انگلینڈ میں کارن وال کے علاقے پینزانز کے قریب ایک بیوہ اس وقت حیران رہ گئی، جب گھر کے ایک شیڈ کی صفائی کے دوران پرانے بسکٹ کے ڈبے سے ایک لاکھ 13 ہزار پاؤنڈ سے زائد مالیت کے سونے کے سکے برآمد ہوئے۔
خاتون کے شوہر نے 1970 کی دہائی کے وسط میں معاشی کساد بازاری کے دوران، جب سونے کی قیمتیں کم تھیں، سونے میں سرمایہ کاری کی تھی۔
تاہم معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی اس سرمایہ کاری کے بارے میں کسی کو نہیں بتایا اور 41 جنوبی افریقی گولڈ کروگرینڈ سکے اور 21 برطانوی گولڈ سوورین سکے ایک ڈبے میں محفوظ کرکے رکھ دیے۔
یہ سکے تقریباً 50 سال تک چھپے رہے اور اس جوڑے کے گھر کی صفائی کے دوران دریافت ہوئے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
جب نیلامی کے ماہر نے ڈبہ کھولا تو ابتدا میں اوپر چاندی کے سکے نظر آئے، تاہم مزید تلاش کرنے پر ان کے نیچے چھپے ہوئے سونے کے سکے برآمد ہوئے۔
سکے اپنے اصل پیکٹس میں موجود تھے جبکہ ان کے ساتھ خریداری کی اصل دستاویزات اور جیب میں رکھنے والی قیمتوں کی ایک گائیڈ بھی موجود تھی۔
1970 کی دہائی کے بعد سونے کی قیمت میں نمایاں اضافے کے باعث ان سکوں کی قیمت بھی کئی گنا بڑھ گئی۔ کروگرینڈ سکے نیلامی میں 1 لاکھ پاؤنڈ میں فروخت ہوئے جبکہ برطانوی سوورین سکوں سے 13 ہزار پاؤنڈ حاصل ہوئے۔
پینزانز میں قائم نیلامی کمپنی Lay’s Auctioneers کے نیلام کنندہ ڈیوڈ لے نے بتایا کہ 22 قیراط کے کروگرینڈ سکوں میں سے ہر ایک کا وزن 33.93 گرام ہے۔
خاتون کے شوہر نے 1975 میں ہر سکے کے لیے 70 سے 80 پاؤنڈ ادا کیے تھے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ڈیوڈ لے نے بتایا: ’خاتون اپنے گھر کا حجم کم کرنے کا سوچ رہی تھیں، اس لیے میں ان کے گھر میں موجود کچھ سامان دیکھنے گیا۔
’جن آخری جگہوں کو میں نے دیکھا، ان میں سے ایک یہ ورکشاپ تھی۔ وہاں ایک بسکٹ کا ڈبہ موجود تھا جو بہت بھاری تھا۔ میں نے اسے نیچے رکھا اور اندر دیکھا تو اس میں چاندی کے سکے موجود تھے۔‘
بعد ازاں جب سکے Lay’s Auctioneers کے سکے کے ماہر کو دکھائے گئے تو اس نے دریافت کیا کہ سونے کے سکے اب بھی اپنے اصل پیکٹس میں محفوظ تھے۔
انہوں نے کہا: ’یہ واقعی حیران کن تھا۔ ہمیں اس سے پہلے بھی ایسی دریافتیں ہوئی ہیں، لیکن اتنی بڑی مقدار میں سونا ملنا واقعی غیر معمولی تھا۔
تقریباً تمام سکے 1975 میں ڈھالے گئے تھے، اس وقت معیشت کسادِ بازاری سے نکل رہی تھی، مہنگائی بہت تیزی سے بڑھ رہی تھی اور لوگ سٹاک مارکیٹ کے حوالے سے فکرمند تھے۔ ایسے حالات میں کچھ لوگ مالی خطرات سے بچاؤ کے لیے سونا خرید لیا کرتے تھے۔‘
ڈیوڈ لے کے مطابق: ’ہماری گاہک کو معلوم ہی نہیں تھا کہ ان کے شوہر نے سونے میں سرمایہ کاری کے لیے چند ہزار پاؤنڈ خرچ کیے، اسے چھپا کر رکھ دیا اور انہیں اس بارے میں بتایا بھی نہیں اور آج صورت حال یہ ہے کہ اس سونے کی مالیت ایک لاکھ پاؤنڈ ہے۔‘
Lay’s Auctioneers کے ترجمان نے مزید کہا: ’آپ نے لوگوں کے بارے میں تو سنا ہوگا کہ وہ اُس زمانے میں بینکوں پر اعتماد نہ ہونے کی وجہ سے اپنی رقم گدے کے نیچے یا فرش کے تختوں کے نیچے چھپا کر رکھتے تھے، لیکن آج کے دور میں آپ کو ایسی چیز کی توقع نہیں ہوتی۔‘
ترجمان کے مطابق: ’موجودہ دور میں سونے کی قیمت بہت زیادہ بڑھ چکی ہے، اس لیے خاتون کے شوہر کی کئی دہائیاں قبل کی گئی سرمایہ کاری غیر معمولی طور پر منافع بخش ثابت ہوئی۔‘
