پنجاب گرین کریڈٹ پروگرام: ماحول دوست اقدامات پر انعام کیسے حاصل کریں؟

پنجاب حکومت نے ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے گرین کریڈٹ سکیم شروع کی ہے، جس کے تحت شہریوں کو الیکٹرک گاڑی، رکشہ یا موٹر سائکل خریدنے، پلاسٹک کی اشیا اٹھا کر فروخت کرنے یا درخت لگانے پر مالی انعام دیا جائے گا۔

اس مقصد کے لیے باقاعدہ آن لائن پورٹل بھی متعارف کروا دیا گیا ہے۔

دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان بھی موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار ہے۔ یہی وجہ ہے ملک میں ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ پنجاب حکومت نے گذشتہ سال کے مقابلے میں 2026 کے لیے محکمہ تحفظ ماحولیات کا بجٹ نو ارب روپے سے بڑھا کر 15 ارب روپے سے زائد سالانہ کردیا ہے۔

یہ رقم تحفظ ماحولیات کے 34 ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی جائے گی، جن میں سموگ کنٹرول، کلائمیٹ آبزرویٹری، ماحولیات کے لیبارٹری نظام کی بہتری اور انوائرمنٹ پروٹیکشن فورس کا قیام شامل ہے۔

گرین کریڈٹ پروگرام کیا ہے؟

محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب کے ترجمان ساجد بشیرنے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’گرین کریڈٹ پروگرام کا مقصد شہریوں میں ماحول دوست طرزِ زندگی کو فروغ دینا، فضائی آلودگی (سموگ) میں کمی لانا، درخت لگانے، پانی کے تحفظ، کچرے کے بہتر انتظام اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید بتایا کہ ’اس پروگرام کے تحت مختلف ماحول دوست اقدامات پر کریڈٹس دیے جاتے ہیں اور درخت لگانے اور ان کی نگہداشت، کچرے کی علیحدگی اور ری سائیکلنگ، پانی کی بچت کے اقدامات، آلودگی کم کرنے والی سرگرمیاں، حیاتیاتی تنوع اور ماحول کے تحفظ کے منصوبے، ماحولیات سے متعلق آگاہی مہمات میں حصہ لینے والے شہریوں کو مالی انعام دیا جائے گا۔‘

رجسٹریشن کیسے ہوتی ہے؟

ساجد بشیر کے بقول: ’کوئی بھی شہری گرین کریڈٹ کے نام سے آن لائن پورٹل پر اپنی ماحول دوست سرگرمی رجسٹر کرسکتا ہے۔ متعلقہ حکام درخواست کی جانچ کرتے ہیں۔ منظوری کے بعد گرین کریڈٹس جاری کیے جاتے ہیں، جنہیں پروگرام کے قواعد کے مطابق مالی یا دیگر مراعات میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔‘

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’اگر کوئی شہری الیکٹرک گاڑی، رکشہ یا موٹر سائیکل خریدے گا اور اس کی تفصیلات پورٹل میں درج کرے گا تو اسے 10 ہزار تا ایک لاکھ روپے تک کریڈٹ دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کوئی شہری سائیکل خریدے یا چلائے گا تو وہ اپنی رجسٹریشن پورٹل پر تفصیلات درج کرائے گا۔ تو اسے بھی 10 سے 20 ہزار روپے تک مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ اسی طرح اگر کوئی شہری پلاسٹک کی اشیا اکھٹی کر کے فروخت کرے گا اور اس کی رسید پورٹل پر دے گا اسے بھی انعام دیا جائے گا۔‘

ساجد نے بتایا کہ ’اس پروگرام کے تحت اب تک چار کروڑ 40 لاکھ روپے سے زائد کی مالی معاونت منظور ہوچکی ہے۔ 500 افراد کے انعام کی تصدیق کر لی گئی، جو جلد ہی فراہم کر دیے جائیں گے۔ اگلے مرحلے میں ہر ای وی شوروم، تعلیمی اداروں اور انڈسٹریز سے بھی معاہدے کیے جائیں گے۔‘

حکومت پنجاب نے اس پروگرام کو مزید وسعت دینے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے تحت اسے بین الاقوامی کاربن کریڈٹ اور ایمیشنز ٹریڈنگ سسٹم (ETS) سے بھی جوڑنے پر کام کیا جا رہا ہے تاکہ صوبہ ماحول دوست منصوبوں کے ذریعے عالمی گرین فنانسنگ سے فائدہ اٹھا سکے۔

ماہرین ماحولیات کا خیال ہے کہ اگرچہ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے حکومتی اقدمات بہتر ہیں، لیکن موحالیاتی تبدیلیوں کا چیلنج اس سے بھی بڑا ہے۔ ہمیں ایسے اقدامات کے ساتھ وسیع پیمانے پر جنگلات اور درخت لگانے پر زیادہ توجہ مرکوز کرنا ہوگی اور گاڑیوں اور فیکٹریوں سے نکلنے والے دھویں پر بھی مکمل کنٹرول حاصل کرنا پڑے گا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *