ایران امریکہ مذاکرات: اسلام آباد میں سکیورٹی سخت، ریڈ زون غیر متعلقہ افراد کے لیے بند

اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان اہم سفارتی مذاکرات سے قبل سکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گیے ہیں اور ریڈ زون کو غیر متعلقہ افراد کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان اہم مذاکرات آج یعنی جمعے سے شروع ہونے کا امکان ہے۔

پاکستان کی کوششوں سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے دونوں ممالک کو براہ راست مذاکرات کے لیے 10 اپریل کو اسلام آباد مدعو کیا تھا۔

امریکہ اور ایران دونوں نے تصدیق کہ ہے کہ ان کے وفود پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کریں گے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق مذاکرات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر حصہ لیں گے۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ان مذاکرات کے لیے ایک خصوصی وفد پاکستان بھیجنے کی تصدیق ہے جس کی قیادت سپیکر پارلیمان محمد باقر قالیباف کریں گے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت سکیورٹی و دیگر انتظامات سے متعلق ایک خصوصی اجلاس ہوا ہے جس میں مذاکرات کے حوالے سے تیاریوں اور سکیورٹی پلان کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری، وفاقی سیکرٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد پولیس، رینجرز سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔

پاکستان کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں ریڈ زون کو مکمل سیل کرنے اور صرف متعلقہ افراد کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس ضمن میں وزارت داخلہ میں کنٹرول روم بھی قائم کر دیا گیا ہے۔

اس سے قبل جمعرات کو پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خطے میں پائیدار امن کے حصول کے لیے پاکستانی ثالثی کی کوششوں میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور امن اور جنگ بندی کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیراعظم آفس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ ’وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے پرامن طریقے سے مذاکرات کے ذریعے حل تک پہنچنے کی خاطر دونوں فریقوں کو سہولت فراہم کرنے‘ اور ’ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔‘

بیان میں بتایا گیا کہ وزیراعظم نے ’اس عمل میں شامل فریقین کے عزم کی تعریف کی‘ اور ’امن کے حصول میں ان کی کامیابی کی خواہش کی۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *