پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اتوار کو بتایا کہ انسانی سمگلنگ میں ملوث عالمی نیٹ ورک کے رکن ملزم قاصد علی کو گوجرنوالہ سے گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار ملزم مراکش کشتی حادثے میں بھی ملوث ہے۔
ایف آئی اے نے اپنے بیان میں کہا کہ ملزم کا نام ریڈ بک میں شامل ہے اور وہ انسانی سمگلنگ کا انتہائی مطلوب ملزم ہے، جس پر متعدد مقدمے بھی درج ہیں۔
بیان کے مطابق ملزم پر انسانی سمگلنگ، بھتہ خوری، جبری مشقت، فراڈ اور تارکین وطن کی اموات کا سبب بننے جیسے سنگین الزامات ہیں۔
ایف آئی اے نے بتایا کہ ملزم شہریوں کو یورپ بھجوانے کے جھانسہ دے کر لاکھوں روپے بٹورتا اور انہیں غیر قانونی راستوں سے افریقہ منتقل کرتا تھا۔
’ملزم نے متاثرہ خاندانوں سے سپین بھجوانے کے نام پر 33 لاکھ روپے فی کس وصول کیے۔‘
انسانی سمگلروں کے نیٹ ورک نے متاثرہ نوجوانوں کو موریطانیہ منتقل کرنے کے بعد تشدد، جبری مشقت اور غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا۔
بعد ازاں متاثرین کو سمندر کے راستے سپین بھیجنے کا جھانسہ دے کر رابطہ منقطع کر دیا گیا۔
مراکش کے سمندر میں کشتی کو پیش آنے والے حادثے میں متاثرین جان کی بازی ہار گئے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دوسری جانب یف آئی اے نے انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد کا جامع ڈیٹا تیار کیا ہے۔
یہ بات ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عثمان انور نے ہفتے کو ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز کے دورے کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتائی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ 2025 کے آخری چار مہینوں کے دوران انسانی سمگلنگ اور بدعنوانی سے متعلق بڑھتی ہوئی شکایات کے پیش نظر ایف آئی اے نے 214 اہلکاروں کو سزائیں دیں۔
اسی طرح ادارے نے 76 اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کیا، نو کو عہدے میں تنزلی کی سزا دی جبکہ 127 اہلکاروں کو مختلف سزائیں دی گئیں۔
اس موقعے پر محسن نقوی نے زور دیا کہ ایف آئی اے کو ہر طرح کے منظم جرائم کے خلاف ایک فرنٹ لائن فورس کے طور پر منظم کیا جائے گا اور اس سلسلے میں ہر سطح پر ادارے کو مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔
