ایران کے خلاف جاری جنگ کو ایک ماہ ہو چکا ہے اور موجودہ حالات میں اگر یہ کہا جائے کہ جنگ فوری بند ہوتی دکھائی نہیں دے رہی تو شاید غلط نہیں ہو گا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اگر جنگ بند نہ ہوئی تو کیا پاکستان میں پیٹرول راشن کی طرح ملے گا؟
اگر ایسا ہوا تو یہ صرف ایندھن کی کمی نہیں ہو گی بلکہ یہ صبر اور برداشت کی ایک نئی آزمائش ہو گی۔ پاکستانی معیشت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ فیصلے مشکل ہوتے جا رہے ہیں۔
سرکار سبسڈی دینے کے قابل نہیں اور پیٹرول کی قیمتیں مزید بڑھانے سے عوامی ردعمل شدت اختیار کر سکتا ہے۔
اس لیے سرکار اب پیٹرول کے لیے کوٹہ سسٹم متعارف کروانے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس کا فائدہ ہو گا یا نقصان، اس بارے کوئی دعویٰ کرنا قبل از وقت ہے۔
اس نظام کے تحت ہر شخص کا پیٹرول اس کے شناختی کارڈ اور گاڑی کے نمبر سے منسلک ہوگا۔
ایک موبائل ایپ کے ذریعے صارف اپنا ڈیجیٹل ووچر بنائے گا اور پیٹرول پمپ پر اسے سکین کر کے اتنا ہی پیٹرول دیا جائے گا جتنا اس کا کوٹہ ہوگا۔
اگر کسی کو 15 لیٹر کی اجازت ہے تو وہ 20 لیٹر نہیں لے سکے گا، یعنی کہ پیٹرول بھی راشن کی طرح ملے گا۔
ابتدائی طور پر یہ سہولت موٹر سائیکل اور رکشوں کے لیے ہے لیکن 800 سی سی گاڑی رکھنے والوں کو بھی محدود سبسڈی دینے کی تجویز ہے۔ اس نظام کے نفاذ سے متوسط طبقہ ایک مرتبہ پھر پسنے جا رہا ہے۔
800 سی سی گاڑی رکھنے والا وہ شہری جو نہ امیر ہے نہ غریب، اس کے لیے یہ پالیسی ایک نئی مشکل بن سکتی ہے۔
اس کی نقل و حرکت محدود ہو سکتی ہے جبکہ اس کے پاس متبادل بھی نہیں کیونکہ پاکستان میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام پہلے ہی بوسیدہ اور ناکافی ہے۔
غریب آدمی مانگ کر گزارہ کر سکتا ہے اور امیر آدمی کو اضافی خرچ سے فرق نہیں پڑتا۔
اصل مسئلہ متوسط طبقے کا ہے جو نہ امیر ہے اور نہ غریب۔ نہ وہ مانگ سکتا ہے اور نہ اضافی خرچ کر سکتا ہے۔
پیٹرول راشن سسٹم میں متوسط طبقے کے لیے بڑا ریلیف عوام کی حقیقی مشکلات کو کم کر سکتا ہے۔
ایسا نہیں کہ جس کا کوٹہ ختم ہو جائے گا وہ پیٹرول نہیں خرید سکے گا۔ جس کا کوٹہ ختم ہو گا وہ پھر مہنگا پیٹرول خریدے گا۔
پاکستان میں پیٹرول کی قلت نہیں بلکہ استعمال محدود کرنے کے لیے یہ اقدامات ہو رہے ہیں کیونکہ مہنگا تیل منگوانے کے لیے ڈالرز کی قلت ہے۔
جو تیل پہلے تقریباً ماہانہ ایک ارب 20 کروڑ ڈالرز کا خریدا جاتا تھا، اب اتنا ہی تیل خریدنے کے لیے تقریباً ماہانہ دو ارب ڈالرز درکار ہیں۔
پیٹرول پمپس پر سبسڈی والے ایندھن کے لیے علیحدہ مشینیں یا نوزلز مختص کی جائیں گی۔ ہر پمپ کے لیے کم از کم دو خصوصی موبائل فون لازمی ہوں گے۔
موبائل فونز کا ابتدائی تخمینہ 36,000 روپے ہے جبکہ ریٹیل قیمت 72,000 روپے تک ہو سکتی ہے۔
ریٹیلرز کے لیے مفت پہلے سے انسٹال شدہ ایپ جبکہ صارفین کے لیے ایک علیحدہ ایپ ہوگی۔
