یہ کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ مغربی بنگال کی انتخابی مہم میں بھارتیہ جنتا پارٹی خود کو اتنی مجبور محسوس کرے گی کہ وہ ہاتھوں میں زندہ مچھلیاں لے کر یا ہوٹلوں میں بیٹھ کر مچھلی کھانے کی انتخابی نمائش کرے گی۔
واضح رہے مچھلی بنگالیوں کی اہم غذا ہے مگر انتہا پسند ہندو مسلمانوں کے گوشت کھانے کی مخالفت میں مچھلی کھانے سے بھی گریز کرتے ہیں۔
انڈیا کی پانچ ریاستوں اور ایک یونین ٹریٹری میں ووٹ ڈالنے کا ابھی ایک اور مرحلہ باقی ہے جبکہ بیشتر رائے عامہ کے جائزوں میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ تامل ناڈو، کیرالہ اور مغربی بنگال میں بی جے پی کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
بی جے پی نے انتہائی سخت انتخابی مہم چلا کر اپوزیشن اور مقامی سیاسی جماعتوں کا صفایا کرنے کا عہد جتایا ہے جیسا کہ اس نے کئی ریاستوں میں کانگریس کی سرکاریں ختم کی ہیں۔
ہندوتوا کی تمام لیڈرشپ خاص طور پر مغربی بنگال میں موجود رہی، ترنمول کانگریس کی سربراہ اور وزیراعلیٰ ممتا بینرجی کو ہر مجلس اور ریلے میں شدید نشانہ بنایا۔
غیر شائستہ زبان استعمال کی اور ہندو مسلم بحث کو اہم موضوع بنا کر انتہا پسند ہندوؤں کو خوب بھڑکایا، مقامی مسلم آبادی کو بار بار ’گھس پیٹھیے‘ بتا کر مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کو مشتعل کرنے کی حتی الامکان کوشش کی۔
مغربی بنگال میں مسلمانوں کی تقریباً 27 سے 30 فیصد آبادی ہے اور کئی اضلاع میں اکثریت ہونے کے باعث مسلم امیدوار کامیاب ہو جاتے ہیں۔
انتخابی کمیشن نے تقریباً 90 لاکھ ووٹروں کو نا اہل کر دیا ہے جن میں بیشتر مسلمان بتائے جاتے ہیں جس کا براہ راست اثر ممتا بینرجی کی انتخابی نشستوں پر پڑ سکتا ہے۔
ترنمول کانگریس نے کل 294 نشستوں پر 291 امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے جن میں 47 مسلم امیدوار ہیں، 52 خواتین اور 95 پسماندہ طبقوں سے ہیں۔
بی جے پی نے کسی مسلمان کو ٹکٹ نہیں دیا حالانکہ پارٹی کے ریاست میں دو لاکھ رجسٹرڈ مسلم کارکن بتائے جاتے ہیں۔
صحافی ارون کمار کہتے ہیں کہ بنگال کے بیشتر مسلمان کانگریس کے بعد ترنمول کو ووٹ دیتے ہیں، گو کہ گذشتہ انتخابات میں چار فیصد مسلمانوں نے بی جے پی کو بھی ووٹ دیا تھا مگر انتخابات سے پہلے بیشتر مسلمانوں کو بنگلہ دیشی بتا کر ووٹ سے محروم کر دیا گیا۔
ہندو ووٹ کو اپنی جانب مائل کرنے پر کافی محنت اور سرمایہ لگایا گیا اور سینکڑوں مسلمانوں کو غیر ملکی قرار دے کر ملک بدر کر دیا گیا۔ بنگالی آبادی انڈیا کی دوسری ریاستوں کے مقابلے ذرا مختلف ہے، ان کی سیکولر سوچ گہری ہے اور ہندو مسلم تفریق پھیلانے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے۔
کلکتہ کے شہری روشن دین کا خیال ہے کہ جس طرح آخری لمحوں میں بی جے پی نے بہار کی عورتوں کے کھاتوں میں 10 ہزار روپے ڈال کر ان کا ووٹ حاصل کیا تھا۔
خدشہ ہے کہ ایسا ہی بنگال کے بعض علاقوں میں بھی کیا گیا ہے اور پارلیمان میں عورتوں کا ریزرویشن بل بھی اسی شاخسانے کا حصہ تھا جو کامیاب نہیں ہوا۔
عوام نے اس کا خوب مذاق اڑایا کہ جس پارٹی نے پورے ملک میں گوشت کھانے کے خلاف بڑی سخت مہم چلائی ہے اور مشتبہ طور پر کئی مسلمانوں کو گائے ذبح کرنے کے الزام میں زدوکوب کر کے قتل بھی کر دیا ہے، وہیں بنگال میں مچھلیاں کھا کھا کر بنگالیوں کو یہ پیغام دینے کی سعی کی ہے کہ وہ ان کی طرح مچھلیاں کھانے کے شوقین ہیں۔
لکھنؤ کے سماجی کارکن ہری کشن کہتے ہیں کہ بی جے پی اپنے فائدے کے لیے گائے بھی قربان کرے گی جس کو یہ اپنی ’ماتا‘ مانتے ہیں، ان کی عقل شاید کہتی ہے کہ مچھلی گوشت نہیں سبزی ہے۔
اب مچھلیاں کھانے کا فن دل جیتنے کا کام کر گیا یا نہیں، اس کا پتہ چار مئی کو لگے گا جب انتخابی نتائج سامنے آئیں گے۔
خیال ہے کہ تامل ناڈو میں بھی بی جے پی کا کوئی پتا کام نہیں کر گیا ہے جہاں اس نے دلت یا نچلی ذاتوں کی تفریق کا خاصا ہوا کھڑا کیا تھا۔
واضح رہے تامل ناڈو میں ذات پات کی تفریق اور نچلی ذاتوں کے قبیلوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک برتنے کا حساس مسئلہ ہے جو انتخابی مہم میں بڑی اہمیت کا حامل رہتا ہے۔
معمولی زیر زبر سے پارٹی کو نقصان پہنچ سکتا ہے لیکن بی جے پی نے اس بار موجودہ حکمران پارٹی دراوڑ منیترا کازیگم (ڈی ایم کے) اور اس کی حلیف کانگریس کے خلاف رشوت ستانی، عورتوں کی غیر محفوظ صورت حال اور عوام کو بنیادی سہولیات فراہم نہ کرنے کے کئی الزام تراشے، جس کا کچھ اثر تامل جماعت پر اس لیے بھی پڑ سکتا ہے۔
کیونکہ دوسری بڑی مقامی جماعت اے آئی اے ڈی ایم کے بی جے پی کی حلیف پارٹی ہے جو کئی بار ریاستی انتخابات میں اکثریت حاصل کرتی رہی ہے۔
البتہ اس بار تمل فلموں کے معروف نوجوان ایکٹر سی جوزف وجے میدان میں تیسری پارٹی کے طور پر اترے ہیں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد ان کی گرویدہ ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مبصرین کا خیال ہے کہ وجے بی جے پی کی حلیف پارٹی کا ووٹ چھین کر شاید دوسرے نمبر پر آ سکتے ہیں۔ تامل ناڈو میں مقامی پارٹی الیکشن جیتی رہی ہے اور جو پارٹی علاقائی وقار، زبان، ثقافت اور تہذیب کو ملحوظِ خاطر رکھتی ہے اس پارٹی کو عوام پسند کرتے ہیں۔
چند ماہ پہلے جب مرکزی حکومت نے تمام ریاستوں میں ہندی کو سرکاری کام کاج میں زیادہ استعمال کرنے پر زور دیا تو تامل ناڈو میں اس کے خلاف شدید ردعمل ہوا تھا اور راتوں رات ہندی زبان میں لکھے تمام بل بورڈز ہر سڑک اور دفتر سے ہٹائے گئے۔
جب ابھی چند روز پہلے نئی حلقہ بندی کا بل پارلیمان میں پیش کیا گیا تو وزیراعلیٰ ایم کے سٹالن نے سڑک پر آ کر اس بل کو جلایا۔
واضح رہے تامل ناڈو کے بیشتر تامل، علیحدگی پسند تحریک کی حمایت کرتے رہے ہیں جس کا زور سری لنکا میں تاملوں کی خانہ جنگی کے دوران فوجی کارروائی میں لیڈرشپ کی ہلاکت کے بعد کم پڑ گیا۔
جنوبی ریاستوں کو مرکز سے ہمیشہ شکایت رہی ہے کہ دہلی میں ہمیشہ شمالی انڈیا کی برتری ہے حالانکہ ملک کے خزانے میں سب سے زیادہ پیسہ جنوب سے آتا ہے۔
بی جے پی نے بڑی محنت سے جنوب میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کی مگر ابھی اس کا یہ خواب پورا نہیں ہو رہا ہے اور شاید حکومت بنانے کی آرزو بھی ابھی پوری نہیں ہو گی۔
لیکن اگر بنگال میں بی جے پی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو 2029 میں پارلیمانی انتخابات میں پھر یہی پارٹی جیت سکتی ہے کیونکہ اتر پردیش، مہاراشٹرا اور بہار کے بعد مغربی بنگال میں پارٹی کی برتری ان کے لیے یہ کام آسان بنا دے گی۔
کیا انتخابی مصلحتیں نظریات سے بڑی ہوتی ہیں؟ انڈیا کے انتخابات میں بی جے پی کی ’مچھلی ڈپلومیسی‘ نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ جس پارٹی نے گوشت خوری کے خلاف مہم چلائی، وہی آج بنگال میں مچھلیاں کھا کر ووٹ مانگ رہی ہے۔
نوٹ یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
