کراچی میں ایک 13 سالہ بچی گذشتہ چھ ماہ سے ایسی آن لائن سرگرمیوں میں مصروف تھی جن کے بارے میں اس کے والدین بھی پریشان تھے، لیکن انہیں معلوم نہیں تھا کہ ان کی بیٹی مبینہ طور پر ڈارک ویب سے منسلک ایک خطرناک نیٹ ورک کے اثر میں آ چکی ہے۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک بین الاقوامی انٹیلی جنس ادارے کی اطلاع پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی نے کارروائی کی اور بچی کو ممکنہ خطرے سے محفوظ بنا کر اس کے والدین کو صورت حال سے آگاہ کیا۔
این سی سی آئی اے حکام کے مطابق نامعلوم افراد بچی کو آن لائن مختلف خطرناک سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ہدایات دے رہے تھے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
حکام کا کہنا ہے کہ بروقت کارروائی سے بچی کو مزید نقصان پہنچنے سے بچا لیا گیا۔
بین الاقوامی ادارے کی اطلاع پر بچی تک کیسے پہنچے؟
این سی سی آئی اے کراچی کے ڈپٹی ڈائریکٹر شہزاد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بچوں کو آن لائن استحصال سے محفوظ رکھنے کے لیے مختلف ممالک کے تحقیقاتی ادارے ایک دوسرے کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔
ان کے مطابق برطانیہ سے حاصل کردہ ایک مخصوص سافٹ ویئر بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد کی نشاندہی پر الرٹ جاری کرتا ہے، جس سے متعلقہ اداروں کو ممکنہ خطرات کی اطلاع ملتی ہے۔
شہزاد نے بتایا کہ اسی نوعیت کی معلومات موصول ہونے کے بعد کراچی میں بچی کی نشاندہی کی گئی اور سائبر کرائم ٹیم نے اس تک پہنچ کر والدین کو آگاہ کیا۔
تاہم انہوں نے اطلاع فراہم کرنے والے بین الاقوامی ادارے کی شناخت اور کارروائی کی تکنیکی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔
’بچی کے رویے میں چھ ماہ سے تبدیلی آ رہی تھی‘
ڈپٹی ڈائریکٹر شہزاد کے مطابق جب تحقیقاتی ٹیم نے بچی کے والدین سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ گذشتہ چھ ماہ سے ان کی بیٹی کے رویے میں غیر معمولی تبدیلیاں آ رہی تھیں۔
والدین کے مطابق بچی ایسی سرگرمیوں میں مصروف تھی جو اس کے معمولات سے مختلف تھیں۔
شہزاد نے بتایا کہ ’بعض بچے حقیقی زندگی میں سماجی تنہائی محسوس کرنے کے باعث ایسے آن لائن پلیٹ فارمز کی طرف راغب ہوتے ہیں جہاں ان کی شناخت پوشیدہ رہ سکتی ہے۔‘
ان کے مطابق ایسے ماحول میں بچوں کے لیے نامعلوم افراد کے اثر میں آنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
آن لائن نیٹ ورکس بچوں کو کیسے نشانہ بناتے ہیں؟
این سی سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے مطابق بعض آن لائن نیٹ ورکس میں بچوں کو مختلف میسجنگ ایپس کے ذریعے شامل کیا جاتا ہے، جہاں انہیں مختلف سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے کہا جاتا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے بتایا کہ بعض صورتوں میں بچوں کو مالی فائدے یا پوائنٹس دینے کا لالچ دیا جاتا ہے اور انہیں مزید بچوں کو بھی ان نیٹ ورکس میں شامل کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
شہزاد کے مطابق ’ایسے نیٹ ورکس سے وابستہ افراد بچوں کی کم عمری اور ان کی سماجی و نفسیاتی صورت حال کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔‘
کیا پاکستان میں مزید بچے بھی اس نیٹ ورک کا نشانہ بنے؟
این سی سی آئی اے حکام کے مطابق تحقیقاتی ٹیم بچی سے رابطے میں رہنے والے مشتبہ آن لائن اکاؤنٹس اور ان سے منسلک ممکنہ افراد کی شناخت کے لیے کام کر رہی ہے۔
اس بات کی بھی تحقیقات جاری ہیں کہ آیا اسی نیٹ ورک نے پاکستان میں دوسرے بچوں کو بھی نشانہ بنایا یا نہیں۔
ڈپٹی ڈائریکٹر شہزاد نے کہا کہ ’اس مرحلے پر تحقیقات سے متعلق تمام تفصیلات سامنے نہیں لائی جا سکتیں، کیونکہ مشتبہ ملزم کی گرفتاری اور نیٹ ورک سے منسلک افراد کی شناخت کے لیے کام جاری ہے۔‘
حکام نے اب تک کسی مشتبہ شخص کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی، جبکہ نیٹ ورک کے مبینہ ڈارک ویب سے تعلق کی مکمل تفصیلات بھی سامنے نہیں لائی گئیں۔
والدین بچوں کو ایسے خطرات سے کیسے بچا سکتے ہیں؟
این سی سی آئی اے حکام کے مطابق بچوں کی آن لائن سرگرمیوں اور ان کے رویے میں غیر معمولی تبدیلیوں پر توجہ دینا ضروری ہے۔
حکام نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ بچوں کے ساتھ اعتماد پر مبنی تعلق قائم رکھیں تاکہ کسی مشتبہ رابطے، دباؤ یا دھمکی کی صورت میں بچے انہیں بلاخوف آگاہ کر سکیں۔
ان کے مطابق اگر کسی بچے کو آن لائن ہراسانی، دباؤ یا خطرناک سرگرمیوں میں شامل کرنے کی کوشش کا شبہ ہو تو والدین کو متعلقہ سائبر کرائم حکام سے رابطہ کرنا چاہیے۔
کراچی میں سامنے آنے والے اس معاملے میں بچی کو محفوظ بنانے کے بعد اب تحقیقاتی ادارے کی توجہ مشتبہ افراد کی شناخت اور ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے دیگر بچوں کا سراغ لگانے پر ہے۔
