پاکستانی معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت

ہمارے ملک میں عدم برداشت، نفرت، غصہ اور ڈھٹائی بڑھتی جا رہی ہے۔ لوگ اپنے علاوہ دوسروں کو کچھ نہیں سمجھتے، ان کی بات یا اختلاف کو بری طرح رد کر دیتے ہیں۔

پہلے تو علمی، ادبی اور سماجی مباحثے اور مذاکرے ہوا کرتے تھے۔ لوگ اختلافِ رائے پر چپ ہو جاتے تھے، دوسرے کی ٹھیک بات کو مان لیتے تھے اور لڑائی سے اجتناب کرتے تھے۔

مگر اب کے لوگ ایک دوسرے کی بات سننے کو تیار نہیں ہیں۔ سب ہی خود کو ارسطو سمجھتے ہیں یا سقراط و بقراط کے لیول پر پہنچ گئے ہیں۔

عدم برداشت اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ لوگ معمولی بات یا عام سے اختلاف پر گالی گلوچ اور مارپیٹ تک پر اتر آتے ہیں۔

چاہے ملک کی شاہراہیں ہوں کہ کوئی حادثہ ہو جائے، لوگ ایک دوسرے کا گریبان پکڑ لیتے ہیں، یا پھر سوشل میڈیا ہو جہاں نظریاتی اختلاف پر مخالف کے گھر والوں کی تصاویر تک لگا کر ان کی کردار کشی کی جاتی ہے۔

بات مارپیٹ، جھگڑے، قطع تعلق اور بلاک تک چلی جاتی ہے۔ چاہے وہ طاقت کے ایوان ہوں، وہاں قانون ساز بھی عدم برداشت پر دست و گریبان ہو جاتے ہیں۔

بعض اوقات خاندانوں میں بھی ایسا ہوتا ہے کہ لوگ سیاسی یا عالمی مسائل پر لڑ کر ایک دوسرے سے قطع تعلق کر لیتے ہیں۔ خاص کر مذہبی بنیادوں پر ہونے والے اختلاف بہت مہنگے پڑتے ہیں، پھر ساری زندگی کے لیے ناطہ توڑ لیا جاتا ہے۔

جب ان میں سے کوئی ناراض رشتہ دار دنیا سے چلا جائے تو اکثر ایسے لوگ، جو ساری زندگی ناراض رہے ہوتے ہیں، میت میں اونچا اونچا روتے ہوئے کہتے ہیں کہ جانے والا بہت اچھا تھا جبکہ یہی وہ شخص ہوتا ہے جس سے ساری زندگی رابطہ نہیں رکھا جاتا۔

ذرا سے اختلاف پر لڑائی اور پھر ناطہ توڑ دیا جاتا ہے۔

اکثر لوگ چھوٹے چھوٹے اختلافات کی وجہ سے ساری زندگی غمی خوشی میں نہیں ملتے اور ایک دوسرے کا جینا حرام رکھتے ہیں، پھر فوتگی پر رونے آ جاتے ہیں۔

اسی طرح عائلی معاملات میں لوگ ایک دوسرے کو سپیس نہیں دیتے اور ایک دوسرے کا جینا مشکل کر دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں علیحدگی اور طلاق کو معیوب سمجھا جاتا ہے اور ایک برے رشتے میں بندھے رہنے پر جوڑے کو مجبور رکھا جاتا ہے۔

اگر تعلق ٹوٹ جائے تو ایک دوسرے کا پیچھا چھوڑ دینا چاہیے، لیکن ہمارے ہاں وقار سے الگ ہونے کا رواج ہی نہیں۔ لوگ اسے عزت و غیرت کا معاملہ بنا لیتے ہیں۔ علیحدگی، طلاق یا بریک اپ پر ایک دوسرے کو قتل تک کر دیتے ہیں۔

صرف رمضان اور عید پر ہونے والے واقعات دیکھیں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

غربت بہت ہے، تعلیم کی کمی ہے اور مردانہ تفاخر زیادہ ہے جس کی وجہ سے ایسے واقعات ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کی جنگ کی وجہ سے غیر یقینی کی صورت حال ہے، ملک افواہوں کی زد میں ہے۔ جرائم بڑھ رہے ہیں کیونکہ غربت بڑھ رہی ہے۔ توہم پرستی، جادو، غلط رسومات اور دین سے دوری بھی ان جرائم کے پیچھے کارفرما ہے۔

مارچ میں سرگودھا میں ایک نہایت دلخراش واقعہ پیش آیا۔

ایک شخص نے کلہاڑی کے وار کر کے اپنی بیوی اور بچوں کو قتل کر دیا۔ ایک کمرے کے اس مکان کی غربت صاف نظر آ رہی تھی۔

مگر ایک پوسٹر پر میری آنکھیں مرکوز ہو گئیں؛ ان بچوں نے اپنے والد کی محبت میں دل والا پوسٹر بنا رکھا تھا۔

پھر بھی سفاک باپ کو ان پر ترس نہ آیا، اور مرنے والے بچوں کی عمریں صرف 1 سے 16 سال کے درمیان تھیں۔ آخر ایسا کیا ہوا کہ گھر کا کفیل اپنے ہی گھر والوں کا دشمن بن گیا؟

پھر ایک اور دلخراش واقعہ ہوا جب ایک ٹک ٹاکر کو اس کے شوہر نے دن دہاڑے گولی مار کر قتل کر دیا اور بعد ازاں خودکشی کر لی۔

اگر دونوں کے درمیان کوئی اختلاف تھا تو الگ ہو جاتے، لیکن ایسا نہ ہوا۔ دو جانیں چلی گئیں اور جس طرح سے گئیں وہ ہولناک ہے۔

یہ سب سی سی ٹی وی پر ریکارڈ ہوا اور وہاں کوئی موجود نہیں تھا جو انہیں روکتا۔ صرف دو چھوٹے بچے تھے جنہوں نے یہ منظر دیکھا۔ یہ لمحات اب ساری زندگی ان کے ذہن پر نقش رہیں گے۔

اسی طرح عید پر خیبر پختونخوا سے بہت سے گروپ پنجاب گھومنے آتے ہیں۔

وہ ایک جیسے کپڑے پہنے ہوتے ہیں، شور شرابا کرتے ہیں اور موسیقی پر ناچتے ہیں۔

مجھے تو یہ بے ضرر لگتے ہیں، لیکن بہت سے لوگوں نے الزام عائد کیا کہ یہ پارکس میں فیملیز کو تنگ کرتے ہیں۔

ان میں ایک نوجوان کچرے کے ڈبے کے ساتھ جھولا لے رہا تھا، جس پر کئی لوگوں نے نسلی تعصب کا مظاہرہ کیا اور اس کی رنگ، نسل اور قومیت کو نشانہ بنایا۔

اگر ہمارے ملک کی اشرافیہ نے ان نوجوانوں کو سہولیات فراہم کی ہوتیں، کھیلنے کے لیے گراؤنڈ دیے ہوتے تو وہ کچرے کے ڈبے پر جھولے نہ لے رہے ہوتے۔

اسی طرح عدم برداشت کی ایک اور مثال سامنے آئی جب ایک نجی چینل سے غلطی سے اسرائیل کے ایک فرد کے لیے ’شہید‘ کا لفظ چل گیا۔

انہوں نے معذرت بھی کی، لیکن سوشل میڈیا صارفین نے رائی کا پہاڑ بنا لیا۔

یہ کسی ڈیسک یا کاپی ایڈیٹر کی غلطی ہو سکتی تھی، مگر لوگ یہ بات ماننے کو تیار نہیں تھے۔ پھر ایک معروف کامیڈین نے ایک غلط موازنہ کر دیا تو لوگوں نے انہیں دائرۂ اسلام سے ہی خارج کر دیا۔

مجھے یہ دیکھ کر خوف محسوس ہوا کہ ہمارا معاشرہ کتنا پرتشدد ہو گیا ہے۔ انہوں نے ویڈیو بنا کر اپنی پوزیشن واضح بھی کی، لیکن سوشل میڈیا پر طنز کا سلسلہ جاری رہا۔

پھر دو مارننگ شو ہوسٹس تنقید کی زد میں آ گئیں۔

یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ ہمارے مارننگ شوز میں کوئی خاص مواد نہیں ہوتا، بس جو دل میں آیا بول دیا جاتا ہے، اور پھر وہی ہوتا ہے کہ بدنام نہ ہوئے تو کیا نام نہ ہوگا۔

کراچی میں دو نوجوانوں نے ایک بزرگ کو اینٹیں مار مار کر اس لیے قتل کر دیا کہ انہوں نے ایک تیتر اور پنجرہ دینے سے انکار کیا تھا۔ کیا پاکستان میں انسانی جان کی یہی وقعت رہ گئی ہے؟

دوسری طرف ام رباب کے اہل خانہ کے قتل میں ملوث تمام ملزمان بری ہو گئے، جبکہ اربوں کی کرپشن میں مبینہ طور پر ملوث ایک ڈاکٹر کو ضمانت مل گئی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان دو انتہاؤں پر کھڑا ہے، جہاں امیر اور طاقتور کو انصاف مل جاتا ہے اور غریب سسکتا رہ جاتا ہے۔

اسی طرح اسلام آباد، جسے پرامن شہر کہا جاتا ہے، وہاں عامر اعوان نامی بزنس مین کو ان کے گھر میں قتل کر دیا گیا۔

ملزمان جدید اسلحے کے ساتھ گھر میں داخل ہوئے اور اطمینان سے کارروائی کر کے چلے گئے۔ کیا ہم اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں؟ کیا ہم سڑکوں، بازاروں اور سوشل میڈیا پر بھی محفوظ نہیں؟

یہ عدم برداشت، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور ناانصافی معاشرے کو تباہی کے دہانے پر لے آئی ہے۔

اس وقت بھی جب میں یہ سطور لکھ رہی ہوں، بہت سے صحافی سوشل میڈیا پر ایک دوسرے سے لڑ کر ڈالر خوری کے الزامات لگا رہے ہیں۔

جن صفوں میں اتحاد ہونا چاہیے وہاں ناچاقی اور اختلاف نے نفرت کا روپ دھار لیا ہے۔ ایک خاتون تو اس بات کی خواہش مند نظر آئیں کہ مخالف صحافی پر تشدد ہونا چاہیے۔

مجھے پڑھے لکھے لوگوں میں عدم برداشت، تشدد پسندی اور اختلاف کو دشمنی کا رنگ دینا بہت افسوسناک اور خطرناک رویہ لگ رہا ہے۔ کاش کہ سب لوگ اپنے اندر صبر اور تحمل پیدا کریں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *