الگزینڈرا واٹسن دل کے ایک نایاب مرض میں مبتلا ہیں۔ وہ اپنے کارڈیالوجسٹ کے بجائے ’چیڈ‘ (ان کا چیٹ جی پی ٹی کے لیے رکھا گیا نام) سے رجوع کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز اکثر مصروف ہوتے ہیں اور گوگل صرف ڈراتا ہے، لیکن اے آئی ان کے سوالات کے تفصیلی اور مفروضاتی جوابات دے کر ان کی تشفی کرتا ہے۔
اوپن اے آئی کی جنوری 2026 کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں چار کروڑ سے زائد افراد روزانہ صحت سے متعلق مشوروں کے لیے اس بوٹ کا استعمال کرتے ہیں، جو چیٹ جی پی ٹی پر بھیجے جانے والے کل پیغامات کا پانچ فیصد سے زیادہ ہے۔ انگلینڈ میں بھی نو فیصد مرد اور سات فیصد خواتین طبی سوالات کے لیے اے آئی چیٹ بوٹس استعمال کر رہے ہیں۔
اے آئی پروگرامز کا دوستانہ لہجہ اور سہولت لوگوں کو اپنی جانب کھینچ رہی ہے، لیکن ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ پروگرام طبی تشخیص کے لیے نہیں بنے۔ اسٹینفورڈ اور برکلے کی حالیہ تحقیق کے مطابق 2022 سے 2025 کے درمیان ان ماڈلز میں طبی وارننگ دینے کی شرح 26.3 فیصد سے گر کر صرف 0.97 فیصد رہ گئی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سب سے بڑا خطرہ ’ہذیان‘ (Hallucination) ہے، جہاں اے آئی غلط یا گمراہ کن معلومات کو حقیقت بنا کر پیش کرتا ہے۔ گذشتہ سال ایک مریض نے چیٹ جی پی ٹی کے مشورے پر کھانے کے نمک کو ’سوڈیم برومائڈ‘ سے بدل دیا، جس کے نتیجے میں وہ شدید ذہنی مسائل کا شکار ہو کر ہسپتال پہنچ گیا۔
جریدے ’نیچر میڈیسن‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں چیٹ جی پی ٹی کو 60 طبی حالات پر آزمایا گیا۔ نتائج کے مطابق ہنگامی طبی حالات، جہاں مریض کو فوری ہسپتال جانا چاہیے تھا، 51.6 فیصد کیسز میں چیٹ جی پی ٹی نے انہیں گھر پر رہنے یا عام اپوائنٹمنٹ کا انتظار کرنے کا مشورہ دیا۔
محقق اشون راماسوامی کے مطابق ’چیٹ جی پی ٹی اس وقت زیادہ قابلِ اعتماد ہوتا ہے جب طبی فیصلہ معمولی نوعیت کا ہو، اور اس وقت سب سے کم قابلِ اعتماد ہوتا ہے جب معاملہ زندگی اور موت کا ہو۔‘
یونیورسٹی آف ڈربی کی ڈاکٹر عائشہ مکرر خبردار کرتی ہیں کہ اے آئی کو اپنی طبی معلومات فراہم کرنا پرائیویسی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ اے آئی سسٹم آپ کے ڈیٹا سے سیکھتے ہیں اور اکثر یہ واضح نہیں ہوتا کہ یہ معلومات کتنی دیر تک محفوظ رکھی جائیں گی یا انہیں کس طرح گمنام بنایا جائے گا۔
ماہرین کا اتفاق ہے کہ ٹیکنالوجی ڈاکٹروں کی جگہ نہیں لے سکتی بلکہ ان کے کام میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ رائل کالج آف جنرل پریکٹیشنرز کی چیئرمین پروفیسر وکٹوریہ کہتی ہیں کہ مریضوں کا اپنی صحت کے بارے میں متجسس ہونا اچھی بات ہے، لیکن چیٹ بوٹس کے مشورے شواہد پر مبنی (Evidence-based) نہیں ہوتے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ چیٹ بوٹس کو صرف عام طبی رہنمائی کے لیے استعمال کریں، نہ کہ ذاتی تشخیص کے لیے۔ ایک انسانی ڈاکٹر جو آپ کی ہسٹری اور سیاق و سباق سے واقف ہو، اس کا متبادل کوئی بھی مشین نہیں ہو سکتی۔
