چکوال یونیورسٹی میں اسرائیلی پرچم لگانے کے واقعے کی تحقیقات کا آغاز

پنجاب کے شہر چکوال کی سرکاری یونیورسٹی کی ایک تقریب میں اسرائیلی پرچم لگانے پر شدید تنقید کے بعد جامعہ نے جمعرات کو اسے ’نامناسب حرکت‘ قرار دیتے ہوئے اس حوالے سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر یونیورسٹی آف چکوال میں منعقدہ ایک تقریب کی ایک مختصر ویڈیو وائرل ہے جس میں دیگر ممالک کے پرچموں کے بیچ اسرائیل کا پرچم بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ 

اس حوالے سے یونیورسٹی آف چکوال کے وائس چانسلر فرخ ارسلان صدیقی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’ڈیپارٹمنٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز میں 15 دن پہلے ایک تقریب ہوئی جہاں طلبہ کے ایک گروپ نے عالمی تعلقات کے حوالے سے پروجیکٹ تیار کیا۔‘

فرخ ارسلان کے مطابق: ’اسی دوران اسرائیل سمیت دیگر ممالک کے جھنڈے لگائے گئے، لیکن یونیورسٹی انتظامیہ کی اس بارے میں نہ مشاورت شامل ہے نہ ہی اجازت لی گئی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’اسرائیل سے متعلق پاکستان کے موقف کے حوالے سے یہ نامناسب حرکت تھی۔ ہم نے انکوائری کمیٹی تشکیل دے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’آئندہ 48 گھنٹوں میں ذمہ داران کا تعین کر کے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔‘

پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو فلسطین کے حق میں نہ صرف اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ اپنے شہریوں کو اسرائیل جانے سے قانونی طور پر منع کرنے کے لیے پاکستانی پاسپورٹ پر یہ عبارت بھی درج کر رکھی ہے کہ ’یہ پاسپورٹ سوائے اسرائیل کے دنیا کے تمام ممالک کے لیے کار آمد ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نہ صرف پاکستان کی حکومت بلکہ عوام بھی فلسطینی عوام اور فلسطینی کاز کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے آئے ہیں بلکہ اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف پرتشدد کارروائی کی پاکستان کی جانب سے ہمیشہ پرزور مذمت کی جاتی رہی ہے، جس سے معاملے پر پاکستانی عوام کے جذباتی لگاؤ کی عکاسی ہوتی ہے۔

ان حالات میں جبکہ پاکستان کی حکومت کا اسرائیل سے متعلق دو ٹوک موقف ہے، اسرائیل کا پرچم یونیورسٹی میں دکھائی دینا ایک ایسا غیرمعمولی واقعہ تھا، جس پر کھلے عام تنقید کی جا رہی ہے۔

ایک صارف نے ایکس پر لکھا: ’یونیورسٹی آف چکوال کے انٹرنیشنل ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے منعقدہ سٹریٹجک کانفرنس میں اسرائیلی پرچم لگا کر طلبہ و طالبات کو کیا پیغام دیا جا رہا ہے؟‘

ایک اور ایکس صارف کا کہنا تھا کہ ’اسرائیلی جھنڈا یونیورسٹی آف چکوال کے آئی آر ڈیپارٹمنٹ میں لگایا گیا ہے۔ کیا اس کے پیچھے وہی سوچ ہے جسے آہستہ آہستہ بنایا جا رہا ہے؟ یونیورسٹی نے وضاحت دی ہے لیکن۔۔۔؟‘

اسی طرح ایک اور سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ ’یونیورسٹی آف چکوال کے انٹرنیشنل ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے منعقدہ سٹریٹجک کانفرنس میں اسرائیلی جھنڈے کی موجودگی کا کیا مقصد تھا؟‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری صاحبہ اور حنا پرویز بٹ صاحبہ ضرور اس کی مذمت کریں گی اور 24 گھنٹے میں ضلح چکوال کی ساری بیورو کریسی اور چکوال یونیورسٹی انتظامیہ کو فارغ کرنے کا اعلان بھی کروائیں گی۔۔۔۔‘

چکوال یونیورسٹی میں اسرائیلی پرچم پر تنقید میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب سوشل میڈیا پر ایک اور تصویر منظرعام پر آئی، جس میں مقام تو وہی تھا مگر اسرائیل کے پرچم کی جگہ چین کا پرچم دکھائی دے رہا تھا۔

اگرچہ بعد میں یہ تو واضح ہو گیا کہ تصویر کو ایڈٹ کر کے پرچموں کو تبدیل کیا گیا تھا تاہم یہ واضح نہیں ہوا کہ ایسا کس نے کیا تھا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *