کولمبیا زلزلے میں 250 سے زیادہ اموات، تباہ ہسپتال اور گھر تعمیر کرنے کے لیے ہنگامی فنڈ

کولمبیا کے صدر ابیلاردو دے لا ایسپریئیا نے بدھ کو اعلان کیا کہ پیر کے زلزلے میں تباہ ہونے والے ہسپتالوں، سکولوں، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کے لیے ہنگامی فنڈ قائم کیا جائے گا۔

زلزلے میں 265 افراد جان سے گئے جب کہ تقریبا 500 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

کولمبیا کے صدر کا قوم سے خطاب میں کہنا تھا کہ ’یہ بلاشبہ بہت بڑے پیمانے کا سانحہ ہے۔ انہوں نے 7.4 شدت کے زلزلے سے صرف تین دن پہلے عہدہ سنبھالا۔

اس زلزلے سے مغربی کولمبیا کے بڑے شہروں میں عمارتیں منہدم ہو گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہماری تمام کوششیں ان لوگوں کی تلاش پر مرکوز ہیں جو اب بھی لاپتہ ہیں۔‘

صدر دے لا ایسپریئیا نے زلزلے سے ہونے والے نقصانات سے نمٹنے کے لیے ملک میں معاشی ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس کے تحت کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

اس سے چند گھنٹے قبل کالی کے میئر الیخاندرو ایڈر نے خبردار کیا تھا کہ امدادی کارکن وقت کے خلاف دوڑ رہے ہیں، کیوں کہ 72 گھنٹے کی وہ اہم مدت تیزی سے ختم ہو رہی ہے جس کے دوران زلزلے کے ملبے سے زندہ افراد کو تلاش کرنے کے امکانات کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حکام کے اندازے کے مطابق پیر کو مقامی وقت صبح سات بجے کے فوراً بعد جنوبی امریکہ کے اس ملک میں آنے والے زلزلے سے تین ہزار 770 افراد زخمی ہوئے اور نو ہزار 550 سے زیادہ گھر تباہ ہو گئے۔

کولمبیا کے کافی پیدا کرنے والے خطے کے وسط میں واقع شہر پیریرا میں 83 جب کہ ملک کے تیسرے سب سے بڑے شہر کالی میں 74 افراد جان سے گئے۔

خاندان خبر کے منتظر

کالی میں امدادی کارروائیاں ان سات عمارتوں کے اردگرد مرکوز تھیں جن کے ملبے تلے اب بھی زندہ افراد کے موجود ہونے کا امکان تھا۔

شہر کے جنوبی حصے میں واقع توریس دیل لیمونار کمپلیکس میں مقامی لوگوں نے فوجیوں، میئر کے دفتر کے ملازمین اور دیگر افراد کے ساتھ مل کر لمبی قطاریں بنائیں اور ملبے کے سب سے اوپر والے حصے سے ٹوکریوں میں ملبہ بھر کر ایک دوسرے کو پکڑاتے رہے۔

بوگوٹا کے محکمہ فائر بریگیڈ کے اہلکار کامیلو کانو نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے رضاکاروں کی تعداد محدود کیے جانے کے بعد امدادی کارروائیاں زیادہ منظم ہو گئیں۔ اس سے شور اور ارتعاش کم کرنے میں مدد ملی اور سینسر ملبے تلے ہونے والی حرکت کا بہتر انداز میں پتہ لگانے کے قابل ہو گئے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *