فیفا ورلڈ کپ فائنل کے ٹکٹس اوپن مارکیٹ میں 11 ہزار ڈالر تک میں فروخت

فٹ بال ورلڈ کپ 2026 کے فائنل کے ٹکٹس کے لیے فیفا 11 ہزار ڈالر (تقریباً ساڑھے 30 لاکھ پاکستانی روپے) تک وصول کر رہا ہے جبکہ ٹکٹس کی فروخت کے اگلے مرحلے کے آغاز سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیادہ ڈیمانڈ والی نشستوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

گذشتہ دسمبر میں فیفا پر اس وقت ’دھوکہ دہی‘ کا الزام عائد کیا گیا تھا، جب ورلڈ کپ فائنل کے سستے ترین ٹکٹس کی قیمت ’سپورٹر ویلیو ٹئیر‘ میں چار ہزار ڈالر مقرر کی گئی تھی جبکہ سب سے مہنگے یعنی ٹاپ کیٹیگری کی ٹکٹس کی قیمت آٹھ ہزار 700 سو ڈالر مقرر کی گئی۔

یہ ٹکٹس ان قیمتوں پر کوالیفائی کرنے والی ٹیموں کے شائقین یا پارٹیسپیٹنگ ممبر ایسوسی ایشنز (پی ایم ایز) کو فراہم کیے گئے تھے۔

بدھ کو ورلڈ کپ پلے آف کے اختتام اور 48 ٹیموں کے ڈرا مکمل ہونے کے بعد فیفا نے ’لاسٹ منٹ سیلز فیز‘ کھول دیا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس اور بی بی سی کے مطابق ورلڈ کپ فائنل کے لیے کیٹیگری تھری (یعنی سستے ترین) ٹکٹس کی قیمت اوپن مارکیٹ میں بڑھ کر پانچ ہزار 800 ڈالر ہو گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس عمل کو تکنیکی خرابی کا بھی سامنا رہا کیونکہ ’لاسٹ منٹ سیلز فیز‘ کے آغاز کے بعد کئی میچز کے ٹکٹس دستیاب ہی نہیں تھے۔

فیفا کی ٹکٹنگ ویب سائٹ تک رسائی حاصل کرنے والے شائقین کو طویل انتظار کا بھی سامنا کرنا پڑا جبکہ کچھ صارفین کو اوپن مارکیٹ سیلز کے بجائے ’پی ایم اے لیٹ کوالیفائر سپورٹرز سیلز فیز‘ پر منتقل کر دیا گیا۔

اس موقعے پر فیفا نے تصدیق کی کہ ٹکٹنگ سسٹم درست طریقے سے کام نہیں کر رہا۔ فیفا کا یہ بھی کہنا تھا کہ تمام باقی ماندہ ٹکٹس ایک ساتھ فروخت کے لیے دستیاب نہیں کیے گئے بلکہ انہیں مرحلہ وار جاری کیا جائے گا۔

فٹ بال سپورٹرز ایسوسی ایشن نے ٹکٹوں کی ’غیر معقول‘ قیمتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاریخ کا مہنگا ترین ورلڈ کپ بن چکا ہے، جہاں میچ ٹکٹس سے لے کر سفر اور رہائش تک کے اخراجات شائقین کے لیے بہت زیادہ ہیں اور یہ مسئلہ صرف انگلینڈ ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے مداحوں کو درپیش ہے۔

جنرل سیل میں آنے والے ٹکٹس ڈائنامک پرائسنگ کے تحت فروخت ہوں گے، جس کے باعث مقبول ٹیموں اور اہم میچز کے ٹکٹس مزید مہنگے ہو جائیں گے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فیفا اپنی ری سیل مارکیٹ بھی چلائے گا، جہاں فروخت کنندگان میکسیکو کے علاوہ امریکہ اور کینیڈا میں ٹکٹس کو اصل قیمت سے کئی گنا زیادہ پر فروخت کرسکیں گے جب کہ فیفا اس پر 30 فیصد تک کمیشن بھی وصول کرے گا۔

دسمبر میں، جب یہ رپورٹ سامنے آئی کہ انگلینڈ کے شائقین کو اپنی ٹیم کو فائنل تک فالو کرنے کے لیے صرف ٹکٹس پر ہی پانچ ہزار پاؤنڈ تک خرچ کرنا پڑ سکتے ہیں، تو فیفا نے اعلان کیا تھا کہ ہر قومی فیڈریشن کو اپنے سب سے زیادہ وفادار شائقین کے لیے 60 ڈالر کے کچھ ٹکٹس فراہم کیے جائیں گے، جو ہر میچ کے لیے تقریباً 400 سے 700 یا شائقین کی کل تعداد کا 10 فیصد ہو سکتے ہیں۔

فٹ بال سپورٹرز یورپ اور یورو کنزیومرز نے یورپین کمیشن میں اس حوالے سے باضابطہ شکایت بھی دائر کی ہے، جس میں فیفا کی ’جارحانہ اور استحصال پر مبنی ٹکٹنگ پالیسی‘ اور ڈائنامک پرائسنگ پر اعتراض اٹھایا گیا ہے۔

فیفا نے ٹکٹ قیمتوں کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ 2026 ورلڈ کپ کے لیے اپنایا گیا پرائسنگ ماڈل بڑے کھیلوں اور تفریحی ایونٹس میں رائج مارکیٹ طریقہ کار کے مطابق ہے، جس میں فٹبال بھی شامل ہے۔

فیفا کے بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ ٹکٹوں کی سیکنڈری مارکیٹ کے مختلف قانونی طریقہ کار کی عکاسی بھی کرتا ہے اور فیفا کی توجہ اس بات پر ہے کہ موجودہ اور نئے شائقین کے لیے کھیل تک منصفانہ رسائی یقینی بنائی جائے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *