پہلے رشتے اب پروفائل میچ ہوتے ہیں

لندن میں مقیم ایک محنتی پاکستانی نوجوان لڑکی کے موبائل پر جب ایک ’پرفیکٹ پروفائل‘ کا نوٹیفکیشن آیا، تو اسے لگا شاید برسوں کی تلاش ختم ہوئی۔

تصویر میں نظر آنے والا شخص کینیڈا کا کامیاب بزنس مین تھا، جس کی گفتگو میں بلا کا سحر اور خاندانی شرافت کی جھلک تھی۔ ہفتوں کی چیٹنگ اور جذباتی وابستگی استوار ہونے کے بعد ایک دن اس شخص نے بتایا کہ اس نے ایک بیش قیمت ڈائمنڈ سیٹ اور قیمتی برینڈڈ بیگ پاکستان کے پتے پر بھجوا دیے ہیں، بس کسٹم کلیئرنس کے لیے کچھ رقم ادا کرنی ہوگی۔

محبت کے خمار اور اعتماد میں ڈوبی اس لڑکی نے اپنی جمع پونجی اس کے بتائے ہوئے اکاؤنٹ میں منتقل کر دی، مگر رقم منتقل ہوتے ہی وہ ’ڈریم پارٹنر‘ ڈیجیٹل دنیا کے اندھیروں میں غائب ہو گیا اور پیچھے صرف ایک خالی بینک اکاؤنٹ اور کبھی نہ بھرنے والا ذہنی صدمہ چھوڑ گیا۔

یہ صرف ایک کہانی نہیں بلکہ ان ہزاروں متاثرین کی نمائندگی ہے جو میچ میکنگ ایپس کے ذریعے ہونے والے اس منظم مالی فراڈ کا شکار ہو رہے ہیں، جہاں دھوکہ باز عناصر خود کو ڈاکٹر یا اعلیٰ سرکاری افسر ظاہر کر کے ہمدردی سمیٹتے ہیں اور کبھی کسی حادثے تو کبھی کسٹم ڈیوٹی کے بہانے رشتہ ڈھونڈنے والوں کی زندگی بھر کی کمائی لوٹ لیتے ہیں۔

رشتوں کی تلاش کا یہ عمل جو کبھی خاندان، برادری اور ’رشتے والی آنٹی‘ جیسے روایتی ستونوں پر قائم ایک سادہ مگر حساس سماجی روایت تھی، اب اسی طرح کے ڈیجیٹل عہد کی نذر ہو کر اکثر دھوکہ دہی کا ذریعہ بن چکی ہے۔ یہ تبدیلی صرف سہولت تک محدود نہیں بلکہ ایک گہری سماجی اور نفسیاتی تبدیلی کی علامت ہے، جہاں قدیم اقدار اور جدید ٹیکنالوجی ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑی ہیں۔

روایتی نظام میں رشتے والی آنٹی محض ایک واسطہ نہیں بلکہ ایک غیر رسمی ادارہ تھیں جو خاندانوں کے پس منظر، مزاج اور روایات سے واقفیت کی بنا پر اعتماد کا پل تعمیر کرتی تھیں، جس سے فیصلوں میں پائیداری پیدا ہوتی تھی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم، اس قدیم نظام میں جہاں ذاتی جانچ پڑتال مضبوط تھی، وہاں کبھی کبھار مالی مفادات اور معلومات کی غلط بیانی جیسے پہلو بھی مسائل کا سبب بنتے تھے۔ لیکن آج کے ڈیجیٹل انقلاب نے انتخاب کا دائرہ عالمی سطح تک پھیلا کر جہاں نوجوانوں کو آزادی دی ہے، وہاں ان ایپس پر تصدیق کا کوئی موثر نظام نہ ہونے کی وجہ سے یہ مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے افراد کے لیے ایک آسان شکار گاہ بن چکی ہیں۔

موجودہ دور میں رشتوں کے ٹوٹنے اور طلاقوں کی بڑھتی ہوئی شرح کی ایک بڑی وجہ تعلقات کا یہی سطحی ہونا ہے، جہاں فیصلے شخصیت کی گہرائی کے بجائے محض چند فلٹر لگی تصاویر اور فوٹو شاپڈ پروفائلز کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔

’انتخاب کی زیادتی‘ کے باعث لوگ ایک مستحکم رشتے میں بندھنے کے بجائے مسلسل کسی بہتر آپشن کی تلاش میں رہتے ہیں، جس سے کمٹمنٹ کا فقدان پیدا ہوتا ہے اور خاندانی حصار نہ ہونے کی وجہ سے معمولی تنازعات بھی بڑے بگاڑ کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔

انسانی اقدار کا ڈھانچہ اس حد تک متاثر ہوا ہے کہ اب صبر اور برداشت کی جگہ فوری تسکین نے لے لی ہے اور رشتہ ایک ایسی پروڈکٹ بن گیا ہے جہاں خلوص کے بجائے خود کو بہترین بنا کر پیش کرنے کی دوڑ لگی ہے۔

اس بحران کا حل کسی ایک نظام کی مکمل نفی میں نہیں بلکہ ایک متوازن درمیانی راستے میں پوشیدہ ہے، جہاں ٹیکنالوجی کو ابتدائی رابطے کے لیے تو استعمال کیا جائے لیکن حتمی فیصلہ سازی میں خاندانی مشاورت، تحقیق اور ذاتی ملاقات کو لازمی جزو بنایا جائے۔

اگر ٹیکنالوجی کو دیانت داری اور سماجی اقدار کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو یہ مثبت ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ بالآخر رشتہ صرف دو افراد کا ملاپ نہیں بلکہ دو زندگیوں کا جوڑ ہے جسے کسی بھی ایپ سے زیادہ انسانی بصیرت اور سچائی کی ضرورت ہوتی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *