پاکستان کے صوبہ سندھ کے دیہی علاقوں میں ’گھوسٹ سکول‘ کے مرکزی خیال پر بننے والی فلم پر سندھ میں پابندی کے بعد فلم ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ کیا اس سے حقیقت بدلے گی؟
ہدایت کارہ سیماب گل نے فلم کی کہانی پر تبصرہ کرتے ہوئے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ: ’یہ کہانی میرے ذاتی مشاہدات کا نتیجہ ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’2023 کے سیلاب کے بعد جب میں نے سندھ، بلوچستان، جنوبی پنجاب اور کراچی کے علاقوں کا سفر کیا، تو میں نے اپنی آنکھوں سے بے شمار ’گھوسٹ سکول‘ دیکھے۔‘
ان کے مطابق: ’جب میں نے لوگوں سے ان کے بارے میں سوالات کیے تو ہر شخص نے ایک مختلف جواب دیا۔ کہیں ان سکولوں کو مویشیوں کے باڑے کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا، کہیں عمارتیں مکمل طور پر ویران تھیں، کسی عمارت پر ہسپتال لکھا تھا مگر کھڑکیاں تک غائب تھیں، اور کہیں ننگے پاؤں بچے ان کھنڈرات میں کھیل رہے تھے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’ان حقائق کو دیکھنے کے بعد میں نے سوچا کہ اس سنجیدہ مسئلے کو ایک فیبل (قصے) کے انداز میں ایک چھوٹی بچی کی آنکھوں سے دنیا کے سامنے لایا جائے۔ گو کہ یہ فلم ایک چھوٹے سے گاؤں کے پس منظر میں سیٹ کی گئی ہے، مگر اس کی تمام تر عکاسی (شوٹنگ) کراچی میں کی گئی ہے۔
’فلم کی کہانی ایک 10 سالہ بچی ’رابعہ‘ کے گرد گھومتی ہے جو تمام تر مشکلات کے باوجود تعلیم حاصل کرنے کا خواب دیکھتی ہے۔ جب اس کے گاؤں کا واحد سکول بند ہو جاتا ہے، تو وہ یہ معصومانہ مگر بنیادی سوال اٹھاتی ہے کہ آخر یہ سکول کیوں بند ہوا؟
’اگرچہ میری فلم ایک دستاویز (ڈاکیومنٹری) نہیں بلکہ ایک فکشن کہانی ہے جو صرف ایک بچی اور ایک سکول کے اردگرد گھومتی ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک تلخ حقیقت کارفرما ہے۔‘
سیماب گل نے بتایا کہ ’پاکستان میں ڈھائی کروڑ کے قریب بچے سکولوں سے محروم ہیں، جن میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہیں، تاہم ان میں اکثریت لڑکیوں کی ہے۔
’جب فعال سکول ’گھوسٹ سکول‘ میں تبدیل ہوتے ہیں، یعنی اساتذہ غائب ہو جاتے ہیں اور عمارتیں خالی پڑ جاتی ہیں، تو اس کا سب سے زیادہ نقصان لڑکیوں کی تعلیم کو پہنچتا ہے۔ اسی لیے میں نے یہ کہانی ایک لڑکی کے نقطۂ نظر سے بیان کی۔‘
آخر سندھ بورڈ آف سنسرز نے ایسا کیوں کیا؟
سیماب گل کے مطابق: ’فلم کی نمائش کے لیے جب ہم نے سرٹیفکیشن حاصل کرنے کی کوشش کی، تو ’سندھ سنسر بورڈ‘ کی جانب سے ہمیں ایک خط موصول ہوا جس میں بغیر کوئی تفصیلی وجہ بتائے صرف یہ تحریر تھا کہ: Not suitable for public viewing (عوامی نمائش کے لیے موزوں نہیں)۔‘
’میرا خیال ہے کہ شاید بورڈ کو فلم کا عنوان (ٹائٹل) پسند نہیں آیا۔ پاکستان میں ہر پڑھا لکھا شخص جانتا ہے کہ گھوسٹ سکول کیا ہوتے ہیں، باوجود اس کے کہ ان کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ مگر محض حقیقت پر پردہ ڈالنے سے یہ مسئلہ ختم نہیں ہو جائے گا۔‘
’یہ فیصلہ میرے لیے انتہائی دکھ دہ ہے کیونکہ میں خود کراچی سے ہوں، میرے والدین یہاں رہتے ہیں اور فلم کی پوری کاسٹ اور کریو، تقریباً 200 افراد، کا تعلق کراچی سے ہے۔
’ہم نے اپنے ہی شہر میں فلم شوٹ کی تاکہ ہم اپنے لوگوں، رشتہ داروں، اور پاکستان کی عوام کو سینما گھروں میں یہ فلم دکھا سکیں۔ کراچی پاکستان میں سینما کا سب سے بڑا مرکز ہے، اور وہیں اس پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔‘
خود مختار (Independent) فلم سازی کے مسائل
ہدایت کارہ سیماب گل کا کہنا ہے کہ ’میں نے یہ فلم اپنی ذاتی بچت (Life Savings) اور قرض لے کر خود فنڈ کی ہے، اور میں آج بھی وہ قرض اتار رہی ہوں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’بطور انڈیپنڈنٹ فلم میکر میرے لیے یہ ممکن نہیں کہ میں اسے صرف لاہور یا اسلام آباد کے سینما گھروں میں ریلیز کر سکوں، کیونکہ اس کے ساتھ مارکیٹنگ، پی آر اور ڈسٹری بیوشن کے بھاری اخراجات منسلک ہوتے ہیں۔
ایسے حالات میں فلم پر پابندی عائد ہو جانا ہم جیسے فلم سازوں کے لیے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم سینما گھروں تک صرف اسی صورت پہنچ سکتے ہیں جب یہ بین ختم ہو۔ جہاں تک او ٹی ٹی (OTT) پلیٹ فارمز کا تعلق ہے، اگر کوئی پلیٹ فارم ہمیں مناسب پیشکش کرتا ہے تو ہم اس فلم کو وہاں بھی لے جانے کے لیے تیار ہیں۔‘
آئندہ کا لائحہ عمل
انہوں نے بتایا کہ ’بنیادی طور پر میں ایک فلم میکر اور سٹوری ٹیلر ہوں۔ میری یہ فلم بین الاقوامی فلم فیسٹیولز میں سراہے جانے کے بعد اب جرمن سینما گھروں میں بھی نمائش کے لیے جا رہی ہے۔
’ہم نے سندھ بورڈ اور متعلقہ منسٹری سے اپیل دائر کر دی ہے کہ اس بین کو ختم کیا جائے یا کم از کم ہمیں اس کی کوئی منطقی وجہ بتائی جائے۔
’میں ہر ممکن کوشش کروں گی کہ یہ فلم پاکستانی سینما گھروں میں ضرور دکھائی جائے۔ سندھ اور پورے پاکستان کے شائقین یہ فلم دیکھنا چاہتے ہیں، اور اپنی کہانی اپنے لوگوں تک پہنچانے کے لیے جو بھی قدم اٹھانا پڑا، ہم اٹھائیں گے۔‘
سندھ حکومت کا ردِعمل
دوسری جانب سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’اگرچہ سندھ بورڈ آف فلم سنسرز ایک خود مختار ادارہ ہے اور سندھ حکومت کا اس سے براہِ راست تعلق نہیں، تاہم ان کی معلومات کے مطابق فلم میں حقائق کو مسخ کر کے پیش کیا گیا ہے اور اس میں غیر مناسب زبان استعمال کی گئی ہے۔
ان کے مطابق ’انہی وجوہات کی بنا پر فلم پر پابندی عائد کی گئی ہے، جبکہ اس فیصلے میں سندھ حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’تعلیمی بحران پر مبنی اس تخلیق کو بین الاقوامی سطح پر زبردست پذیرائی ملی ہے۔ فلم کا افتتاح عالمی شہرت یافتہ ’ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول‘ (TIFF) میں ہوا، جہاں اسے بہترین فلم کے لیے نامزد کیا گیا۔‘
سیماب گل نے ’یو کے ایشین فلم فیسٹیول‘ میں بہترین ہدایت کار کا اعزاز حاصل کیا، جبکہ ریڈ سی فلم فیسٹیول (جدہ)، انڈین فلم فیسٹیول آف لاس اینجلس اور ایشین، افریقی و لاطینی امریکی فلم فیسٹیول میں بھی فلم کو سراہا گیا۔
سیماب گل کا کہنا ہے کہ سندھ میں تقریباً 15 ہزار غیر فعال اور گھوسٹ اسکول موجود ہیں، لہٰذا اس اہم معاشرتی مسئلے پر بات کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اپنی ذاتی سرمایہ کاری سے تیار کی جانے والی اس فلم کی کراچی اور سندھ بھر میں نمائش نہ ہونے سے انہیں شدید مالی خسارے کا بھی خدشہ ہے۔
تاہم انڈپینڈنٹ اردو نے اس موقف پر ’سندھ بورڈ آف فلم سنسرز‘ کا ردِعمل جاننے کے لیے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
