دو امریکی حکام اور ایک باخبر ذرائع کے مطابق، امریکہ اور ایران ایک بار پھر براہِ راست مذاکرات پر غور کر رہے ہیں تاکہ اگلے ہفتے جنگ بندی کے خاتمے سے پہلے چھ ہفتوں سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ان تینوں کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے نئے دور کے حوالے سے بات چیت جاری ہے، جبکہ ثالثی کرنے والے ممالک میں سے ایک کے سفارت کار کا کہنا ہے کہ تہران اور واشنگٹن اس پر متفق ہو چکے ہیں۔
حساس سفارتی مذاکرات پر بات کرنے کے لیے چاروں افراد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کی۔
سفارت کار اور امریکی حکام کے مطابق یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اسی سطح کے وفود اس ممکنہ دور میں شرکت کریں گے یا نہیں۔
ان کے مطابق اسلام آباد (پاکستان) ایک بار پھر میزبان مقام کے طور پر زیر غور ہے۔ امریکی حکام نے یہ بھی کہا کہ جنیوا بھی ایک ممکنہ مقام ہو سکتا ہے، اور اگرچہ مقام اور وقت کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا، لیکن مذاکرات جمعرات کو ہو سکتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس سے تاحال اس بارے میں کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’دوسری جانب سے ہم سے رابطہ کیا گیا ہے اور وہ ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔‘
