امریکی افواج کا 36 گھنٹوں میں ایران کی سمندری تجارت ’مکمل روکنے‘ کا دعویٰ

امریکہ اور ایران کے درمیان سیز فائر جاری۔

دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں ہی ہونے کا امکان۔

امریکی فوج کا ایران کی سمندر میں تجارت کو مکمل بند کرنے کا دعویٰ۔

لائیو اپ ڈیٹس


ایران کی سمندر میں تجارت مکمل روک دی ہے: امریکی فوج

امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے ناکہ بندی کے ذریعے ایران کی سمندر سے تجارت کو مکمل بند کر دیا ہے۔

امریکی فوج نے بدھ کی صبح ایک بیان میں کہا کہ ’امریکی فورسز نے سمندر میں ناکہ بندی کے ذریعے ایران میں داخل ہونے اور باہر نکلنے والی اکنامک تجارت کو مکمل طور پر روک دیا ہے۔‘

سینٹرل کمانڈ کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کے مطابق کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کا کہنا ہے کہ ’ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی مکمل طور پر نافذ کر دی گئی ہے اور امریکی افواج مشرقِ وسطیٰ میں سمندری برتری برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

’اندازاً ایران کی 90 فیصد معیشت سمندری بین الاقوامی تجارت پر منحصر ہے۔ ناکہ بندی کے نفاذ کے 36 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں امریکی افواج نے ایران کے اندر اور باہر سمندری راستے سے ہونے والی معاشی تجارت کو مکمل طور پر روک دیا ہے۔‘


ایرانی بندر گاہوں کی ناکہ بندی میں گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز بھی شامل: سینٹ کام

امریکی سینٹرل کمانڈ نے بدھ کو بتایا کہ امریکی بحریہ کے گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز ان وسائل میں شامل ہیں جو ایرانی بندرگاہوں کو متاثر کرنے والی ناکہ بندی کی کارروائی انجام دے رہے ہیں۔

بیان کے مطابق یہ ناکہ بندی ان تمام ممالک کے جہازوں پر بلا امتیاز نافذ کی جا رہی ہے جو ایران کے ساحلی علاقوں یا بندرگاہوں میں داخل ہو رہے ہیں یا وہاں سے روانہ ہو رہے ہیں۔

’ایک عام ڈسٹرائر پر 300 سے زائد ملاح (سیلرز) پر مشتمل عملہ ہوتا ہے، جو سمندری جارحانہ اور دفاعی کارروائیاں انجام دینے میں اعلیٰ تربیت یافتہ ہوتے ہیں۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *