انسانی حقوق تنظیموں کی فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کے اسرائیلی قانون کی مذمت

اسرائیل نے پیر کو ایک نیا متنازع قانون منظور کیا ہے جس کے تحت اگر کوئی فلسطینی اسرائیلیوں پر مہلک حملے میں مجرم قرار پاتا ہے، تو اسے سزائے موت (پھانسی) دی جا سکتی ہے اور یہ سزا اب ’ڈیفالٹ‘ یعنی عام سزا ہوگی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور فلسطینی رہنماؤں نے اسرائیل کی جانب سے اس قانون کی منظوری کی شدید مذمت کی ہے جس کے تحت اسرائیلیوں کے قتل کے الزام میں سزا یافتہ فلسطینیوں کو پھانسی کی سزا دینے کو ممکن بنایا گیا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ اقدام بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور فطری طور پر امتیازی ہے۔

اسرائیل میں شہری حقوق کی ایک تنظیم نے اس قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی ہے۔

اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) نے پیر کو اس قانون کی منظوری دی جس کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے میں ایسے فلسطینیوں کے لیے پھانسی کو بطور ڈیفالٹ سزا مقرر کیا گیا ہے جو اسرائیلیوں کے قتل کے جرم میں مجرم قرار دیے جائیں گے۔

اس قانون کی حمایت انتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی وزیر قومی سلامتی اتمار بن گویر نے کی، جنہیں قانون کی منظوری کے بعد پارلیمنٹ میں شیمپین کے ساتھ جشن مناتے دیکھا گیا۔ یہ بل 62 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور ہوا۔

بن گویر نے سوشل میڈیا پر لکھا: ’ہم نے تاریخ رقم کر دی۔‘ انہوں نے یورپی یونین کی جانب سے قانون واپس لینے کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا: ’ہم خوفزدہ نہیں ہیں، ہم جھکیں گے نہیں۔‘

یہ قانون ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے، اور ہزاروں فلسطینی گرفتار کیے جا چکے ہیں۔
 

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فلسطینی وزارتِ خارجہ نے اس قانون کو ’خطرناک شدت‘ قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل کو ’مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر کوئی خودمختاری حاصل نہیں ہے۔‘

فلسطین کی وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا کہ یہ در پردہ ’ماورائے عدالت قتل کو جائز بنانے کی کوشش‘ ہے۔

جبکہ حماس نے اس قانون کو ’خطرناک مثال‘ قرار دیا اور کہا کہ اس سے اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی زندگی کو خطرے میں ڈالا گیا ہے۔ حماس نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ یہ قانون بین الاقوامی قانون اور انسانی اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہے، اور اقوام متحدہ اور ریڈ کراس سے فوری مداخلت کی اپیل کی۔

اقوام متحدہ کا دفتر برائے انسانی حقوق نے بھی اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس قانون کو واپس لے۔ بیان میں کہا گیا کہ سزائے موت ہر حالت میں ناقابل قبول ہے اور یہ قانون’ظالمانہ، غیر انسانی اور تضحیک آمیز سزا‘ کے زمرے میں آتا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *