کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے مرکزی رہنما اور ترجمان شوکت نواز میر کو منگل کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع باغ سے گرفتار کر لیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر مظفرآباد منیر قریشی نے گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ شوکت نواز میر کو ضلع باغ کی سرحد پر واقع گاؤں سنگڑ سے حراست میں لیا گیا۔
ایس ایس پی ریاض مغل اور ڈپٹی کمشنر مظفرآباد کے مطابق وہ مختلف مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھے۔
حکومت نے اس سے قبل کالعدم جے اے اے سی کے چار رہنماؤں، جن میں شوکت نواز میر بھی شامل تھے، کی گرفتاری میں مدد پر ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا تھا۔
حکومت نے پانچ جون کو انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیا تھا۔
اس فیصلے کے باوجود تنظیم کے حامیوں نے احتجاج، دھرنوں اور شٹر ڈاؤن ہڑتالوں کا سلسلہ جاری رکھا، جس کے باعث حکام اور مقامی رہائشیوں کے مطابق خطے کے بیشتر علاقوں میں معمولات زندگی متاثر ہوئے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی حکومت مخالف تحریک کے طور پر معاشی ریلیف اور طرز حکمرانی میں اصلاحات کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔
چند روز قبل پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم فیصل راٹھور نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کمیٹی سے دوبارہ مذاکرات کے امکان پر کہا تھا ’اگر معاملہ حل کرنا مطلوب ہے تو بات ہو سکتی ہے۔‘
یہ پوچھے جانے پر کہ حکومت نے کمیٹی کو کالعدم کیوں قرار دیا، ان کا کہنا تھا ’ماضی سے لے کر آج تک ان کے ساتھ کبھی مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے۔
’جب بھی مذاکرات ہوئے، اس کے بعد ایسا واقعہ پیش آیا جس میں ریاست نے سرنڈر کیا۔‘