ہر پمپ پر ایک فوکل پرسن مقرر ہو گا۔ اس سے پیٹرول پمپ کے اخراجات بڑھیں گے اور پیٹرول پمپ مالکان اپنا مارجن بڑھانے کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔
سرکار کا کہنا ہے کہ صرف دو ہفتے تک قیمتیں نہ بڑھانے کی وجہ سے تقریباً 70 ارب روپے کا بوجھ برداشت کرنا پڑا ہے، ایسے میں کوٹہ سسٹم ایک مجبوری ہے نہ کہ کوئی پسندیدہ پالیسی۔
لیکن سوال یہ ہے کہ جب 2015 میں سولر پالیسی دی گئی تھی تو 11 سالوں میں ملک کے انفراسٹرکچر کو سولر پر منتقل کیوں نہیں کیا گیا۔
بلکہ جن لوگوں نے سولر سسٹم لگوائے ان کی مسلسل حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے۔
اگر شمسی توانائی پر قدغن نہ لگائی جاتی تو آج پاکستان کا امپورٹ بل بھی کم ہوتا، بجلی مہنگی نہ کرنا پڑتی اور الیکٹرک بائیک اور الیکٹرک رکشے ملک کی پیٹرولیم ضروریات کو کم کر سکتے تھے۔
جرمنی سولر اور دیگر انرجی ذرائع پر انحصار بڑھا کر تقریباً 50 فیصد سے زائد انرجی کی ضرورت بغیر فیول کے پوری کر رہا ہے اور موجودہ بحران میں سب سے کم متاثر ہوا ہے۔
یہ سچ ہے کہ دنیا میں پیٹرول راشننگ ماڈلز نئے نہیں۔ سب سے مشہور فیول کوٹہ سسٹم ایران میں ہے جہاں ہر گاڑی کو ماہانہ تقریباً 60 لیٹر سستا پیٹرول ملتا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بنگلہ دیش اور سری لنکا میں مکمل پیٹرول راشننگ سسٹم متعارف کروا دیا گیا ہے۔
انڈیا اور آسٹریلیا میں کچھ صوبوں اور مارکیٹوں میں راشننگ کی جا رہی ہے۔
تھائی لینڈ، ویتنام اور یورپ میں پیٹرول راشننگ کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے لیکن شاید پاکستان کے پاس بہتر متبادل موجود تھا جس کا استعمال نہیں کیا گیا۔
اس پالیسی سے بلیک مارکیٹ اور کرپشن کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ پاکستان میں راشن کا نظام پہلے ہی کرپشن کی نذر ہو چکا ہے۔ یوٹیلٹی سٹورز کرپشن سکینڈل زبان زد عام ہے۔ ایسے میں پیٹرول راشن نظام کا شفاف ہونا مشکل ہے۔
یہ پورا نظام ٹیکنالوجی پر انحصار کرتا ہے۔ ایک ایسی معیشت جہاں کبھی بجلی غائب ہو جاتی ہے اور کبھی انٹرنیٹ، کیا یہ ڈیجیٹل ماڈل بغیر رکاوٹ کے چل سکے گا؟
کیا پیٹرول پمپ پر لمبی قطاریں اور جھگڑے معمول بن جائیں گے؟ اگر سسٹم بیٹھ گیا تو کیا پیٹرول پمپ پر ایک نیا بحران جنم نہیں لے گا؟
شاید یہ اقدام ایک ’ڈیمانڈ مینیجمنٹ‘ پالیسی ہے، جس کا مقصد لوگوں کے رویے کو تبدیل کرنا ہے تاکہ وہ غیر ضروری سفر کم کریں۔
لیکن ایسی پالیسیاں تب ہی کامیاب ہوتی ہیں جب عوام کا اعتماد حاصل ہو اور متبادل سہولیات، جیسے پبلک ٹرانسپورٹ بہتر ہوں۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ پالیسی ایک عارضی بحران کا حل ہے یا ایک مستقل نظام کی بنیاد؟
اگر عالمی حالات بہتر ہو جاتے ہیں اور تیل کی قیمتیں کم ہو جاتی ہیں، تو کیا حکومت یہ کوٹہ سسٹم ختم کرے گی یا اسے جاری رکھے گی؟
نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
