پیٹرول قیمتوں کا روزانہ تعین، ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کی دھمکی

کراچی گڈز کیریئرز ایسوسی ایشن نے اتوار کو خبردار کیا کہ اگر حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے روزانہ کی بنیاد پر تعین کے فیصلے کو واپس نہ لیا تو وہ ملک بھر میں ٹرانسپورٹ بند کر دیں گے۔

گڈز کیریئرز ایسوسی ایشن نے آج ایک پریس کانفرنس میں حکومتی فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس پیش رفت کے بعد وہ گاڑیاں کھڑی کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

ایسوسی ایشن کے عہدے داروں کا مزید کہنا تھا کہ ان کی ہڑتال کے نتیجے میں کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر بندرگاہوں سے سامان کی ترسیل بند ہو جائے گی، جس کے باعث کارخانوں کو خام مال اور عام شہریوں کو خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیا کی فراہمی متاثر ہوگی۔

وفاقی حکومت نے پاکستان میں توانائی کے شعبے کو ڈی ریگولیٹ کرنے کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ کی بنیاد پر تعین کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس نئے طریقہ کار کے تحت حکومت نے 17 جولائی کو عارضی طور پر تین روز کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا اعلان کیا تھا، جس کا اطلاق 18 جولائی کی رات سے ہو چکا ہے۔

وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس فیصلے کا دفاع کیا۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ مشرق وسطیٰ اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا، جس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت مارکیٹ کو اوپن کر رہی ہے اور اب اوگرا روزانہ کی بنیاد پر بین الاقوامی قیمتوں کے تناسب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرکے انہیں اپنی ویب سائٹ پر جاری کرے گا تاکہ قیمتوں کے تعین کے عمل میں استحکام اور شفافیت لائی جا سکے۔

ماہر معاشیات احمد چنائے نے حکومت کے اس اقدام کو معاشی منطق کے برعکس قرار دیتے ہوئے کہا ’پاکستان کے موجودہ حالات میں یہ نظام کاروباری شعبے اور عوام، دونوں کو شدید نقصان پہنچائے گا۔‘

احمد چنائے نے بین الاقوامی مارکیٹ کے اصولوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ’دنیا کے جن ممالک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کیا گیا ہے، وہاں قیمتیں عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کے مطابق گھنٹوں اور دنوں کی بنیاد پر ضرور تبدیل ہوتی ہیں لیکن اس کے لیے مؤثر مانیٹرنگ اور منصوبہ بندی کا نظام موجود ہوتا ہے۔

’پاکستان میں ایسے پیشگی میکانزم کے بغیر روزانہ قیمتیں تبدیل کرنے سے کاروباری لاگت کا تخمینہ لگانا ناممکن ہو جائے گا، جس سے پورا تجارتی نظام متاثر ہو سکتا ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا ’حکومت کا یہ فیصلہ کسی معاشی اصلاح کا حصہ نہیں بلکہ سرکاری خسارہ پورا کرنے اور پیٹرولیم لیوی کے ذریعے فوری ریونیو اکٹھا کرنے کی ایک کوشش ہے۔

’یہ طریقہ کار نہ کاروبار دوست ہے اور نہ عوام دوست۔ اس سے ملک میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آئے گا، صنعتی ترقی متاثر ہوگی اور پہلے سے مہنگائی کا بوجھ اٹھانے والے عوام کی قوتِ خرید مزید کمزور ہو جائے گی۔

’معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے حکومت کو اس فیصلے کے منفی اثرات کا فوری تدارک کرنا ہو گا۔‘

حکومت نے روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نظام پر منتقلی کی نگرانی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ 

وزارت پیٹرولیم نے ہفتے کو جاری بیان میں کہا کہ اس اقدام کا مقصد قیمتوں کے تعین کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنانا اور صارفین کے لیے منصفانہ نرخ مقرر کرنا ہے۔

علی پرویز ملک نے نجی اور سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے نمائندوں کے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی، جس میں انہیں قیمتوں کے نئے تعین کے طریقۂ کار پر بریفنگ دی گئی۔

وزارت پیٹرولیم کے مطابق ’منتقلی کے عمل کی نگرانی اور نفاذ کے دوران پیش آنے والے مسائل کو باہمی اتفاقِ رائے سے حل کرنے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔‘

وزارت نے مزید بتایا نئے طریقۂ کار کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کی خوردہ قیمتوں کا تعین ایک شفاف اور فارمولے پر مبنی نظام کے ذریعے کیا جائے گا، جو مارکیٹ کی موجودہ صورتحال کی عکاسی کرے گا۔

ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ ردوبدل کا نظام جن یورپی ممالک میں رائج ہے، وہاں ایک مضبوط مانیٹرنگ میکانزم موجود ہے۔

’وفاقی حکومت نے پاکستان کے زمینی حقائق کو نظرانداز کرتے ہوئے، کسی پیشگی طریقہ کار یا نفاذ کے واضح منصوبے کے بغیر ہی اس کا اچانک اعلان کر دیا۔

’بغیر تیاری کے اٹھایا گیا یہ قدم خود حکومت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے اور اس سے معاشی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوگا۔‘

پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے روزانہ کی بنیاد پر نیا فارمولا متعارف کرانے کو عوام دشمن فیصلہ قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔

حلیم عادل شیخ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل سے عوام، ٹرانسپورٹرز، صنعتکاروں اور تاجروں کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگی جبکہ ہر روز اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا ایک نیا جواز بھی مل جائے گا۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *