چھ ارب ڈالر کی کرپٹو چوری: ہیکرز کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

امریکی تحقیقاتی ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے ہفتے کو شمالی کوریا پر کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس سے چھ ارب ڈالر سے زائد کے ورچوئل اثاثے چرانے کا الزام عائد کیا ہے، جسے اب تک کی سب سے بڑی کرپٹو چوری سمجھا جا رہا ہے۔

29 اکتوبر کا یہ حملہ پیانگ یانگ سے منسلک بڑی سائبر چوریوں کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے۔ پیانگ یانگ نے ٹریڈر ٹریٹر کے نام سے ایک مضبوط ہیکنگ نیٹ ورک بنا رکھا ہے جس سے حاصل ہونے والی رقم کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اس کے ہتھیاروں کے پروگرام کی فنڈنگ میں مدد دیتی ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں۔

اس گروپ اور شمالی کوریا کے سائبر وارفیئر پروگرام میں اس کے کردار کے بارے میں جاننے کے لیے پانچ نکات یہ ہیں۔

ہیکرز کون ہیں؟ 

ٹریڈر ٹریٹر شمالی کوریا کے ہیکنگ نیٹ ورک کو دیا گیا نام ہے جو وسیع تر لازارس گروپ سے منسلک ہے۔ اس گروپ نے 2014 میں اس وقت بدنامی کمائی جب اس نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کا مذاق اڑانے والی طنزیہ فلم ’دی انٹرویو‘ کے ردعمل میں سونی پکچرز کو ہیک کیا۔

پیانگ یانگ نے کم از کم 1990 کی دہائی کے وسط سے اپنی سائبر صلاحیتوں کو بڑھانے پر بھاری سرمایہ کاری کی ہے اور ایک مضبوط فورس تیار کی ہے جس کے بارے میں جنوبی کوریا کی انٹیلی جنس نے 2024 میں اندازہ لگایا تھا کہ یہ تقریباً 8400 اہلکاروں پر مشتمل ہے۔

ایف بی آئی نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ ’شمالی کوریا نے ایک قابل سائبر فورس بنائی ہے، اور ملک کے بہت سے بہترین طلبہ کو کمپیوٹر سائنس اور آئی ٹی کی تربیت میں لگا دیا ہے۔‘

یہ بات معلوم ہے کہ ہیکنگ کی زیادہ تر سرگرمیوں کی نگرانی پیانگ یانگ کی بنیادی غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی، ریکانیسنس جنرل بیورو کرتی ہے۔

ملک چھوڑنے سے قبل شمالی کوریا کی ایلیٹ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والے جنوبی کوریا کے رکن پارلیمنٹ پارک چونگ کوون نے 2024 میں اے ایف پی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا، ’میری کلاس کے دو بہترین طلبہ کو ہیکنگ یونٹ میں بھرتی کیا گیا تھا۔‘

یہ کام کیسے کرتے ہیں؟ 

ٹریڈر ٹریٹر کے کارندے پرکشش ملازمتوں کی پیشکش کرنے والے ریکروٹرز کا روپ دھارنے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں تاکہ وہ لوگوں کو دھوکا دے کر ان سے نقصان دہ سافٹ ویئر ڈاؤن لوڈ کروا سکیں۔

یہ مالویئر ہیکرز کو متاثرہ افراد کے کمپیوٹر سسٹمز میں گھسنے اور حساس معلومات اور ڈیجیٹل اثاثے چرانے میں مدد دے سکتا ہے۔

جاپانی کریپٹو کرنسی ایکسچینج ڈی ایم ایم بٹ کوائن سے 30 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی چوری پر مبنی 2024 کی ایک واردات میں، لنکڈ ان پر ریکروٹر کا روپ دھارے ایک شمالی کوریائی ہیکر نے ایک اور ورچوئل کرنسی والٹ سافٹ ویئر کمپنی کے ملازم سے رابطہ کیا۔

انہوں نے ملازم کو بظاہر ملازمت سے قبل کا ایک ٹیسٹ بھیجا، جس میں دراصل کوڈ کی ایک نقصان دہ لائن شامل تھی۔

ایف بی آئی نے بتایا کہ اس سے ہیکر کو ان کے سسٹم تک رسائی حاصل کرنے اور ملازم کا روپ دھارنے کا موقع مل گیا۔

شمالی کوریا کے ہیکرز نے کیا کیا؟

شمالی کوریا کے ہیکرز سے منسوب بڑے سائبر حملوں میں 2016 میں بنگلہ دیش کے مرکزی بینک سے آٹھ کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی چوری اور 2017 کا وانا کرائی رینسم ویئر حملہ شامل ہے جس نے دنیا بھر میں کمپیوٹرز کے نظام کو درہم برہم کر دیا تھا۔

2022 میں، امریکی حکام نے لازارس سے منسلک ہیکرز پر رونن بلاک چین نیٹ ورک سے تقریباً 62 کروڑ ڈالر چرانے کا الزام لگایا۔

بعد ازاں ایف بی آئی نے 2023 میں کریپٹو کرنسی کی مزید تین چوریوں کا ذمہ دار ٹریڈر ٹریٹر کے کارندوں کو قرار دیا، جن میں اٹامک والٹ، الفاپو اور کوائنز پیڈ سے تقریباً 20 کروڑ ڈالر کی چوری شامل تھی۔

فروری 2025 میں ان چوریوں کے پیمانے میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا، جب ایف بی آئی نے ٹریڈر ٹریٹر پر کریپٹو کرنسی ایکسچینج بائی بٹ سے تقریباً ایک ارب 50 کروڑ ڈالر کے ورچوئل اثاثے چرانے کا الزام عائد کیا۔

اس وقت ایف بی آئی نے کہا تھا، ’ٹریڈر ٹریٹر کے کارندے تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور انہوں نے چوری شدہ اثاثوں میں سے کچھ کو تبدیل کر لیا ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شمالی کوریا چوری شدہ فنڈز کا استعمال کیسے کرتا ہے؟

کیونگ نام یونیورسٹی میں انسٹی ٹیوٹ فار فار ایسٹرن سٹڈیز کے پروفیسر لم یول چول نے اے ایف پی کو بتایا کہ شمالی کوریا کی حکومت چوری شدہ کریپٹو کرنسی کو لانڈر کرتی ہے اور ’مکسنگ سروسز یا نجی ایکسچینجز کے ذریعے‘ اسے کیش میں تبدیل کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’اس کے بعد یہ رقم براہ راست فوجی تحقیق، ہتھیاروں کے پرزوں کی غیر قانونی خریداری اور دفاعی صنعت میں لگائی جاتی ہے۔‘

2024 کی اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا کے سائبر حملوں سے حاصل ہونے والی رقم نے ’مبینہ طور پر ملک کے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری کے لیے فنڈنگ میں مدد کی۔‘

سائبر کرائم ہی کیوں؟ 

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیانگ یانگ کی غیر قانونی سائبر سرگرمیوں کی وجہ ’کم ترین لاگت‘ پر تیزی سے بھاری رقوم حاصل کرنے کی صلاحیت ہے۔

کیونگ نام یونیورسٹی کے لم نے کہا، ’اگرچہ بین الاقوامی پابندیاں روایتی تجارت کے ذریعے غیر ملکی زرمبادلہ کمانے کی شمالی کوریا کی صلاحیت کو سختی سے محدود کرتی ہیں، تاہم سائبر چوری اسے کم از کم اہلکاروں اور وسائل کے ساتھ اربوں ڈالر حاصل کرنے کے قابل بناتی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ہیکنگ پیانگ یانگ کو مالیاتی پابندیوں سے بچنے کے لیے ڈیجیٹل اثاثوں کی گمنام اور سرحدوں سے آزاد نوعیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، روایتی بینکاری کے ذرائع سے ہٹ کر فنڈز حاصل کرنے کا راستہ فراہم کرتی ہے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *