21 سالہ شرجیل سنی کا اٹک کے کالج گراؤنڈ سے ہاکی کے عالمی کوچ تک کا سفر

اٹک کے 21 سالہ ہاکی کوچ شرجیل سنی نے انتہائی کم عمری میں عالمی ہاکی کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا کر نہ صرف اپنے شہر بلکہ پاکستان کا نام بھی روشن کر دیا ہے۔

کالج کے ہاکی گراؤنڈ سے شروع ہونے والا ان کا سفر ملائیشیا اور تھائی لینڈ میں پاکستان کی نمائندگی سے ہوتا ہوا بین الاقوامی کوچنگ تک پہنچا، جہاں انہیں نیدرلینڈز، بیلجیئم اور جرمنی میں منعقد ہونے والے ورلڈ ہاکی کیمپ 2026 میں بطور ٹرینر خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔

شرجیل سنی نے انڈپینڈنٹ اردو کو انٹرویو میں اپنے ہاکی کے سفر کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کالج کے دنوں میں ان کے فزیکل ٹیچر اور معروف انٹرنیشنل ہاکی امپائر کامران حسین نے ان کی صلاحیتوں کو پہچانا اور ہاکی کے میدان میں آگے بڑھنے کے لیے بھرپور رہنمائی فراہم کی۔

شرجیل کے مطابق انہوں نے محنت اور لگن سے کھیل میں اپنی جگہ بنائی اور پاکستان ایجوکیشن بورڈ کی جانب سے سلیکشن کے بعد ملائیشیا میں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل کیا۔ اگلے ہی سال انہیں تھائی لینڈ میں بھی پاکستان کی نمائندگی کا موقع ملا۔

بطور کھلاڑی بین الاقوامی تجربہ حاصل کرنے کے بعد شرجیل سنی نے اپنے کیریئر کا رخ کوچنگ کی جانب موڑ دیا۔ اس مرحلے پر ایشین ہاکی فیڈریشن کے ڈائریکٹر اور ورلڈ ہاکی فیڈریشن سے وابستہ اٹک سے تعلق رکھنے والے زاہد علی خان نے ان کی رہنمائی میں اہم کردار ادا کیا۔

شرجیل سنی زاہد علی خان کو اپنا مینٹور اور رول ماڈل قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کوچنگ کے میدان میں قدم رکھنے کے بعد انہوں نے مسلسل سیکھنے اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر توجہ دی۔

انہوں نے کوچنگ کے لیول ون اور لیول ٹو کے بعد لیول تھری کی تربیت بھی مکمل کی جبکہ مختلف بین الاقوامی ورکشاپس اور تربیتی پروگرامز میں شرکت کی۔ لیول تھری کوچنگ کی تربیت اور اسسمنٹ کے لیے انہیں سلطنت عمان بھی مدعو کیا گیا جہاں انہوں نے متعلقہ تربیت کامیابی سے مکمل کی۔

شرجیل سنی کی محنت اور صلاحیتوں کا اہم ثمر اس وقت سامنے آیا جب انہیں ورلڈ ہاکی فیڈریشن کے آفیشل ورلڈ ہاکی کیمپ 2026 میں بطور ٹرینر خدمات انجام دینے کے لیے مدعو کیا گیا۔

نیدرلینڈز، بیلجیئم اور جرمنی میں جاری اس پروگرام میں دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 170 سے زائد نوجوان ایتھلیٹس نے شرکت کی، جنہیں عالمی معیار کے کوچز اور ٹرینرز نے تربیت فراہم کی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شرجیل کے لیے یہ اس لحاظ سے بھی اہم موقع تھا کہ انہیں اس عالمی پروگرام میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے کم عمر ترین ایشیائی ٹرینرز میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔

تقریباً ڈیڑھ ماہ پر محیط یہ تجربہ ان کے لیے ایک غیر معمولی پیشہ ورانہ اور تعلیمی سفر ثابت ہوا جہاں انہیں دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے نامور کوچز کے ساتھ کام کرنے اور جدید ہاکی کی تکنیک، تربیتی طریقہ کار اور حکمت عملی کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا۔

شرجیل سنی کے مطابق ورلڈ ہاکی کیمپ کے دوران انہیں میکس کلاڈس، سیگفرائیڈ ایکمن اور تھامس ٹکلمین سمیت عالمی سطح کے ماہرین سے سیکھنے کا موقع ملا۔ اس کے علاوہ ورلڈ ہاکی فیڈریشن کے صدر طیب اکرام کی گفتگو اور تجربات سے بھی استفادہ کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ عالمی سطح کے کوچز کے ساتھ کام کرنا اور ان کے تربیتی انداز، تکنیک اور حکمت عملی کو قریب سے دیکھنا ان کے کوچنگ کیریئر کے لیے انتہائی قیمتی تجربہ ہے۔

ملائیشیا اور تھائی لینڈ کے علاوہ شرجیل سنی مختلف ممالک کا دورہ بھی کرچکے ہیں، جبکہ حال ہی میں انہیں روس میں منعقد ہونے والے ورلڈ یوتھ فیسٹیول میں شرکت کی دعوت بھی موصول ہوئی ہے جہاں وہ کھیلوں کے شعبے میں پاکستان اور اپنے ادارے کی نمائندگی کریں گے۔

شرجیل سنی کا کہنا ہے کہ ان کا ہاکی سفر ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے تاہم عزائم بلند ہیں۔ ان کا ہدف کوچنگ کے میدان میں مزید اعلیٰ سطح تک پہنچنا، مستقبل میں اعلیٰ FIH کوچنگ لیولز مکمل کرنا اور عالمی سطح پر ماسٹر کوچ بننا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ عالمی ہاکی سے حاصل ہونے والے تجربے اور علم کو صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رکھنا چاہتے بلکہ اسے پاکستان کی ہاکی کی ترقی اور نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

شرجیل سنی مستقبل میں اپنے شہر اٹک کے نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بھی عملی کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا اٹک ہاکی ڈویلپمنٹ پروجیکٹ اسی وژن کا حصہ ہے، جس کے ذریعے اٹک کے نوجوانوں کو جدید ہاکی کی تربیت، بہتر مواقع اور عالمی معیار کی کوچنگ فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر حاصل ہونے والے تجربات، علم اور روابط کو اٹک اور پاکستان کے نوجوانوں کے فائدے کے لیے استعمال کرنے کے حوالے سے مختلف اقدامات زیرِ غور ہیں اور مستقبل قریب میں اس سلسلے میں اہم پیش رفت متوقع ہے۔

انٹرنیشنل ہاکی امپائر اور شرجیل سنی کے استاد کامران حسین نے اپنے شاگرد کی عالمی سطح پر کوچنگ کے فرائض انجام دینے پر خوشی اور فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شرجیل سنی کی کامیابی صرف ان کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ پاکستان اور پورے ایشیا کے لیے بھی باعث فخر ہے۔

کامران حسین کے مطابق: ’آج یہ امر ان کے لیے انتہائی باعث مسرت ہے کہ ان کا شاگرد نیدرلینڈ اور بیلجیئم میں منعقد ہونے والے ورلڈ ہاکی کیمپ میں عالمی سطح کے کھلاڑیوں کو کوچنگ اور تربیت فراہم کر رہا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق شرجیل سنی پہلے کم عمر ایشیائی کوچ ہیں جنہوں نے ورلڈ ہاکی کیمپ میں کوچ کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیں، جو پاکستان کے لیے ایک قابل فخر لمحہ اور اعزاز ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *