اسلام آباد کے پمز ہسپتال واقعے کے بعد پنجاب حکومت نے ایک بار پھر صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں فائر بریگیڈ اور حفاظتی انتظامات بہتر کرنے کا حکم دیا ہے لیکن لاہور سمیت دیگر شہروں میں بڑے سرکاری ہسپتالوں میں آگ پر قابو پانے والے آلات نصب تو ہیں مگر مکمل فعال دکھائی نہیں دے رہے۔
پمز ہسپتال میں شارٹ سرکٹ سے آتشزدگی کے باعث 14 بچے جان سے گئے۔ اس واقعے کے بعد پنجاب حکومت نے صوبے کے 57 بڑے سرکاری ہسپتالوں میں فوری طور پر واٹر ہائیڈرنٹس نصب کرنے کا حکم دیا ہے۔
پنجاب میں کل چار سو بڑے چھوٹے سرکاری ہسپتال موجود ہیں، جن میں سے 50 لاہور میں ہیں۔ اس سے قبل ساہیوال کے سرکاری ہسپتال میں آتشزدگی سے 2024 میں سات بچے جھلس گئے تھے۔ اس موقع پر بھی وزیراعلیٰ پنجاب نے ہسپتالوں میں آگ بجھانے اور وارڈز سے نکلنے کے ہنگامی راستوں کو فعال کرنے کا حکم دیا تھا۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ جائن یہاں کریں
ترجمان سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر پنجاب آغا اہتشام نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ پمز واقعے کے بعد تمام سرکاری ہسپتالوں میں آگ پر قابو پانے اور دیگر حفاظتی انتظامات سات دن میں مکمل کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے تمام اضلاع کے افسران کو مراسلہ بھیجوا دیا گیا ہے، جس کے تحت وہ ہسپتالوں میں انتظامات کا جائزہ لے کر فوری رپورٹ دیں گے۔ اس ضمن میں سات روز کے اندر اقدامات یقینی بنانا ہوں گے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر ڈاکٹر شعیب خان نیازی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ حکومت سرکاری ہسپتالوں، خاص طور پر نرسری اور آئی سی یو میں آتشزدگی پر فوری قابو پانے کے اقدامات میں غیر سنجیدہ ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ساہیوال میں 2024 میں نرسری وارڈ میں آتشزدگی سے سات بچے جان سے گئے اور وزیراعلیٰ مریم نواز نے دورہ کرتے ہوئے ذمہ داروں کو معطل کیا تھا۔ لیکن وہاں سے عملے نے 22 اگست کو ویڈیو بنا کر بھیجی ہے کہ جہاں 30 نومولود بچوں کی گنجائش ہے، وہاں 180 رکھے گئے ہیں۔
ڈاکٹر شعیب خان نیازی کے بقول: ’وہاں ابھی تک ایسے جدید اور ضرورت کے مطابق واٹر ہائیڈرنٹس بھی نصب نہیں ہوئے۔ ایسے ہی لاہور کے میو، گنگا رام، سروسز اور جناح جیسے بڑے ہسپتالوں میں فعال آلات ضرورت کے مطابق نہیں ہیں۔‘
ڈاکٹر شعیب نے مزید بتایا کہ ’ہسپتالوں میں آلات اگر ہیں بھی تو ان کی دیکھ بھال نہ ہونے کے برابر ہے۔ نرسری سے بچوں کے اغوا ہونے پر ایمرجنسی اخراج کے راستے بھی بند پڑے ہیں۔ حالانکہ اس قسم کے اقدامات کے لیے ہر ہسپتال میں علیحدہ سے عملہ موجود ہے۔ مگر فعال نظام نہ ہونے کی وجہ سے جب بھی کوئی حادثہ ہوتا ہے تو ریسکیو کو ہی کال کی جاتی ہے اور سارا آپریشن انہی کے ذمے ہوتا ہے۔‘
انڈپینڈنٹ اردو نے لاہور کے میو ہسپتال اور گنگا رام میں جا کر وہاں آگ بجھانے کے انتظامات کا جائزہ لیا۔
واٹر ہائیڈرنٹس اور گیس سلنڈر تو نصب تھے، لیکن ان کی دیکھ بھال یا فعال ہونے سے متعلق یقینی رائے نہیں دی جا سکتی۔
ہسپتالوں میں مریضوں کی آمدورفت اور رش دکھائی دیا، لیکن اتنی بڑی تعداد میں مریضوں اور ان کے لواحقین کی حادثات کی صورت میں امدادی کارروائیوں کے لیے حوصلہ افزا انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
یہاں ہسپتالوں میں حکومتی ترجیحات بھی زیادہ صحت کی سہولیات پر ہی مبذول ہیں، اس لیے اس قسم کے اقدامات کا مکمل منصوبہ تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔
