امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے چین کی مدد کی ضرورت نہیں، جبکہ مستقل امن معاہدے کی امیدیں کم ہوتی جا رہی ہیں اور تہران نے آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مزید مضبوط کر لی ہے۔
بیجنگ روانگی سے قبل منگل کو صدر ٹرمپ صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ انہیں یہ نہیں لگتا کہ وہ ایران سے متعلق چینی صدر شی چن پنگ کی مدد حاصل کریں گے۔ یہ جنگ اب بھی سمندری تجارت میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں ایران کے معاملے میں کسی مدد کی ضرورت ہے۔ ہم ایک نہ ایک طریقے سے جیت جائیں گے، چاہے پُرامن طریقے سے یا کسی اور انداز میں۔‘
ایک نازک جنگ بندی نافذ ہونے کے ایک ماہ بعد بھی دونوں فریق کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔ دوسری جانب ذرائع کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط کر لیا ہے اور عراق و پاکستان کے ساتھ تیل اور مائع قدرتی گیس ’ایل این جی‘ کی ترسیل کے معاہدے کیے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ دیگر ممالک بھی ایسے معاہدوں پر غور کر رہے ہیں، جس سے ایران کے اس آبی راستے پر کنٹرول کو مستقل حیثیت مل سکتی ہے۔
امریکی حکومت نے کہا کہ گزشتہ ماہ امریکی اور چینی حکام اس بات پر متفق ہوئے تھے کہ کسی بھی ملک کو اس خطے سے گزرنے والی بحری آمدورفت پر ٹول ٹیکس لگانے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔ چین، جو ایران کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے اور اس کے تیل کا بڑا خریدار ہے، نے اس مؤقف کی مخالفت نہیں کی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ٹرمپ جمعرات اور جمعہ کو شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے، جہاں توقع ہے کہ وہ چین پر زور دیں گے کہ وہ تہران کو واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ کرنے پر آمادہ کرے۔
امریکہ کے مطالبات میں ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز پر اس کی گرفت ختم کرنا شامل ہے۔ ایران نے اس کے جواب میں جنگی نقصانات کا معاوضہ، امریکی پابندیوں کا خاتمہ، اور لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
امریکی بزدل ہیں جو اپنے ہی ملک کے خلاف کھڑے ہیں: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ان تمام نیوز چینلز کو ’فیک نیوز‘ قرار دیا ہے جو امریکہ کے خلاف ایرانی جوابی کارروائی کے بارے میں مثبت لکھتے ہیں۔
ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’جب فیک نیوز یہ کہتے ہیں کہ ایرانی دشمن فوجی طور پر ہمارے خلاف اچھی کارکردگی دکھا رہا ہے، تو یہ عملی طور پر غداری کے مترادف ہے کیونکہ یہ ایک انتہائی جھوٹا بلکہ مضحکہ خیز بیان ہے۔
’وہ دشمن کی مدد اور حوصلہ افزائی کر رہے ہیں! اس کا واحد نتیجہ یہ ہے کہ ایران کو جھوٹی امید ملتی ہے، حالانکہ ایسی کوئی امید ہونی نہیں چاہیے۔ یہ امریکی بزدل ہیں جو اپنے ہی ملک کے خلاف کھڑے ہیں۔‘
انہوں نے لکھا کہ ’ایران کے پاس بحریہ میں 159 جہاز تھے جو اب ہر ایک سمندر کی تہہ میں پڑا ہے۔ ان کی کوئی بحریہ نہیں رہی، ان کی فضائیہ ختم ہو چکی ہے، تمام ٹیکنالوجی تباہ ہو چکی ہے، ان کے ’لیڈر‘ اب ہمارے درمیان نہیں رہے، اور ملک معاشی تباہی کا شکار ہے۔‘
ٹرمپ نے کہا کہ ’صرف ہارنے والے، ناشکرے اور احمق ہی امریکہ کے خلاف مؤقف اختیار کر سکتے ہیں۔‘
جنگ کی قیمت
جنگ کے بڑھتے اخراجات کے باوجود ٹرمپ نے کہا کہ امریکی عوام کی معاشی مشکلات ان کے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہوتیں۔
امریکی محکمہ محنت کے مطابق اپریل میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ہوا، جبکہ خوراک، کرایوں اور ہوائی سفر کے اخراجات بھی بڑھے۔
روئٹرز کے مطابق جب ایک صحافی نے پوچھا کہ امریکی عوام کی معاشی مشکلات انہیں معاہدہ کرنے پر کس حد تک مجبور کر رہی ہیں، تو ٹرمپ نے جواب دیا ’ذرا بھی نہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا:’جب میں ایران کے بارے میں بات کرتا ہوں تو صرف ایک چیز اہم ہے: ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔‘
ان بیانات پر ناقدین کی جانب سے سخت ردعمل متوقع ہے، کیونکہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی ووٹرز کے لیے اہم مسائل ہیں۔
برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 107 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، کیونکہ آبنائے ہرمز بڑی حد تک بند رہی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن نے بحیرہ عرب میں امریکی ناکہ بندی نافذ کر رہا ہے، جہاں اس نے 65 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا اور چار کو غیر فعال کیا۔
پینٹاگون کے مطابق اب تک جنگ پر 29 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، جو گزشتہ ماہ کے اندازے سے 4 ارب ڈالر زیادہ ہیں۔
