|
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع۔ ایران کا آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کے خاتمے تک مذاکرات سے انکار۔ پاکستان کی امریکہ اور ایران کو مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے آمادہ کرنے کی کوششیں۔ لائیو اپ ڈیٹس |
لبنان، اسرائیل جنگ بندی میں تین ہفتے کی توسیع: ڈونلڈ ٹرمپ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اسرائیل اور لبنان نے غیر مستحکم جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع کر دی ہے، ساتھ ہی انہوں نے جلد ہی ایک تاریخی سہ فریقی ملاقات اور ممکنہ امن معاہدے کی امید بھی ظاہر کی۔
امریکی صدر نے دونوں ملکوں کے سفیروں سے ملاقات کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ امن کے قیام کا بہت اچھا امکان موجود ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک آسان کام ہوجانا چاہیے۔‘
ایران کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور ایسے میں ٹرمپ نے لبنان کے لیے امن کے امکانات پر انتہائی پرامید انداز میں بات کی، جب کہ دوسری جانب جان لیوا اسرائیلی حملوں کے بعد حزب اللہ نے نئے راکٹ داغے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اسرائیل اور لبنان، جن کے آپس میں سفارتی تعلقات نہیں ہیں، کے سفیروں سے ملاقات کے دوران صحافیوں کو بتایا ’مجھے لگتا ہے کہ امن کے قیام کا بہت اچھا امکان موجود ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک آسان کام ہوجانا چاہیے۔‘
ٹرمپ نے اعلان کیا کہ جنگ بندی میں تین ہفتے کی توسیع کی جائے گی۔ 14 اپریل کو سفیروں کے درمیان پہلی ملاقات کے بعد ابتدائی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا جس کی مدت اتوار کو ختم ہونا تھی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دوسری جانب امریکی صدر جمعرات کو کہا کہ امریکہ کو ایران کے ساتھ معاہدے کی کوئی جلدی نہیں ہے اور ایران کے لیے ’وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔‘ جب کہ تیسرا امریکی طیارہ بردار بحری جہاز مشرق وسطیٰ پہنچ گیا ہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’میرے پاس دنیا بھر کا وقت ہے، لیکن ایران کے پاس نہیں۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی فوج تباہ ہو چکی ہے اور ’ان کے رہنما اب ہمارے درمیان نہیں رہے، ناکہ بندی انتہائی سخت اور مضبوط ہے اور، یہاں سے، حالات صرف بدتر ہی ہوں گے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی تہذیب کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی اپنی سابقہ دھمکیوں کے بعد جمعرات کو ایران پر جوہری ہتھیار سے حملہ کرنے کے امکان کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’نہیں، میں اسے استعمال نہیں کروں گا۔ میں جوہری ہتھیار کیوں استعمال کروں گا؟ جب ہم نے انتہائی روایتی انداز میں اس کے بغیر ہی انہیں تباہ کر دیا ہے۔ کسی کو بھی کبھی جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔‘
