پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے جمعے کو کہا ہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی میں ’انڈین سرپرستی میں سرگرم‘ 22 عسکریت پسند مارے گئے۔
آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 21 اپریل 2026 کو ضلع خیبر میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر ایک مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔
فوج کے مطابق آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے اور سکیورٹی فورسز کی مہارت سے کی گئی کارروائیوں کے نتیجے میں 22 عسکریت پسند مارے گئے جبکہ ان کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا، ’جو علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔‘
وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بیان میں سکیورٹی فورسز کی اس کارروائی پر افسران اور اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ کے غیر متزلزل عزم میں مجھ سمیت پوری قوم سکیورٹی فورسز کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔‘
پاکستان فوج کے بیان کے میں کہا گیا کہ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ ’سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قومی ایکشن پلان کی وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ وژن’عزمِ استحکام‘ کے تحت دہشت گردی کے خلاف بلاامتیاز مہم پوری شدت کے ساتھ جاری رکھیں گے، تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان فوج کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب گذشتہ روز مقامی حکام نے بتایا تھا کہ بلوچستان کے علاقے دریگون میں مائننگ کمپنی نیشنل ریسورسز لمیٹڈ کی سائٹ پر مسلح افراد کے حملے میں ایک ترک شہری سمیت کمپنی کے 10 ملازم جان سے چلے گئے جبکہ واقعے میں دیگر آٹھ افراد زخمی بھی ہوئے۔
مقامی حکام اور پولیس کے مطابق بدھ کی شام درجنوں مسلح افراد نے ضلع چاغی کی تحصیل دالبندین کے علاقے دریگون میں مائننگ کمپنی سائٹ پر مختلف اطراف سے حملہ کیا، جس کے دوران جدید اسلحے کا استعمال کیا گیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے سائٹ پر راکٹ اور بموں سے حملہ کیا۔
بلوچستان میں حالیہ برسوں میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جن میں وہ نہ صرف سکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتے آئے ہیں بلکہ نجی اداروں پر بھی حملے کرتے رہے ہیں، جن کے خلاف پاکستانی فوج اور ریاستی ادارے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
