کینیا: 190 بچوں کے قاتل کو 200 سال قید کی سزا

کینیا میں 400 سے زائد افراد کی اموات سے منسلک ایک فرقے کے سربراہ کو جمعے کے روز 191 افراد کے قتل کے جرم میں 200 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔

کینیا کے ساحلی شہر ممباسا کی ہائی کورٹ نے خود ساختہ پادری پال میکنزی کو یہ سزا سنائی، جنہیں 190 بچوں اور ایک بالغ شخص کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا۔ انہوں نے اپنے پیروکاروں کو بھوکا رہ کر مرنے کا حکم دیا تھا۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

میکنزی کو 200 سے زائد دیگر افراد کی اموات کے سلسلے میں دہشت گردی اور غیر ارادی قتل کے الزامات کا بھی سامنا ہے جبکہ دو دیگر عدالتوں میں بچوں سے بدسلوکی اور تشدد کے مقدمات بھی زیر سماعت ہیں۔

جسٹس ڈیانا کاویدزا نے کہا کہ گڈ نیوز انٹرنیشنل چرچ کے سربراہ میکنزی اپنے پیروکاروں کو ایک دور دراز مقام پر منتقل کرنے اور انہیں بھوکا رہ کر مرنے کا حکم دینے کے معاملے میں ’بنیادی طور پر مجرمانہ طور پر ذمہ دار‘ تھے۔

میکنزی کے خلاف قتل کے مقدمے میں ان کے 28 پیروکاروں کو بھی نامزد کیا گیا۔ 19 اکتوبر کو عدالت نے ان تمام 29 افراد کو 191 افراد کے قتل کا مجرم قرار دیا تھا۔

2023 میں کینیا کے ساحلی کاؤنٹی کلیفی میں واقع 800 ایکڑ پر محیط چکاما رینچ سے 400 سے زائد لاشیں نکالی گئی تھیں۔

میکنزی کے پیروکار مقامی آبادی اور حکام کی نظروں سے دور اس علاقے میں مٹی سے بنی جھونپڑیوں میں رہتے تھے۔

60 سے زائد لاشوں کی شناخت کے بعد انہیں ان کے اہل خانہ کے حوالے کیا گیا، جنہوں نے دوبارہ تدفین کی جبکہ بہت سی دیگر لاشوں کی اب تک شناخت نہیں ہو سکی اور نہ ہی کوئی ان کا دعوے دار سامنے آیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جسٹس کاویدزا نے سزا سناتے ہوئے کہا کہ 183 افراد کی موت بھوک سے ہوئی، جس سے مراد خوراک کی مکمل عدم دستیابی ہے جبکہ باقی آٹھ افراد کی موت کو براہ راست قتل قرار دیا گیا۔

جسٹس کاویدزا نے کہا کہ یہ اموات ’سوچ سمجھ کر اور انتہائی بے رحمی سے‘ کی گئیں۔

انہوں نے بعض ملزمان کے اس مؤقف کو بھی مسترد کر دیا کہ اپنے بچوں کو کھونے کے باوجود انہیں دیگر بچوں کے قتل میں شرکت کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

جج کے مطابق مجرمان نے اپنے کیے پر کوئی پشیمانی ظاہر نہیں کی بلکہ کہا کہ وہ خود بھی بھوکے رہ کر مرنے کے لیے تیار ہیں۔

سزا سنائے جانے کے دوران میکنزی اکثر مسکراتے اور اپنے معاون پادری سمارٹ موکالاما سے گفتگو کرتے رہے، جنہیں 160 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

سزا پانے والے تمام افراد کو فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لیے 14 دن کی مہلت دی گئی ہے۔

استغاثہ نے میکنزی کے لیے سزائے موت جبکہ ان کے ساتھیوں کے لیے عمر قید کی سزا کا مطالبہ کیا تھا۔

کینیا کی عدالتوں میں سزائے موت پانے والے افراد کی سزا پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا بلکہ انہیں عمر قید کاٹنا پڑتی ہے۔ کینیا میں آخری مرتبہ 1987 میں کسی مجرم کو پھانسی دی گئی تھی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *