اسلام آباد میں جمعرات کو صدر مملکت آصف علی زرداری کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس نے ایران کے خلاف جاری امریکہ اسرائیل جنگ سے پیدا ہونے والے علاقائی چیلنجز کے پیش نظر قومی اتفاق رائے اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
ایوان صدر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے شرکت کی۔
بیان میں بتایا گیا کہ اجلاس میں وسیع تر علاقائی صورتحال زیر بحث آئی، جس میں پاکستان کی سلامتی، اقتصادی نقطہ نظر اور غذائی تحفظ پر اس کے اثرات شامل ہیں۔
’اجلاس نے ایک مربوط قومی ردعمل کی ضرورت پر زور دیا، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ پالیسی فیصلوں میں عوام کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے استحکام کو ترجیح دینا چاہیے۔‘
ایوان صدر کے بیان کے مطابق، ’اجلاس میں قومی اتفاق رائے کو برقرار رکھنے اور ابھرتے ہوئے علاقائی چیلنجز کے پیش نظر ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
’اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ معاشی انتظام، توانائی کی منصوبہ بندی، خوراک کی حفاظت اور وسیع تر تحفظات کو اس مشکل صورتحال سے نمٹنے کے لیے مل کر رہنا چاہیے۔‘
President Zardari chaired a high-level meeting with PM @CMShehbaz, Field Marshal Asim Munir and senior ministers to review economic, energy and regional situation amid oil and gas supply concerns, focusing on coordination, austerity, fuel conservation and public relief. pic.twitter.com/RjcuNrZ9gK
— The President of Pakistan (@PresOfPakistan) March 26, 2026
بیان میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں علاقائی سلامتی کی پیش رفت کے علاوہ تیل کی سپلائی میں رکاوٹوں اور پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کے پس منظر میں ابھرتی ہوئی اقتصادی اور توانائی کی صورتحال کا جائزہ بھی لیا گیا۔
’اجلاس نے پاکستان کی معیشت پر تیل اور گیس کی عالمی سپلائی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات کا بھی جائزہ لیا، خصوصاً افراط زر کے دباؤ پر قابو پانے اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے پر۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’وزرا برائے خزانہ اور پیٹرولیم نے اجلاس کو پیٹرولیم کی قیمتوں میں استحکام، معیشت کے دیگر شعبوں پر ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کو منظم کرنے اور اخراجات کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات کے ذریعے مالیاتی نظم و ضبط کو نافذ کرنے کے لیے جاری اقدامات سے آگاہ کیا۔‘
اجلاس میں ایندھن کے استعمال کو کم کرنے، پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کی حوصلہ افزائی اور مشترکہ سواری کے نظام کو فروغ دینے کے لیے عوامی آگاہی کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
