پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو ’ایک اور نو مئی کرنے کا حکم‘ تھا جس کی وجہ سے ’ملک کو تباہی‘ سے بچانے کے لیے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کی۔
شہباز شریف نے یہ بات منگل کی شب مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ خیبرپختونخوا میں بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے، تعلیمی ادارے اور ہسپتال فعال ہوں، ادویات دستیاب ہوں، امن و امان بہتر بنایا جائے اور دہشت گردی کا مؤثر مقابلہ کیا جائے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے نمائندوں کی شرکت سے دن رات مذاکرات جاری رہے اور معاہدے کا متفقہ مسودہ بھی تیار ہو گیا، تاہم آخری مرحلے میں مذاکرات ناکام ہو گئے۔ بعد ازاں مولانا فضل الرحمٰن سے مشاورت اور اتحادی جماعتوں کے ساتھ کابینہ اجلاس میں تفصیلی بحث کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ ملک کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔ اس لیے ایمرجنسی کا نفاذ کیا جائے۔ پاکستان سب سے پہلے ہے۔ پاکستان کی خوشحالی، ترقی اور بقا سے زیادہ اہم کوئی چیز نہیں۔ پاکستان کے مفاد میں یہ فیصلہ کرنا پڑا۔
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) October 13, 2026
پاکستان تحریک انصاف نے پہلے 27 ستمبر اور پھر 5 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی کال دی تھی جسے بعد میں مزید موخر کرتے ہوئے 11 اکتوبر کو دارالحکومت کی طرف روانہ ہونے کا کہا گیا تھا۔
تاہم اس سے قبل ہی اتوار 11 اکتوبر کی صبح وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ کر دیا۔
پاکستان تحریک انصاف نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے خلاف منگل کو سینیٹ میں قرارداد جمع کروائی، جس میں ان اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے صوبے کے عوامی مینڈیٹ کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
تاہم وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ’حکومت خلوصِ نیت کے ساتھ خیبر پختونخوا کے عوام کی خدمت کرے گی اور انہیں دکھائے گی کہ ترقیاتی منصوبے کس طرح شروع کیے جاتے ہیں، انہیں کس طرح مکمل کیا جاتا ہے اور امن و امان کو کیسے بہتر بنایا جاتا ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف سے مذاکرات اور ان کی ناکامی کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ ’ان کو (پی ٹی آئی) حکم تھا کہ نو مئی کو دوبارہ کرنا ہے، اس سے بھی آگے بڑھنا ہے، تباہی مچانی ہے اور کوئی چیز منظور نہیں کرنی۔‘
ان کا کہنا ہے کہ اس سب کے بعد ’ڈھائی گھنٹے تک ہماری کابینہ کی میٹنگ جاری رہی جس میں یہ فیصلہ ہوا یہ گھڑی ہے پاکستان بچانے کی۔ اب ہم مزید انتظار نہ کریں، ورنہ ہر چیز جل جائے گی اور ہم ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔
’بعد ازاں مولانا فضل الرحمٰن سے مشاورت اور اتحادی جماعتوں کے ساتھ کابینہ اجلاس میں تفصیلی بحث کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ ملک کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔ اس لیے ایمرجنسی کا نفاذ کیا جائے۔ پاکستان سب سے پہلے ہے۔ پاکستان کے مفاد میں یہ فیصلہ کرنا پڑا۔‘
انہوں نے سوال کیا کہ ’جب دہشت گردی پھیل رہی ہو، روزانہ قربانیاں دی جا رہی ہوں اور ایک سیاسی جماعت اپنا وقت اور وسائل ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے پر صرف کر رہی ہو تو ترقی اور خوشحالی کا سفر کیسے آگے بڑھ سکتا ہے؟‘
وزیراعظم نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں ایک ایڈوائزری کونسل قائم کی گئی ہے جس میں ماہرین، پیشہ ور افراد، ڈاکٹرز، ماہرین تعلیم اور مالیاتی امور کے ماہرین شامل ہیں۔
