اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے بدھ کو صحافی بلال غوری کی درخواست ضمانت ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کر لی۔
بلال غوری کو پانچ ستمبر کو نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے نیشنل کوآرڈینیٹر کی تقرری سے متعلق مبینہ طور پر ’جھوٹی اور گمراہ کن‘ معلومات پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ ان کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
بعدازاں 12 ستمبر کو انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا تھا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان نے بدھ کو بلال غوری کی درخواست ضمانت پر سماعت کی، جس کے دوران صحافی کی جانب سے وکیل سپریم کورٹ عمران شفیق عدالت میں پیش ہوئے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وکیل صفائی نے موقف اختیار کیا کہ ’مقدمہ بدنیتی پر مبنی ہے اور اس کے بنیادی الزامات شواہد سے ثابت نہیں ہوتے۔‘
بعد ازاں عدالت نے فریقین کے دلائل کے بعد بلال غوری کی درخواست ضمانت منظور کر لی۔
وکیل عمران شفیق نے بلال غوری کے خلاف مقدمے کو ’آزادی صحافت پر حملہ‘ قرار دیا ہے۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا: ’اس مقدمے میں پراسکیوشن کوئی ایسا جملہ بتانے میں ناکام رہی، جس کے تحت دفعہ 20 یا 26 اے کا اطلاق ہوتا ہو، ان دونوں جرائم جن کا اطلاق کیا گیا وہ کیس کی تفصیلات یعنی وی لاگ ہے۔ ان جرائم کا کیس ہی نہیں بنتا، کیونکہ نہ انہوں نے کسی قومی شخصیت کی ہتک عزت کی ہے اور نہ ہی انہوں نے پبلک آرڈر کو نقصان پہنچایا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی ثبوت موجود ہے۔‘
بلال غوری کو کیوں گرفتار کیا گیا تھا؟
صحافی، کالم نگار اور یوٹیوبر بلال غوری کو پانچ ستمبر کو نیکٹا کے سربراہ فیصل نصیر کی تقرری سے متعلق مبینہ طور پر ’جھوٹی اور گمراہ کن‘ معلومات پھیلانے کے الزام میں مقدمہ درج کر کے گرفتار کیا گیا تھا۔
گذشتہ سماعت میں جب بلال غوری کو عدالت پیش کیا گیا تو عدالت نے ان سے استفسار کیا کہ ’کیا اس طرح کے الفاظ آپ کو مناسب لگتے ہیں؟‘
جس پر صحافی نے کہا کہ ’وہ فیصل نصیر کے خلاف نہیں نیکٹا کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔‘
میجر جنرل فیصل نصیر نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر ہونے کے بعد سال 2008 میں قائم کیے جانے والے ادارے کے پہلے فوجی سربراہ بن گئے ہیں۔ اس سے قبل وہ انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے انٹرنل ونگ جسے ’ڈی جی سی‘ کہا جاتا ہے، کے سربراہ تھے۔
این سی سی آئی اے کی جانب سے بلال غوری کے خلاف پیکا ترمیمی ایکٹ کی دفعات 20 اور 26 اے کے تحت چھ ستمبر کو ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق: بلال غوری نے پانچ ستمبر کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور یوٹیوب چینل پر نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر کی تعیناتی کے بارے میں ’غلط بیانیہ‘ بنا کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔‘
مزید کہا گیا کہ ’تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ ملزم نے حقائق کے برعکس اور بغیر تصدیق کے غلط معلومات کی تشہیر کی، جس سے عوام میں بے چینی پیدا کرنے اور ریاستی اداروں پر ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی گئی۔‘
