جنیوا معاہدے کے 38 سال، جب پاکستان ایک ہی عمارت میں افغانستان سے بات کرنے کو تیار نہیں تھا

افغانستان سے متعلق اہم ترین جنیوا معاہدے پر 14 اپریل، 1988 کو سوئٹزرلینڈ میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں دستخط ہوئے تھے، جو سال ہا سال کی اقوام متحدہ کی کوششوں سے ممکن ہوسکا۔

آج کل پاکستان کی امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا چرچا ہے تو کیوں نہ اس معاہدے تک پہنچنے میں درپیس چند مشکلات کا ذکر کر لیں۔

یہ معاہدہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہوا تھا جبکہ امریکہ اور سوویت یونین اس کے ضامن تھے۔

اس کے اہم نکات میں سوویت افواج کا افغانستان سے انخلا، افغان پناہ گزینوں کی واپسی اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت شامل تھے۔

معاہدے کے تحت سوویت فوجوں کا افغانستان سے انخلا اسی سال 15 مئی سے شروع ہوا اور 15 فروری، 1989 میں مکمل ہوا جس سے نو سالہ سوویت قبضے کا خاتمہ ہوا۔

جنیوا مذاکرات میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ڈیاگو کارڈوویز نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا۔ یہ مذاکرات تقریباً چھ سال تک جاری رہے، جن کا آغاز 1982 میں ہوا۔

لیکن یہ کس ماحول میں اور کیسے ہوئے؟ اس پر کچھ روشنی اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل خاویر پیریز دے کوئیار نے اپنی کتاب ’پلگریمیج فار پیس‘ میں ڈالی ہے۔

افغان وزیر خارجہ محمد عبدالوکیل نے 14 اپریل، 1988 کو جینیوا میں سوویت فوجیوں کے افغانستان سے انخلا کے لیے جنیوا معاہدوں پر دستخط کیے، جبکہ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری برائے خارجہ امور ڈیاگو کورڈوویز اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل جاویر پیریز ڈی کوئیار بھی موجود تھے۔

پاکستان کی جانب سے وزیر خارجہ زین نورانی نے دستخط کیے تھے۔

وہ اس وقت افغانستان سے متعلق صورت حال پر سیکریٹری جنرل کے ذاتی نمائندے کے طور پر کام کرتے رہے۔

اس حیثیت میں انہوں نے اسی سال اپریل اور اگست میں پاکستان اور افغانستان کے دورے کیے تاکہ دونوں ملکوں کی قیادتوں سے ملاقات میں مذاکرات کو جاری رکھنے پر اتفاق پیدا کیا جاسکے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ لکھتے ہیں 1982 کے بات چیت کے ابتدائی دنوں میں پاکستان نے افغان حکومت کو تسلیم نہیں کیا تھا لہذا انہوں نے افغان مذاکرات کاروں سے جینیوا معاہدے تک کبھی روبرو بات نہیں کی تھی۔

ایک جگہ وہ کہتے ہیں کہ جنیوا میں مذاکرات کے پہلے دور میں بھی پاکستانی موقف کی وجہ سے ثالثوں کو مشکل درپیش رہی۔

’پاکستانی وفد اس وقت تک اس عمارت میں ہی داخل نہیں ہوتا تھا جب تک افغان وفد وہاں سے چلا نہ جائے۔‘

لیکن پھر 1984 میں اس کا ایک حل نکلا لیا گیا۔ اور وہ یہ تھا کہ جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر میں دونوں ممالک کے وفود کو الگ الگ کمروں میں رکھا جائے گا، بنسبت اس کے لیے ایک آئے اور دوسرا جائے۔

ثالثی کرنے والے ان کمروں کے درمیان شٹل کریں گے۔ اس طرح پاکستان کو اس قسم کے مذاکرات کا کافی تجربہ ہے اور اگر وہ امریکہ اور ایران کو آمنے سامنے لے آیا تھا تو یہ اسلام آباد مذاکرات کی بڑی کامیابی تھی۔

بڑی مشکل اور کئی سالوں کی بھاگ دوڑ کے نتیجے میں جنیوا معاہدے پر دستخط ہوئے لیکن افغانستان کے اندر امن کا سبب نہیں بن سکا۔

افغان مزاحمت یا مجاہدین، نہ تو مذاکرات کے فریق تھے اور نہ جنیوا معاہدے کے، اس لیے انھوں نے معاہدے کی شرائط کو ماننے سے انکار کر دیا جس کے نتیجے میں خونی خانہ جنگی شروع ہوئی۔ 

پیریز دے کوئیار سے فرانسیسی اخبار لی مونڈ کے ایک صحافی نے 1988 میں پوچھا کہ انہوں نے افغان مسئلے پر کیا نتیجہ اخذ کیا تو ان کا جواب تھا ’میں ایمان داری سے جواب دوں گا۔ ہمیں سپر پاروز نے استعمال کیا۔ تاہم اقوام متحدہ نے دونوں کی عزت بچائی۔‘

یعنی دونوں سپر طاقتیں اس وقت اس طویل جنگ سے خود نکلنا چاہتی تھیں لہذا معاہدہ ممکن ہوا۔

اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر عالمی طاقتیں چاہیں تو اقوام متحدہ سے اچھا کام لے سکتیں ہیں۔

آج کل صدر ٹرمپ کی طرح انہیں نظر انداز کرنا درست نہیں۔ اقوام متحدہ ایران امریکہ جنگ میں کہیں بھی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *