لیونارڈو ڈی کیپریو اب پہلے جیسے کیوں نہیں رہے؟

لیونارڈو ڈی کیپریو اب وہ اداکار نہیں رہے جو ہر لمحہ خبروں میں چھائے رہتے تھے اور شاید اسی وجہ سے وہ پہلے سے بہتر اداکار بن گئے ہیں۔

جیسے کہ ’رومیو + جولیٹ‘ اور ’دی ریوننٹ‘ دوبارہ سینیما گھروں میں ریلیز ہو رہی ہیں، آسکر ایوارڈ یافتہ اداکار اپنے کیریئر کے تیسرے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔

یہ مرحلہ پہلے دو مراحل کے مقابلے میں کہیں زیادہ دلچسپ اور پیچیدہ ہے، جتنا کہ عام طور پر اسے سمجھا جاتا ہے۔

آسکر کی رات ایک سخت اور بے رحم مقابلہ ہوتا ہے، جہاں نشست کا نمبر ہی کسی مہمان کی حیثیت کا تعین کرتا ہے اور اشرافیہ کو بے رحمی سے جیتنے والوں اور ہارنے والوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔

نامزدگی کی فہرست میں سب برابر ہوتے ہیں، لیکن جیسے ہی لفافہ کھلتا ہے، باقی سب محض تماشائی بن جاتے ہیں۔

لیونارڈو ڈی کیپریو کو ہی لے لیجیے، جو فلم ’ون بیٹل آفٹر این ادر‘ کے مرکزی ستارے ہیں، اتوار کی رات ان کے پاس سوائے تالیاں بجانے اور کبھی کبھار اپنی مخصوص مسکراہٹ دکھانے کے کوئی کام نہیں تھا۔

یہاں تک کہ ان کے قریبی ساتھی نے بھی انہیں تقریباً نظر انداز کر دیا۔ تقریب کے اختتام پر ہدایت کار پال تھامس اینڈرسن نے اعتراف کیا  کہ ’میں بہترین ہدایت کار کا ایوارڈ جیتنے کے بعد اپنی کاسٹ کا شکریہ ادا کرنا ہی بھول گیا۔‘

شاید یہ صورت حال خود ان کی اداکاری کی عکاسی کرتی ہے۔

اس فلم میں ڈی کیپریو نے باب فرگوسن کا کردار ادا کیا ہے، ایک سابق بائیں بازو کا کارکن جو اب ایک عام سا درمیانی عمر کا شخص بن چکا ہے۔

وہ کردار ایسا ہے جو بیک وقت اہم بھی ہے اور غیر نمایاں بھی، جیسے کہ وہ منظر کا حصہ ہو مگر مرکز میں نہ ہو۔

یہ فلم آسکر میں بڑی کامیاب رہی، بہترین فلم، بہترین ہدایت کار اور بہترین سکرین پلے کے ایوارڈز جیتے، جبکہ شان پین نے بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ حاصل کیا۔

اس کے برعکس ڈی کیپریو کا کردار پس منظر میں ہی رہا، جیسے انہوں نے کردار کو اتنی مہارت سے ادا کیا کہ ان کی اداکاری خود غیر محسوس ہو گئی۔

ایک مشہور قول ہے ’امریکی زندگی میں دوسرا موقع نہیں ملتا‘، لیکن ڈی کیپریو اب اپنے تیسرے مرحلے میں ہیں اور یہ پہلے دونوں سے کہیں زیادہ دلچسپ ہے۔

ان کی حالیہ فلموں میں بھی وہ مرکزی کردار ہوتے ہوئے پس منظر میں رہنے والے کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں، جیسے ’ونس اپون اے ٹائم اِن ہالی وڈ‘، ’کلرز آف دی فلاور مون‘ اور ’ڈونٹ لک اپ‘۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مہینے ان کے کیریئر کے پہلے دو مراحل بھی سینیما میں نظر آ رہے ہیں، ’رومیو + جولیٹ‘ کی 30ویں سالگرہ اور ’دی ریوننٹ‘ کی خصوصی نمائش۔ پہلی فلم نے انہیں سٹار بنایا، جبکہ دوسری نے انہیں آسکر دلایا۔

آج جب ان فلموں کو دوبارہ دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے بطور اداکار کتنا سفر طے کیا ہے۔ وہ اب پہلے سے زیادہ پختہ اور دلچسپ اداکار ہیں۔

ایک وقت تھا جب ان کی خوبصورتی ان کے لیے مسئلہ بن گئی تھی اور انہیں سنجیدہ کرداروں میں خود کو ثابت کرنے میں مشکل پیش آتی تھی۔

اب 51 سال کی عمر میں وہ نہ تو نوجوان عاشق رہے ہیں اور نہ ہی سخت جان ہیرو۔ وہ کم فلمیں کرتے ہیں اور زیادہ تر ایسے کردار چنتے ہیں جو عام، کمزور اور حقیقت کے قریب ہوتے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ ایک خطرناک حکمت عملی ہے کیونکہ جو ستارے نظر نہ آئیں وہ جلد بھلا دیے جاتے ہیں۔ لیکن ڈی کیپریو کے معاملے میں یہ الٹا کام کر رہی ہے۔ ان کی شہرت کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہے۔

مجھے ڈی کیپریو کا یہ تیسرا مرحلہ بہت پسند ہے۔ وہ سنجیدہ بھی ہیں اور مزاحیہ بھی، سادہ بھی اور پراسرار بھی۔ ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اپنی اصل جگہ پا لی ہے۔

ممکن ہے کہ وہ خود کو ایک پرانے دور کا اداکار سمجھتے ہوں، جو نئی نسل کے لیے جگہ چھوڑ رہا ہے لیکن شاید حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک مختلف کھیل کھیل رہے ہیں۔

ایک ایسا کھیل جس میں وہ اپنی کم ہوتی ہوئی نمایاں حیثیت کو اپنی طاقت بنا رہے ہیں۔ وہ آسکر کی دوڑ میں شامل ہی نہیں تھے کیونکہ وہ اپنی الگ راہ پر چل رہے تھے۔

اور یہ حقیقت کہ ان کے اپنے ہدایت کار انہیں شکریہ کہنا بھول گئے؟ یہ خود ان کی اداکاری کی طاقت اور مہارت کا ثبوت ہے۔

’رومیو + جولیٹ‘ 27 مارچ سے دوبارہ سینیما گھروں میں پیش کی جا رہی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *