آکسفورڈ یونیورسٹی نے جمعے کو اعلان کیا کہ جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) میں پھیلنے والی ایبولا کی مہلک وبا کے ذمہ دار بونڈیبوگیو (Bundibugyo) وائرس کے خلاف فوری طور پر تیار کی گئی ویکسین کی پہلی خوراک ایک رضاکار کو دے دی گئی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے رپورٹ کیا ہے کہ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مئی میں وبا کے آغاز کے بعد سے جمہوریہ کانگو اور یوگنڈا میں تقریباً 3,000 افراد متاثر ہوئے ہیں، جن میں سے 1,270 سے زائد جان سے جا چکے ہیں۔
اس نسبتاً خطرناک وائرس کے خلاف ویکسین یا علاج تیار کرنے کے لیے محققین اور صحت کی عالمی تنظیمیں تیزی سے کام کر رہی ہیں تاکہ انہیں انسانی آزمائش کے مرحلے تک پہنچایا جا سکے۔
برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے رواں ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی ChAdOx1 BDBV ویکسین کا پہلا کلینیکل ٹرائل شروع کر رہی ہے، جو اسی ٹیکنالوجی پر مبنی ہے جسے ایسٹرا زینیکا کی کووڈ-19 ویکسین میں استعمال کیا گیا تھا۔
یونیورسٹی کے ایک ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ پہلی خوراک جمعہ کے روز آکسفورڈ میں 37 سالہ رضاکار ایڈ ہنٹ کو دی گئی۔
آکسفورڈ کے پینڈیمک سائنسز انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ڈیوڈ پلیڈو گومیز نے ایک بیان میں کہا: ’ہم نے صرف آٹھ ہفتوں میں اس ویکسین امیدوار کو تصور سے کلینک تک پہنچایا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’اتنے مختصر وقت میں اس اہم مرحلے تک پہنچنا ایک غیرمعمولی مشترکہ کوشش کا نتیجہ ہے۔‘
اس آزمائش کے لیے کوالیشن فار ایپیڈیمک پری پیئرڈنیس انوویشنز (CEPI) نے مالی معاونت فراہم کی ہے، جبکہ سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا پہلے ہی 6 لاکھ 20 ہزار خوراکوں کا ذخیرہ تیار کر چکا ہے۔
فیز ون ٹرائل کے تحت آئندہ ہفتوں میں 50 صحت مند بالغ افراد پر ویکسین کی حفاظت اور اثر کا جائزہ لیا جائے گا۔ محققین اس وقت مزید رضاکاروں کی بھرتی کر رہے ہیں۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کے مطابق، ریگولیٹری منظوری ملنے کی صورت میں ویکسین کے مزید کلینیکل مطالعات کے لیے یوگنڈا سمیت دیگر شراکت داروں کے ساتھ بھی تیاری جاری ہے۔
بونڈیبوگیو وائرس کے خلاف کئی دیگر ویکسین امیدوار بھی ہنگامی بنیادوں پر آزمائشی مرحلے تک پہنچائے جا رہے ہیں، جبکہ دو ممکنہ علاج کے طریقوں پر بھی کام جاری ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وبا پر قابو پانے کی کوششیں ناکافی
یہ وبا جمہوریہ کانگو کی تاریخ میں ایبولا کی 17ویں وبا ہے، تاہم بونڈیبوگیو وائرس سے پیدا ہونے والی صرف تیسری وبا ہے، جس کے لیے اب تک کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج موجود نہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس نے جمعرات کی شب ایکس پر لکھا: ’وبا پر ردعمل اس کے پھیلاؤ کی رفتار کا ساتھ نہیں دے پا رہا۔‘
انہوں نے کہا کہ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ رابطہ تلاش کرنے والی ٹیمیں ہر دور دراز آبادی تک نہیں پہنچ پا رہیں۔
ٹیڈروس نے خبردار کیا: ’سکیورٹی خدشات اور جاری مسلح تنازعات کے باعث متاثرہ علاقوں تک رسائی محدود ہے، اس لیے اندازہ ہے کہ بیماری سے متاثرہ افراد کی اصل تعداد رپورٹ شدہ اعداد و شمار سے دوگنا سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔‘
یہ وبا اب تک ملک کے معدنی وسائل سے مالا مال اور شورش زدہ شمال مشرقی صوبے میں زیادہ تر مرکوز رہی ہے۔
قریبی رابطے اور متاثرہ جسمانی رطوبتوں کے ذریعے پھیلنے والے ایبولا کے کیسز جمہوریہ کانگو کے چار دیگر صوبوں میں بھی رپورٹ ہو چکے ہیں۔
