بغیر ہتھکڑی اور پروٹوکول کے ساتھ پیشی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کرنے کے بعد سندھ حکومت اور پولیس حکام نے معاملے کا نوٹس لیا جس کے بعد پروٹوکول دینے والی دو لیڈی کانسٹیبلز کو معطل کر دیا گیا ہے۔

صوبائی وزیرِ داخلہ ضیا النجار نے متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او اور دیگر ذمہ دار اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کر کے ان کے خلاف اعلیٰ سطحی انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔

تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ پنکی کا تعلق بنیادی طور پر لاہور سے ہے، جہاں وہ اپنی ایک سہیلی کےساتھ مل کر ایک منظم بین الاقوامی گروہ کے لیے کام کر رہی تھیں جس کے تانے بانے نائجیرین باشندوں سے ملتے ہیں۔

اس حوالے سے ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’خاتون کا تعلق لاہور میں قائم ایک نیٹ ورک سے ہے۔ اس نیٹ ورک میں ان کی ایک قریبی سہیلی بھی شامل ہے، جس کی شادی ایک نائجیرین شہری سے ہوئی ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کہتے ہیں کہ ’خاتون نے دورانِ تفتیش بتایا کہ وہ منشیات لاہور سے بریف کیس میں کراچی لاتی تھیں، جہاں اسے اپنے نیٹ ورک کے ذریعے فروخت کیا جاتا تھا۔ تفتیش کے دوران پتہ چلا کہ اس کا تعلق ایک بین الاقوامی منشیات نیٹ ورک سے ہے۔‘

تفتیش کا سب سے پریشان کن پہلو پولیس افسران کی جانب سے ملزمہ کو حاصل معاونت ہے۔

ڈی آئی جی ساؤتھ نے تصدیق کی کہ ’ملزمہ نے ان اہلکاروں کے نام اگل دیے ہیں جو انہیں قانون سے بچانے میں مدد فراہم کرتے تھے۔‘

اسد رضا کا کہنا ہے کہ ’خاتون نے دعویٰ کیا کہ ان کے پولیس کے نچلے درجے کے بعض افسران سے روابط تھے، جن کے نام بھی انہوں نے دوران تفتیش ہمیں فراہم کیے ہیں۔

’ان کے مطابق یہ افسران مختلف مواقع پر ان کی مدد کرتے تھے۔ ان افسران کے خلاف ہم نے انکوائری شروع کردی ہے۔‘

ملزمہ نے دورانِ تفتیش یہ انکشاف بھی کیا کہ انہیں 2024 میں لاہور میں اینٹی نارکوٹکس فورس نے حراست میں لیا تھا، لیکن وہاں سے وہ مبینہ طور پر لین دین کر کے بچ نکلنے میں کامیاب رہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وفاقی انٹیلی جنس ادارے کی مدد سے ہونے والی اس گرفتاری کے بعد اب کیس کی تفتیش مکمل شفافیت سے کی جا رہی ہے تاکہ اس نیٹ ورک کے تمام ملوث افراد کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جا سکے۔

اس سے قبل انمول عرف پنکی کو مبینہ پروٹوکول دینے کے الزام میں حنیف سیال، ظفر اقبال اور سعید احمد کو بھی معطل کیا جا چکا ہے۔

جبکہ ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے ایس ایس پی ساؤتھ کو انکوائری افسر مقرر کرتے ہوئے واقعے کی تفصیلی رپورٹ تین روز میں پیش کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

تاہم ایڈیشنل آئی جی کراچی کے مطابق تمام پولیس افسران اور اہلکار قانون اور ضابطوں کے پابند ہیں، جبکہ قواعد کی خلاف ورزی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *