افغانستان میں طالبان حکومت کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ منگل اور بدھ کو مشرقی افغانستان پر پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے حملوں میں دو شہری مارے گئے۔
افغانستان اور پاکستان کئی مہینوں سے اسلام آباد کے اس دعوے پر لڑ رہے ہیں کہ کابل اپنی سرزمین پر سرحد پار سے حملوں کے پیچھے عسکریت پسندوں کو پناہ دے رہا ہے۔ افغانستان اس الزام کی تردید کرتا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے بتایا کہ صوبہ کنڑ میں محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ ضیاالرحمن نے بتایا کہ ناری ضلعے میں توپ خانے کی فائرنگ سے ایک شخص مارا گیا۔
تاہم پاکستان کا اس مبینہ حملے سے متعلق کوئی تبصرہ ابھی تک سامنے نہیں آیا۔
ضیاالرحمٰن کے بیان میں مزید کہا گیا کہ کنڑ کے سرکانی ضلع میں افغان فورسز نے پاکستانی فوجی چوکیوں پر حملہ کیا جبکہ پاکستانی فورسز نے توپ خانے سے فائرنگ اور ڈرون حملے کیے، جس میں مزید ایک شہری جان سے گیا۔
پاکستان اور افغانستان کے کچھ دور دراز علاقوں کے ناقابل رسائی ہونے کے پیش نظر، آزادانہ طور پر اور فوری طور پر اموات کی تعداد کی تصدیق کرنا مشکل ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دونوں فریقوں نے رمضان کے اختتام پر عید الفطر کی تعطیل پر جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جو پیر کی شام کو ختم ہوگئی۔
یہ جنگ بندی 16 مارچ کو کابل میں منشیات کی بحالی کے ایک مرکز پر پاکستانی حملے کے بعد ہوئی جس میں افغان حکام کے مطابق 400 سے زائد افراد جان سے گئے۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن نے پیر کو کہا کہ ان کی تحقیقات کے ابتدائی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 143 اموات اور 119 زخمی ہوئے، لیکن ایک ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔
اقوام متحدہ کے ایک ٹول کے مطابق منشیات کی بحالی کے مرکز پر حملے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے 26 فروری کو لڑائی میں شدت آنے کے بعد سے کم از کم 76 افغان شہری مارے جا چکے ہیں۔
