ٹرمپ کو چین کے دورے سے کیا حاصل ہوا؟

چین کے جنوب مغربی علاقے میں واقع شہر چونگ چنگ چند برس پہلے تک مغربی چین کا ایک نسبتاً غیر معروف صنعتی شہر سمجھا جاتا تھا، مگر آج یہی شہر ایک وسیع و عریض جدید میٹروپولیس میں تبدیل ہو چکا ہے، جہاں دنیا بھر سے سیاح اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز اس کی حیرت انگیز تعمیرات، تہہ در تہہ انفراسٹرکچر اور انجینیئرنگ کے غیر معمولی کارنامے دیکھنے آ رہے ہیں۔

2017 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آخری دورۂ چین کے بعد سے چین میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ بیجنگ نے بڑے ترقیاتی منصوبوں اور نئی اقتصادی شراکت داریوں کے ذریعے خود کو عالمی سطح پر امریکہ کے ہم پلہ قوت کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔ اگرچہ چین کو اب بھی کئی داخلی چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم چینی قیادت اپنے عالمی کردار کے حوالے سے پہلے سے کہیں زیادہ پراعتماد دکھائی دیتی ہے، جبکہ امریکہ صنعتی زوال، بیرونی اثر و رسوخ اور داخلی شناخت کے بحران جیسے مسائل سے دوچار ہے۔

اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس ہفتے دوبارہ بیجنگ پہنچے، جہاں انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ مذاکرات میں تجارت کو مرکزی حیثیت دی۔ ٹرمپ کی کوشش تھی کہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل کوئی ٹھوس کامیابی حاصل کی جائے تاکہ ان کی مقبولیت میں اضافہ ہو سکے۔ تاہم سفارتی مبصرین کے مطابق اس ملاقات میں چین زیادہ مضبوط پوزیشن میں نظر آیا، جبکہ ٹرمپ کسی بڑے معاہدے یا پیش رفت کے بغیر واپس لوٹے۔

امریکی وفد بدھ کی شب بیجنگ پہنچا، جس کے ہمراہ امریکہ کی بڑی کاروباری شخصیات بھی موجود تھیں۔ ان میں ایپل کے ٹم کک، این ویڈیا کے جینسن ہوانگ، بوئنگ کے کیلی اورٹبرگ اور ٹیسلا کے ایلون مسک شامل تھے۔ وفد کا مقصد تجارتی اختلافات کو کم کرنا اور مختلف خارجہ پالیسی معاملات پر چین کی حمایت حاصل کرنا تھا۔

ٹرمپ کے 2017 کے دورے کے برعکس، جب چینی قیادت نے ان کا شاندار استقبال کیا تھا، ممنوعہ شہر تک خصوصی رسائی دی گئی تھی اور 250 ارب ڈالر سے زائد کے معاہدوں اور یادداشتوں کا اعلان کیا گیا تھا، اس بار منظر نامہ مختلف تھا۔ 2026 کے اس دورے میں کسی بڑے تجارتی معاہدے کا اعلان سامنے نہیں آیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس سربراہی ملاقات کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کو مستحکم رکھنا تھا، مگر کئی اہم معاملات اب بھی حل طلب رہے۔ سب سے اہم مسئلہ محصولات یعنی ٹیرف کا تھا، جس پر دونوں رہنماؤں کے درمیان کوئی واضح گفتگو نہیں ہوئی۔

2016 میں امریکہ سب سے زیادہ تجارت چین کے ساتھ کرتا تھا اور چینی مصنوعات پر اوسط امریکی ٹیرف صرف 3 فیصد تھا، جس سے امریکی صارفین کو سستی اشیا دستیاب رہتی تھیں۔ تاہم ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں چینی مصنوعات پر بھاری درآمدی ٹیکس عائد کیے اور امریکی کمپنیوں کو پیداوار چین سے منتقل کرنے کی ترغیب دی۔

اب صورتحال یہ ہے کہ اگرچہ گزشتہ سال عارضی طور پر تین ہندسوں تک پہنچنے والے ٹیرف میں کمی آئی ہے، لیکن پیٹرسن انسٹیٹیوٹ فار انٹرنیشنل اکنامکس کے مطابق چینی مصنوعات پر امریکی ٹیرف اب بھی تقریباً 48 فیصد ہے۔ گزشتہ اکتوبر دونوں ممالک کے درمیان ایک عارضی معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت امریکہ نے ٹیرف میں نرمی کی جبکہ چین نے نایاب معدنیات یعنی “ریئر ارتھ” کی فراہمی جاری رکھنے پر رضامندی ظاہر کی، تاہم یہ معاہدہ نومبر میں ختم ہو رہا ہے۔

جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ آیا اس معاہدے میں توسیع پر بات ہوئی تو انہوں نے مختصر جواب دیا کہ ’ہم نے ٹیرف پر بات نہیں کی۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بروکنگز انسٹیٹیوشن سے وابستہ خارجہ امور کی ماہر پیٹریشیا کم کے مطابق اگر ٹیرف معاہدے میں توسیع ہو جاتی تو یہی اس سربراہی ملاقات کی بنیادی کامیابی سمجھی جاتی۔

دوسری جانب ’ریئر ارتھ‘ معدنیات کی فراہمی کا مسئلہ بھی حل نہ ہو سکا۔ چین نے اپریل 2025 میں امریکی ٹیرف کے جواب میں ان معدنیات کی برآمدات پر پابندیاں عائد کی تھیں، جس سے امریکی چِپ ساز کمپنیوں اور فضائی صنعت کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

چین دنیا کی تقریباً 90 فیصد پراسیس شدہ ریئر ارتھ معدنیات اور میگنیٹس تیار کرتا ہے۔ یہ معدنیات جدید ٹیکنالوجی، الیکٹرک گاڑیوں، ریڈار سسٹمز، ایف-35 جنگی طیاروں، ٹوماہاک میزائلوں، آبدوزوں اور سیمی کنڈکٹرز میں انتہائی اہم سمجھی جاتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ماضی میں چین شاید امریکہ کو ان قیمتی معدنیات کی فراہمی روکنے سے گریز کرتا، مگر اب بیجنگ اس پوزیشن میں ہے کہ بغیر فوجی کارروائی کے بھی واشنگٹن پر دباؤ ڈال سکے۔ اگرچہ امریکہ اپنی مقامی سپلائی چین قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اب تک وہ بھاری ریئر ارتھ معدنیات کو مقامی سطح پر پراسیس کرنے کی مکمل صلاحیت حاصل نہیں کر سکا۔

دورے کے دوران امریکی ٹیکنالوجی اور کاروباری حلقوں کو بھی کوئی بڑی کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ اگرچہ ممکنہ معاہدوں کی امیدیں برقرار ہیں، مگر سب سے زیادہ زیرِ بحث رہنے والا معاملہ بوئنگ طیاروں کی خریداری کا تھا، جو توقعات سے کم نکلا۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ چین 200 بوئنگ طیارے خریدے گا، جبکہ مارکیٹ میں تقریباً 500 طیاروں کی توقع کی جا رہی تھی۔ بعد ازاں ٹرمپ نے کہا کہ چین ممکنہ طور پر 750 طیارے خرید سکتا ہے، مگر اس حوالے سے کوئی حتمی معاہدہ سامنے نہیں آیا۔ اس اعلان کے بعد بوئنگ کے حصص میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔

اسی طرح این ویڈیا کی جدید H200 مصنوعی ذہانت چپس کی چین کو فروخت کے حوالے سے بھی کوئی پیش رفت نہ ہو سکی، حالانکہ کمپنی کے سربراہ جینسن ہوانگ آخری لمحے میں وفد میں شامل ہوئے تھے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ زرعی مصنوعات کی فروخت سے متعلق کچھ معاہدے طے پائے ہیں اور مستقبل کی تجارتی سرگرمیوں کے لیے طریقہ کار پر بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ دونوں ممالک نے 30 ارب ڈالر مالیت کی غیر حساس اشیا کی فہرست تیار کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

ٹرمپ نے اس امکان کو بھی نمایاں کیا کہ چین امریکہ سے تیل خرید سکتا ہے۔ امریکی وزیر توانائی کے مطابق چین نے امریکی تیل خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم چینی وزارت خارجہ نے اس حوالے سے کوئی واضح مؤقف نہیں دیا۔

چین میں مقیم ایک سینئر امریکی کاروباری شخصیت نے فنانشل ٹائمز سے گفتگو میں کہا کہ اگرچہ وسیع تجارتی معاہدے کاروباری برادری کے لیے خوش آئند ہوں گے، لیکن کمپنیوں کو اب بھی ٹائم لائنز اور ریئر ارتھ معدنیات کے مسئلے پر واضح یقین دہانی درکار ہے۔

صدر شی جن پنگ نے امریکی کاروباری رہنماؤں سے خطاب میں کہا کہ چین کے دروازے کاروبار کے لیے “مزید وسیع ہوتے جائیں گے”، تاہم اس دورے میں ایسی کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی جسے واشنگٹن اپنی بڑی سفارتی یا اقتصادی کامیابی قرار دے سکے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *