داعش خراسان نے اپنے انگریزی زبان کے تازہ ترین پروپیگنڈا میگزین ’وائس آف خراسان‘ میں ایک تحریر شائع کی ہے جس میں جنوری 2026 میں کابل میں ایک چینی شہری کے ریستوران پر ہونے والے حملے کا دفاع کیا گیا ہے۔
داعش خراسان نے اس حملے کو شمال مغربی صوبے سنکیانگ میں اویغور مسلم کمیونٹی کے خلاف چین کی سخت پالیسیوں کا بدلہ قرار دیا اور مستقبل میں مزید ایسے حملوں کی دھمکی دی۔
چین مخالف پروپیگنڈا داعش خراسان کی مطبوعات کا ایک مستقل موضوع بن چکا ہے جو اس دہشت گرد گروہ کی چین کے حوالے سے پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ مارچ 2026 میں داعش کی علاقائی شاخ نے جمہوریہ کانگو کے صوبے ایتوری میں چین کی ملکیتی سونے کی ایک کان پر حملہ کیا، جو اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا۔
کابل (افغانستان) اور ایتوری (کانگو) میں ہونے والے حملے اور اس کے ساتھ ساتھ تیز تر آن لائن پروپیگنڈا اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ تنظیم چین کے مفادات کے خلاف اپنی جنگ کا دائرہ جنوبی اور وسطی ایشیا سے نکال کر افریقہ تک پھیلا رہی ہے اور اس میں شدت لا رہی ہے۔
چین پر داعش خراسان کی نئی توجہ کے پیچھے چار بنیادی عوامل کارفرما ہیں۔
پہلا عنصر داعش خراسان کا خود کو چین کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ بالخصوص ایشیا اور افریقہ میں نشانہ بنانے کے لیے تیار کرنا ہے۔ جیسے جیسے چین جنگ زدہ علاقوں، کمزور ریاستوں اور متنازعہ خطوں میں اپنے قدم جما رہا ہے، وہ داعش کے لیے ایک پرکشش اور آسان ہدف بنتا جا رہا ہے۔
2025 تک داعش خراسان کی چین مخالف کارروائیاں صرف جنوبی اور وسطی ایشیا تک محدود تھیں۔ جنوبی ایشیا میں داعش کی علاقائی شاخیں اس چین مخالف پروپیگنڈے اور حملوں کی قیادت کر رہی تھیں۔ تاہم، جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا، مارچ 2026 میں وسطی افریقہ میں داعش کی شاخ نے بھی جمہوریہ کانگو میں ایک چینی کمپنی کی سونے کی کان کو نشانہ بنا کر اس مہم میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔
ایک ابھرتی ہوئی عالمی قوت کے طور پر چین کو نشانہ بنانا داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کو فوری میڈیا کوریج فراہم کرتا ہے، جو ان کے لیے آکسیجن کا کام کرتی ہے اور نئی بھرتیوں و فنڈنگ کو مہمیز دیتی ہے ۔
دوسرا عنصر جو داعش کی چین مخالف بیان بازی کو تحریک دے رہا ہے، وہ فروری میں القاعدہ فی جزیرۃ العرب کی جانب سے جاری کردہ چین مخالف اور ایغور نواز بیان ہے۔
ایک طویل وقفے کے بعد القاعدہ کی اس شاخ نے سنکیانگ کے مسئلے پر اپنی طویل خاموشی توڑی ہے اور چین کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس کی سخت پالیسیاں برقرار رہیں تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہاں یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ مرکزی القاعدہ اور اس کی جنوبی ایشیائی شاخ القاعدہ برصغیر طالبان کی سٹریٹجک خاموشی کی پالیسی کے مطابق اس مسئلے پر خاموش رہے ہیں۔ تاہم، القاعدہ نے محسوس کیا کہ ایغور مسئلے پر خاموش رہ کر وہ آپریشنل اور نظریاتی میدان داعش کے لیے چھوڑ رہی ہے۔
اسی لیےاس نے القاعدہ فی جزیرۃ العرب کو ایک سخت بیان جاری کرنے پر آمادہ کیا۔
القاعدہ فی جزیرہ العرب کے فروری کے بیان تک داعش واحد عسکریت پسند گروہ تھا جو مسلسل پروپیگنڈے اور دہشت گردانہ حملوں کے ذریعے چین کو نشانہ بنا رہا تھا اور اویغور علیحدگی پسندی کی تشہیر کر رہا تھا۔ اس میدان میں القاعدہ کی بروقت واپسی نے داعش کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنی شاخ داعش خراسان کے ذریعے پروپیگنڈے اور حملوں میں تیزی لائے بلکہ افریقی شاخوں کو شامل کر کے اس کا دائرہ جنوبی اور وسطی ایشیا سے افریقہ تک پھیلا دے۔
داعش سب سے زیادہ چین مخالف گروہ کے طور پر اپنی اجارہ داری برقرار رکھنا چاہتی ہے اور القاعدہ کی کوششوں کو بے وقعت کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
داعش خراسان کے اویغور نواز اور چین مخالف پروپیگنڈے کا تیسرا عنصر طالبان حکومت کے ساتھ اس کی گہری نظریاتی دشمنی اور بیجنگ کے ساتھ طالبان کے قریبی سفارتی و معاشی تعلقات ہیں۔ داعش خراسان بڑی ہوشیاری سے چین مخالف موقف اپنا رہی ہے تاکہ نظریاتی طور پر طالبان کو غیر مستند ثابت کر سکے۔
ایسا کرتے ہوئے داعش نے طالبان کے ‘افغان مرکوز’ نقطہ نظر، یعنی قوم پرستی اور علاقائیت کو اپنانے پر بھی تنقید کی ہے۔ طالبان کے لیے یہ بات زیادہ سہل ہے کہ وہ سنکیانگ کو چین کا اندرونی معاملہ قرار دیں اور کسی بھی تنقیدی بیان سے گریز کریں۔
چین کے خلاف داعش کے نئے اور توانا پروپیگنڈے کا چوتھا عنصر افغانستان اور شام دونوں جگہوں پر موجود ترکستان اسلامک پارٹی (ٹی آئی پی) کو اپنی طرف راغب کرنے کی خواہش ہے۔ داعش خراسان مسلسل ترکستان اسلامک پارٹی کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ طالبان نے انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے، اور یہ کہ اگر وہ داعش میں شامل ہو جائیں تو ان کے مفادات کا بہتر تحفظ ہو سکے گا۔
داعش خراسان ترکستان اسلامک پارٹی کی صفوں میں موجود بے چینی کا فائدہ اٹھا رہی ہے، جو طالبان اور القاعدہ کے ساتھ اپنی وفاداری برقراررکھنے یا داعش کے کیمپ میں شامل ہونے کے درمیان کشمکش کا شکار ہے۔
ٹی آئی پی کو طالبان کی جانب سے اپنی پالیسیوں کے مطابق چلنے کے لیے شدید دباؤ کا سامنا ہے، جس نے اسے بے چین صورت حال سے دوچار کر دیا ہے۔ جولائی 2025 میں ایک اہم اقدام کے تحت ٹی آئی پی نےاپنے تنظیمی ڈھانچے پر نظرثانی کی، مذہبی بیانیے سے دوری اختیار کی اور قوم پرست علیحدگی پسند بیانیے کو فروغ دیا۔
اب ٹی آئی پی کے پاس تین راستے ہیں: طالبان اور القاعدہ کا وفادار رہنا، داعش خراسان میں شامل ہونا یا قوم پرست علیحدگی پسند ایجنڈے کے تحت اپنی آزادانہ راہ اختیار کرنا۔
اس حقیقت کے پیشِ نظر کہ ٹی آئی پی شام اور افغانستان کے درمیان بٹی ہوئی ہے اور اپنی بقا کے لیے ان دونوں ممالک کی حکومتوں پر اس کا انحصار ہے۔ چین کے خلاف داعش خراسان کے حالیہ اقدامات ان متعدد آپریشنل اور تنظیمی ناکامیوں کا نتیجہ ہیں جو اسے 2025 میں برداشت کرنا پڑی تھیں۔
یہ تنظیم اپنی گذشتہ سال کی کمزوریوں کی تلافی کرنے اور یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ دوبارہ بحال ہو چکی ہے، چین مخالف پروپیگنڈے کا سہارا لے رہی ہے۔ اسی طرح شام اور عراق میں داعش کی نئی سرگرمیوں نے اسے اس قابل بنا دیا ہے کہ وہ افریقہ میں چین کے خلاف اپنی عسکری طاقت کا مظاہرہ کر سکے۔ ایک ایسے وقت میں جب عالمی برادری کی توجہ امریکہ-اسرائیل-ایران جنگ اور روس-یوکرین تنازع پر مرکوز ہے، عالمی دہشت گردی کا خطرہ اب بھی پوری طرح موجود ہے اور بین الاقوامی برادری کی بھرپور توجہ کا متقاضی ہے۔
مصنف ایس راجاراتنام سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز، سنگاپور میں سینیئر ایسوسی ایٹ فیلو ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

