امریکہ نے بدھ کی رات ایران پر حملوں کی ایک نئی لہر شروع کر دی ہے، جس سے جنگ کے خاتمے کی کوششیں کمزور پڑنے لگی ہیں جب کہ تہران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنائے گا۔
اے ایف پی کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا کہ امریکی افواج نے واشنگٹن کے وقت کے مطابق شام پانچ بج کر 15 منٹ اور تہران میں جمعرات کی صبح، ایران میں متعدد اہداف کے خلاف ’مزید دفاعی حملے‘ شروع کیے، جسے اس نے ایرانی ’بلاجواز اور مسلسل جارحیت‘ کا جواب قرار دیا۔
ایرانی میڈیا نے آبنائے ہرمز کے قریب ملک کے جنوب میں دھماکوں کی اطلاع دی ہے۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں امریکی افواج منگل کو پہلے ہی فضائی دفاع، ریڈار اور دیگر مقامات پر بمباری کر چکی ہیں۔ ایرانی ذرائع نے قشم، کرگان اور سیریک میں ’دشمن کے پروجیکٹائلز‘ کے نئے حملوں کی اطلاع دی۔
سرکاری ٹیلی ویژن آئی آر آئی بی اور مہر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی بحریہ نے کہا کہ اس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی میڈیا نے یہ بھی بتایا کہ ایران نے بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ پر حملہ کر کے مواصلاتی انٹینا اور ریڈار کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق، خاتم الانبیا کمانڈ نے کہا کہ نئے امریکی فضائی حملوں کے بعد ’آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا‘۔ کمانڈ نے کہا کہ یہ آبنائے اب ’ہر قسم کے جہازوں کے لیے مکمل طور پر بند‘ ہے۔
لیکن امریکی سینٹ کام نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’آج رات تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے مسلسل آ اور جا رہے ہیں۔‘
فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جب بمباری جاری تھی تو ایرانی رہنماؤں نے انہیں براہ راست وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں کال کی اور ان سے حملہ روکنے کا کہا۔
ارنا نیوز ایجنسی نے بتایا کہ ایران کی پاسداران انقلاب نے فوری طور پر اس بات کی تردید کی کہ ایران نے ایسی کوئی درخواست کی ہے۔
فاکس کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ امریکی افواج نے ایران پر 49 ٹوماہاک میزائلوں سے حملہ کیا اور کچھ اہداف تہران سے 40 میل (60 کلومیٹر) کے فاصلے پر تھے۔
فاکس نیوز کے رپورٹر ٹرے ینگسٹ، جنہوں نے صدر سے بات کی، نے کہا کہ اگر ایران تین ماہ پرانی جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی شرائط تسلیم نہیں کرتا تو ’صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم کل رات ان پر شدید ترین بمباری کریں گے۔‘
ایرانی ہمیں بے وقوف بنا رہے ہیں: ٹرمپ
امریکی حملوں کا مسلسل دوسرا دن ٹرمپ کی اس شکایت کے بعد سامنے آیا کہ تہران کے مذاکرات کار بہت زیادہ وقت لے رہے ہیں اور ’ہمیں بے وقوف بنا رہے ہیں‘۔
قبل ازیں رواں ہفتے انہوں نے اشارہ دیا تھا کہ امن معاہدہ محض چند دن کی دوری پر ہے۔
ٹرمپ نے بدھ کی صبح صحافیوں کو بتایا: ’ہم نے کل ان پر بھرپور حملہ کیا۔ ہم آج دوبارہ ان پر بھرپور حملہ کرنے جا رہے ہیں۔ ہم ایک معاہدے کے بالکل قریب تھے، لیکن وہ ہمیں ٹال رہے ہیں۔‘
دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اشارہ دیا کہ حملے تیسری رات تک بڑھ سکتے ہیں، اور کہا کہ یہ ’مضبوط‘ اور ’واضح‘ ہوں گے۔
اس کشیدگی نے فٹ بال ورلڈ کپ کے موقعے پر عالمی سطح پر تحمل کے مطالبات کو جنم دیا، جس کی مشترکہ میزبانی امریکہ کر رہا ہے اور ایران اس میں شریک ہے۔
ایران ہماری سرزمین پر حملے بند کرے: 22 ملکوں کا انتباہ
امریکہ اور یورپی ممالک سمیت 22 ملکوں نے جمعرات کو ایران کو خبردار کیا کہ وہ ’ہماری سرزمین پر‘ حملے بند کرے۔
انہوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ’ہماری سرزمین پر لوگوں کو قتل کرنے، اغوا کرنے، ہراساں کرنے، دھمکانے یا ان پر حملہ کرنے کی کوششیں، قومی خودمختاری اور بین الاقوامی اصولوں کو کمزور کرتی ہیں۔ ان کارروائیوں کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔‘
دھمکیوں سے کوئی پائیدار معاہدہ نہیں ہو سکتا: ایرانی سفیر
اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے ٹرمپ کی دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’دھمکیوں، ڈرانے دھمکانے یا طاقت کے استعمال کے ذریعے کوئی پائیدار معاہدہ طے نہیں پا سکتا۔‘
صورت حال سے باخبر ایک سفارت کار نے بتایا کہ سفارت کاری پوری طرح ختم نہیں ہوئی ہے، کیوں کہ قطری مذاکرات کار ’باقی خلا کو پر کرنے کی کوشش میں ایرانیوں سے ملاقات کے لیے‘ تہران کا سفر کر رہے ہیں۔
اس جنگ کا آغاز فروری میں ایران پر بڑے امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ہوا تھا، جس نے ایک غیر مستحکم جنگ بندی کے نافذ ہونے سے پہلے خطے اور عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
اس تنازعے نے توانائی کی قیمتوں کو بڑھا دیا ہے، کیونکہ تہران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو عملی طور پر بند کر دیا تھا، جہاں سے عام طور پر عالمی تیل کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
