پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ ن، متحدہ قومی موومنٹ، نیشنل عوامی پارٹی اور کچھ دیگر سیاسی جماعتوں نے مصالحت پسندی کا راستہ ترک کر کے نقصان اٹھایا۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان تحریک انصاف بھی ان ہی کے نقش قدم پر چل رہی ہے؟
اپریل 2022 میں جب سابق کرکٹر اور اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کو ایک تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا گیا تو پی ٹی آئی کی حکومت پنجاب، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں تھی۔
اس وقت عمران خان کے پاس دو راستے تھے ایک یہ کہ وہ چاروں حکومتوں کو برقرار رکھ کر وہاں دن رات محنت کریں اور عوامی مسائل حل کرنے کی تگ و دو میں لگ جائیں اور دوسرا یہ کہ وہ اقتدار کھونے کی دوہائی دیتے رہیں اور اس کے خلاف بھرپور ایجیٹیشن شروع کریں۔
خان صاحب نے دوسرا راستہ اختیار کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یکے بعد دیگرے آہستہ آہستہ ان کی حکومت پنجاب، گلگت بلتستان اور کشمیر سے ختم ہو گئی۔ خان صاحب پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے مصالحت پسندی کی تمام آوازوں کو دباتے ہوئے سخت ایجیٹیشن کا راستہ اپنایا جس کا انجام نو مئی 2023 کے واقعے کی شکل میں نمودار ہوا جب پی ٹی آئی نے ریاست کے خلاف مبینہ طور پر کھلم کھلا بغاوت کی۔ لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس پر حملہ کیا گیا اور ملک کے دیگر علاقوں میں عسکری تنصیبات یا مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
اس واقعے کے بعد پی ٹی آئی اور جی ایچ کیو میں فاصلے بہت بڑھ گئے۔ تاہم 2024 کے انتخابات کے بعد ایک بار پھر صلح صفائی کی کوشش کی گئی لیکن خان صاحب کسی طور پر مصالحت کے لیے تیار نہیں تھے۔ خان صاحب اور سینکڑوں کی تعداد میں پی ٹی آئی کے کارکنان اور رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کے کچھ حلقوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسٹیبلشمنٹ سے مصالحت کی جائے لیکن خان صاحب کی ضد اور ہٹ دھرمی نے اس کو بھی ناکام بنا دیا۔
تمام طرح کی مشکلات کے باوجود خیبر پختونخوا کے عوام نے پی ٹی آئی کو ایک بھاری مینڈیٹ دیا۔ اس امید پر کہ وہ صوبہ جہاں پر سینکڑوں کی تعداد میں سکولوں کو ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں نے تباہ کر دیا ہے انہیں دوبارہ سے تعمیر کیا جائےگا، صحت کی سہولیات میں بہترین لائی جائے گی، انفراسٹرکچر کو مضبوط کیا جائے گا، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے اور صوبے میں امن و امان قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
لیکن ناقدین کے مطابق پاکستان تحریک انصاف عوام کے دیرینہ مسائل حل کرنے کی بجائے خان صاحب کی رہائی کے لیے جلسے جلوس کرنے اور ریلیاں نکالنے میں مصروف ہو گئی۔ رہائی کی اس مہم میں یہ شکوہ بھی ہوا کہ جہاں رہائی کے حوالے سے صرف خان صاحب کی بات کی جاتی ہے وہاں شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد اور دوسرے سینیئر رہنماؤں کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پہلے علی امین گنڈاپور نے کوشش کی کہ اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کے درمیان کوئی صلح صفائی ہو جائے اور خان صاحب کی رہائی کا راستہ ہموار ہو لیکن خان صاحب کا بظاہر غصہ علی امین گنڈا پور کی کوششوں میں ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہوا اور خان صاحب کے لیے کام کرنے والے علی امین گنڈاپور کو خود خان صاحب ہی نے ایوان اقتدار سے رخصت کروا دیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق غالبا خان صاحب یہ بھول گئے کہ علی امین گنڈا پور صرف پی ٹی آئی کے ایک رہنما ہی نہیں تھے بلکہ وہ ایک صوبے کے چیف ایگزیکٹو بھی تھے اور اس حیثیت میں انہیں مختلف فرائض بھی ادا کرنے ہوتے تھے۔ مختلف لوگوں سے ملاقاتیں اور مختلف حلقوں سے تعلقات رکھنا بھی ان کے منصب کا تقاضا تھا۔
لیکن خان صاحب کے لیے وہ ایک کارکن ہی تھے جنہوں نے گنڈا پور کو ایک کارکن کی طرح ڈیل کیا اور جب کارکن قائد کی امیدوں پہ پورا نہیں اترا تو اسے ہٹا دیا گیا۔ علی امین گنڈا پور کو ہٹانے کی وجہ سے پارٹی میں تھوڑی سی بدنظمی بھی ہوئی اور کچھ دڑاڑیں بھی پڑی۔
ان کے بعد سہیل آفریدی کو بہت خشوع وخضوع کے ساتھ اقتدار کے ایوانوں میں بٹھایا گیا۔ ان کا پہلے ہی دن سے مطمع نظر خان صاحب کی رہائی تھا۔ تاہم یہ منصب حاصل کرنے کے بعد انہیں محسوس ہوا کہ انہیں مختلف حلقوں سے رابطے بھی رکھنے پڑیں گے اور ملاقاتیں بھی کرنی پڑیں گی۔
سہیل آفریدی نے بھی کچھ وقت کے لیے مصالحت پسندانہ پالیسی اپنانے کی کوشش کی لیکن اڈیالہ جیل سے نکلنے والے غصے نے ان کو مجبور کیا کہ وہ جذباتی فیصلے کریں اور پھر ایسے ہی ایک جذباتی فیصلے کے نتیجے میں انہوں نے لانگ مارچ کا قصد کیا، جو پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے پر منتج ہوا۔
اس پورے عرصے میں پی ٹی آئی کی حکومت نہ ہی امن و امان کو بہتر کر سکی اور نہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل کر سکی۔ وفاق کو یہ شکوہ رہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے صوبائی حکومت بھرپور طریقے سے تعاون نہیں کر رہی۔ اس کے علاوہ پارٹی صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر، کرپشن کا خاتمہ اور دوسرے عوامی مسائل کے حوالے سے بھی کچھ نہ کر سکی۔ کیونکہ پارٹی نے سارا کا سارا وقت جلسے، جلوسوں اور ریلیوں میں ضائع کیا وہ سیاسی افق پر تنہائی کا شکار نظر آتی ہے۔
اب صورت حال یہ ہے کہ باہر بیٹھے ہوئے لوگ تو بھڑک بھڑک کر لڑنے کی باتیں کر رہے ہیں لیکن خود پی ٹی آئی کی ملکی قیادت کی یہ حالت ہے کہ مزاحمتی سیاست کا عمل تو دور کی بات اس کے بارے میں وہ سوچ بھی نہیں سکتے۔
اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ آج پی ٹی آئی سیاسی محاذ پر تقریبا تنہا کھڑی ہے۔ اس کی اسٹیبلشمنٹ سے بھی دشمنی ہے جبکہ اس نے میڈیا کے کئی سیکشنز کو بھی ناراض کیا ہوا ہے۔
کیونکہ پی ٹی آئی ہمیشہ سے سیاسی جماعتوں کو کرپٹ اور بدعنوان قرار دیتی رہی ہے، اس لیے سیاسی جماعتوں میں بھی بڑے پیمانے پر اس کے لیے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ جو تھوڑی بہت عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا جا سکتا تھا وہ کے پی حکومت کے وسائل کی بنیاد پر ہی ممکن تھا اب وہ وسائل بھی ختم ہو گئے ہیں۔
سیانے کہتے ہیں کہ جب کوئی سیاسی جماعت حزب اختلاف میں ہو تو اس پر کوئی سرمایہ کاری نہیں کرتا۔ پی ٹی آئی کے پاس اب کوئی علیم خان، جہانگیر ترین یا فیصل واوڈا نہیں ہیں، جو کسی بھی طرح کے جلسے جلوسوں پر پیسہ لگائیں اور نہ ان کی حکومت کے پی، جی بی، اے جے کے یا پنجاب میں ہے، جس کی بنیاد پر وہ سرکاری وسائل استعمال کر سکیں۔
لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ خان صاحب اپنے ماضی کے اقدامات پر نظر ثانی کریں، جی ایچ کیو سے تعلقات ہموار کرنے کی کوئی کوشش کریں اور اگر یہ کوشش کامیاب ہو جاتی ہے تو خیبر پختونخوا میں عوامی سطح پر لوگوں کی خدمت کر کے دکھائیں۔
سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو نے 85 کے الیکشن کے بائیکاٹ پر افسوس کا اظہار کیا تھا جس کی وجہ سے غیر جمہوری قوتوں کا راستہ ہموار ہوا۔ مسلم لیگ ن نے بھی مسلسل ایجیٹیشن کی سیاست سے نقصان اٹھایا اور اس سے مصحالت کا سبق سکیھا۔ متحدہ قومی موومنٹ کا تو اس طرز سیاست کی وجہ سے تقریبا خاتمہ ہی ہو گیا ہے۔
اگر پی ٹی آئی کوئی مصالحانہ پالیسی اختیار کرے اور دو تین سال صبر کرے، خیبر پختونخوا میں حکومت کو بحال کرانے کی کوشش کرے، وفاق سے ممکنہ طور پر تعاون کرے، دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کامیاب بنا کر صوبے میں امن و امان قائم کرے، تو یقینا پارٹی کا بچنا ممکن ہے۔ ورنہ پاکستان کے سیاسی افق پر بہت ساری سیاسی جماعتیں نمودار ہوئیں اور قدر گنوا کر غائب ہو گئیں۔
اگر سیاسی جماعتوں کو بحرانی کیفیت میں سانس لینے کی جگہ نہ ملے تو وہ ختم ہو جاتی ہیں۔ بعض اوقات آکسیجن کا سلنڈر اگر آپ کے مخالف کے ہاتھ میں بھی ہو تو اسے حاصل کر کے اپنے آپ کو زندہ رکھنے کی کوشش کرنا چاہیے کیونکہ آپ اگر سیاسی طور پر زندہ رہیں گے تو ہی سیاست کر پائیں گے۔
یہ تحریر ان کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

