جاری امریکہ ایران جنگ کے پس منظر میں شمالی کوریا کی توپ خانے کی گولہ باری روکنے کے لیے تیار کیا گیا جنوبی کوریا کا ایک میزائل نظام خلیجی ممالک کے لیے دفاعی سازوسامان میں سب سے زیادہ مطلوب نظاموں میں شامل ہو گیا ہے۔
سیول میں تیار کیا گیا درمیانے فاصلے تک زمین سے فضا میں مار کرنے والا میزائل ’چیونگ گنگ‘، جسے ’ایم سام بلاک دوم‘ بھی کہا جاتا ہے، مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات پر داغے گئے ایرانی میزائلوں کے خلاف 96 فیصد تک روک تھام کی شرح حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔
نیٹو معیار کے اس میزائل روکنے والے نظام کی صلاحیتیں امریکہ کے تیار کردہ پیٹریاٹ پی اے سی تین نظام کا مقابلہ کرتی ہیں، جبکہ اس کی قیمت اس کے مقابلے میں تقریباً ایک چوتھائی ہے۔ اسی وجہ سے عرب ممالک اس دفاعی نظام کو حاصل کرنے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔
جنوبی کوریا کے وزیر خزانہ کو یون چیول نے بلومبرگ نیوز کو بتایا کہ ’مشرق وسطیٰ کے ممالک اس وقت جنوبی کوریا کے میزائل خریدنے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں۔ وہ جنوبی کوریا سے ہتھیار اس لیے طلب کر رہے ہیں کیونکہ ان کی درستگی بہت زیادہ ہے اور یہ نوے فیصد سے زیادہ کامیابی کے ساتھ بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔‘
تاہم وزیر نے یہ واضح نہیں کیا کہ کون سے ممالک اضافی فراہمی حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔
اگرچہ پیٹریاٹ اور ٹرمنل ہائی آلٹی ٹیوڈ ایریا ڈیفنس (تھاڈ) جیسے نظام ایران کے میزائلوں اور ڈرونز کا مقابلہ کرنے کے لیے مشرق وسطیٰ میں نصب ہیں، مگر اب مانگ تیزی سے جنوبی کوریا کے نسبتاً سستے اور جلد فراہم ہونے والے میزائل روکنے والے نظاموں کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ یہ رجحان امریکہ کے ہتھیاروں پر انحصار کم کرنے کی وسیع تر کوشش کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
متحدہ عرب امارات وہ پہلا ملک تھا جس نے چیونگ گنگ بیٹریاں درآمد کیں اور انہیں فعال کیا۔ اس نے 2022 میں جنوبی کوریا کی کمپنیوں ایل آئی جی نیکس ون، ہانوا سسٹمز اور ہانوا ایروسپیس کے ساتھ ساڑھے تین ارب ڈالر کا معاہدہ کیا جس کے تحت دس یونٹ حاصل کیے گئے۔ اس کے بعد 2024 میں سعودی عرب اور عراق نے بھی اس فضائی دفاعی نظام کے حصول کے لیے معاہدوں پر دستخط کیے۔
اسی ماہ ہونے والی میزائل روک تھام کی کارروائی بیرون ملک تعینات جنوبی کوریا کے بنائے ہوئے فضائی دفاعی نظام کے جنگی استعمال کی پہلی مثال ہے۔ اس کے بعد ابوظبی نے باقی بیٹریوں کی ترسیل تیز کرنے کی کوشش کی اور الگ سے مزید 30 میزائل روکنے والے نظاموں کی درخواست بھی کی، جس کے نتیجے میں اسی ماہ ڈیگو سے فضائی ترسیل کی گئی۔
The United States has reached out to us regarding their bases in Middle Eastern countries. We’ve also been approached by Saudi Arabia, Qatar, the United Arab Emirates, Bahrain, Jordan, and Kuwait.
We’re already working with some of them, and our expert teams are already on the… pic.twitter.com/1y4HsvfU69
— Volodymyr Zelenskyy / Володимир Зеленський (@ZelenskyyUa) March 26, 2026
تاہم سیول نے اشارہ دیا ہے کہ موجودہ پیداواری وعدوں کی وجہ سے وہ فراہمی کو تیز نہیں کر سکتا۔
چانگ وون نیشنل یونیورسٹی میں جدید دفاعی انجینئرنگ کے پروفیسر کم ہو سونگ نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ ’ایران جنگ زیادہ تر میزائل داغنے اور انہیں روکنے کے گرد گھوم رہی ہے کیونکہ سیاست دان بڑے پیمانے پر جانی نقصان کے خوف سے زمینی فوج بھیجنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ اسی لیے میزائل مخالف دفاعی نظاموں کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے جبکہ ایران مسلسل میزائلوں اور ڈرونز کی لہریں بھیج رہا ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
چیونگ گنگ دوم بیٹری کو رفتار اور سادگی کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔ اس میں چار لانچر گاڑیاں شامل ہوتی ہیں اور ہر ایک میں آٹھ لانچ ٹیوبیں ہوتی ہیں۔ ان کے ساتھ ایک کثیر المقاصد ریڈار اور ایک کنٹرول مرکز بھی ہوتا ہے۔
اس نظام کی زیادہ سے زیادہ حد تقریباً 40 کلومیٹر ہے اور یہ پندرہ سے بیس کلومیٹر کی بلندی سے نیچے اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ یہی وہ بلندی ہے جہاں ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون عام طور پر کام کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایک میزائل روکنے والے نظام کی قیمت تقریباً پندرہ لاکھ جنوبی کوریائی وون یعنی تقریباً دس لاکھ ڈالر ہے۔ اس کے مقابلے میں امریکہ کی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کا تیار کردہ پیٹریاٹ پی اے سی تین میزائل تقریباً 40 لاکھ ڈالر میں فروخت ہوتا ہے۔
جہاں پی اے سی تین نظام کی فراہمی میں چار سے چھ سال لگ سکتے ہیں، وہیں جنوبی کوریا کی کمپنی ایل آئی جی نیکس ون، اگرچہ بڑی تعداد میں پہلے سے آرڈرز کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہے، مگر پیداوار بڑھانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور دوہری شفٹوں کے ذریعے نو سے بارہ ماہ کے اندر پیداوار میں اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔
نومورا کے تجزیہ کار ایون ہوانگ کے مطابق لاک ہیڈ مارٹن نے کہا ہے کہ وہ دو ہزار تیس تک سالانہ پیداوار دو ہزار یونٹ سے زیادہ تک بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے جبکہ اس سال پیداوار تقریباً چھ سو پچاس یونٹ تک پہنچنے کی توقع ہے۔
جنوبی کوریا کے میزائل روکنے والے نظام ایرانی میزائلوں کے خلاف خاص طور پر مؤثر اس لیے ہیں کیونکہ تہران اور پیانگ یانگ 1980 کی دہائی سے میزائل ٹیکنالوجی کا تبادلہ کرتے رہے ہیں۔
مثال کے طور پر ایران کا شہاب تین بیلسٹک میزائل شمالی کوریا کے نوڈونگ میزائل کی بنیاد پر تیار کیا گیا تھا۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات میں حالیہ روک تھام کی کامیابیاں اس بات کی ضمانت نہیں کہ جنوبی کوریا کا میزائل دفاعی نظام شمالی کوریا کے حملے کے خلاف بھی اتنا ہی مؤثر ثابت ہوگا۔
ایشین انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی سٹڈیز کے محقق یانگ اُک نے کوریا ٹائمز کو بتایا کہ ’ایران کے پرانے میزائل شمالی کوریا کے میزائلوں سے مشابہ ہیں، مگر شمالی کوریا کے تازہ نظام کہیں زیادہ جدید ہیں۔ کے این تئیس اور کے این چوبیس جیسے میزائل بچاؤ کی چالیں چل سکتے ہیں جبکہ ایران کے اس حالیہ حملے میں استعمال ہونے والے میزائلوں میں یہ صلاحیت موجود نہیں تھی۔‘
جنوبی کوریا نے گذشتہ چار برسوں میں تقریباً پچپن ارب ڈالر کی دفاعی فروخت ریکارڈ کی ہے اور اس وقت اسلحے کی برآمدات میں دنیا بھر میں دسویں نمبر پر ہے۔ ان برآمدات میں چیونگ گنگ میزائل نظام کے علاوہ کے دو بلیک پینتھر مرکزی جنگی ٹینک اور کے نو تھنڈر خودکار توپ بھی شامل ہیں۔
کوریا کے ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے مطابق مشرق وسطیٰ کو اسلحہ برآمدات 2019 میں تقریباً 240 ملین ڈالر سے بڑھ کر 2024 میں تقریباً 740ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، یعنی پانچ برسوں میں تین گنا سے زیادہ اضافہ ہوا۔
سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق جنوبی کوریا اس وقت دنیا کا نواں بڑا اسلحہ برآمد کرنے والا ملک بن چکا ہے اور عالمی منڈی میں اس کا حصہ تقریباً تین فیصد ہے۔
دو ہزار اکیس سے 2025 کے درمیان سیول کی دفاعی برآمدات کا تقریباً 60 فیصد پولینڈ کو گیا، جس نے روس اور یوکرین جنگ کے ردعمل میں اپنے فوجی اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
