پاکستان افغانستان سرحد پر خاردار تاریں ہٹانے کے دعوے من گھڑت: وزارت اطلاعات

پاکستان کی وفاقی وزارت اطلاعات نے پاکستان افغانستان سرحد پر خاردار تاریں ہٹانے کے دعوؤں کو من گھڑت اور حقائق سے مبرا قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

بدھ کی رات ایکس وزارت اطلاعات کے حقائق کی جانچ کرنے والے اکاؤنٹ (@FactCheckerMoIB) پر ایک پوسٹ میں ’افغان طالبان حکومت اور انڈین خفیہ ایجنسی را کے ماؤتھ پیس اکاؤنٹس کے جعلی دعووں‘ کی مذمت کی۔

پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان افغانستان سرحد، جسے ڈیورنڈ لائن بھی کہا جاتا ہے، 2640 کلومیٹر طویل ہے اور پاکستان اس کی حفاظت کرتا ہے۔

وزارت اطلاعات کی پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ ’طالبان حکومت دہشت گردوں، سمگلروں اور جرائم پیشہ مافیا کے ساتھ مل کر دراندازی کرنے کے لیے کام کرتی ہے۔‘

پوسٹ میں آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی نومبر 2025 کی پریس کانفرنس کا بھی حوالہ دیا گیا، جس میں انہوں نے پاکستان افغانستان سرحد کے ذریعے عسکریت پسندوں کی دراندازی اور اس سلسلے میں درپیش چیلنجز کے بارے میں بات کی تھی۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’افغان فورسز دہشت گردوں کی دراندازی کو آسان بنانے کے لیے سرحد پار پاکستانی چیک پوسٹوں پر فائرنگ کرتی ہیں۔‘

وفاقی وزارت اطلاعات نے اپنی پوسٹ میں افغانستان ڈیفنس نامی ایک ایکس اکاؤنٹ کی ایک دوسری پوسٹ کا سکرین شاٹ بھی شیئر کیا، جس میں افغان فورسز کے حوالے سے کہا گیا کہ ’ڈیورنڈ لائن کے ساتھ خاردار تاروں کو مکمل طور پر ہٹانے کی کارروائیاں جاری ہیں اور تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔‘ 

افغانستان ڈیفنس کی پوسٹ میں ویڈیو کلپس بھی تھے جن میں دکھایا گیا تھا کہ لوگ خاردار تاریں کاٹنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ باڑ دکھائی دے رہی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزارت اطلاعات کی پوسٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’طالبان حکومت کے آؤٹ لیٹس کی طرف سے اپ لوڈ کیے جانے والے تمام کلپس مواد، تاریخ پر مبنی اور خارجیوں/طالبان کے پروپیگنڈے کے ہتھکنڈوں کے مطابق بنائے گئے ہیں جو مواد کو ریکارڈ کرنے کے لیے چند منٹ کے لیے ظاہر ہوتے ہیں اور پھر بھاگ جاتے ہیں۔‘

پوسٹ میں کہا گیا، ’اس طرح کے مواد کی تخلیق نہ صرف ان خارجیوں اور طالبان کی بزدلانہ نوعیت کی تصدیق کرتی ہے، بلکہ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ وہ کس طرح پروپیگنڈے اور فریب کی دنیا میں رہتے ہیں۔‘

اس نے مزید کہا گیا کہ پاکستان افغانستان سرحدی باڑ مکمل طور پر برقرار ہے اور درحقیقت، اس طرح کی تمام کوششوں کو وہاں اور پھر بھاری اور غیر متناسب جواب دیا جاتا ہے۔

’آپریشن غضب للحق کے تحت 250 سے زائد سرحدی چوکیوں کی تباہی کے علاوہ پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے درست اور ٹارگٹڈ کارروائیوں میں درجنوں پوسٹوں پر قبضے سے مایوس افغان طالبان کی حکومت نے اپنے گھریلو سامعین کو مطمئن کرنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لیا ہے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *